سیمی فائنل میں انگلینڈ کے ہاتھوں آسٹریلیا کی شکست سے ورلڈ کپ تاریخ میں ایک اور نئے باب کا اضافہ

برمنگھم: ہر میچ میں ایک نئی تاریخ مرتب کرنے والے رواں ورلڈ کپ جمعرات کے روز بھی ایک اور نئی تاریخ اس وقت رقم ہو گئی جب ورلڈ کپ پر قبضہ کے لیے حتمی جنگ کے آخری پڑاؤ پر پہنچنے والی آخری دو ٹیمیں وہ بنیں جو کبھی بھی اس با وقار ٹرافی کو اپنے اپنے کرکٹ بورڈ کے دفتر کی زینت نہ بنا سکیں۔1975سے دونوں ملکوں نے ہر بار ایک نئے کپتان کی قیادت میں ورلڈ کپ کو سر کرنے بھیجا لیکن” قسمت تو دیکھ ٹوٹی ہے جا کر کہاں کمند۔۔۔۔کچھ دوراپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا “ کے مصداق کئی بار دونوں ملک کی ٹیمیں آخری چار اور یہاں تک کہ آخری پڑاؤ تک پہنچیں لیکن کپ تک ہاتھ نہ پہنچ سکا۔ لیکن اس بار شاید اگر انگلستان جیتا تو وہ نہ صرف پہلی بار کپ کو بیرون ملک جانے سے روک دے گا بلکہ اسے انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے دفتر کی زینت بھی بنا دے گا۔

لیکن اگر ٹرافی نے نیوزی لینڈ کی سیر پر جانے کا فیصلہ کر لیا تو ولیمسن کو اس ٹرافی کو اپنے ہاتھوں پر اٹھانے کا ایسا اعزاز حاصل ہو جائے گا جو ان کے پیشروؤں کو نصیب نہ ہوسکا۔بہر کیف آمدم بر سر مطلب جمعرات کو یکطرفہ میچ میں انگلینڈ اپنے روایتی حریف آسٹریلیا کو 8وکٹ سے شکست دے کر فائنل میں پہنچ چکا ہے جہاں پہلے سے نیوزی لینڈ اس سے دو دو ہاتھ کرنے کے لیے اس کا انتظار کر رہا ہے۔آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے انگلینڈ کو 224کا ہدف دیا جسے انگلینڈ نے جیسن رائے کی 65گیندوں پر 85رنز کی طوفانی اننگز ،ساتھی افتتاحی بلے باز بیرسٹو کے ساتھ سنچری پارٹنر شپ((124اور تیسرے وکٹ کے لیے کپتان مورگن اور جو روٹ کے درمیان 79رنز کی پارٹنر شپ کی مدد سے 32اعشاریہ ایک اوور میں ہی محض دو وکٹ کے نقصان پرپورا کر لیا۔جیسن رائے نے اپنی اننگز میں 9چوکے اور 5چھکے لگائے جبکہ جونی بیرسٹو نے 43گیندوں پر پانچ چوکوں کے ساتھ34،جو روٹ نے 46گیندوں پر 8چوکوں کے ساتھ49اور مورگن نے 39بالوں پر 45رنز بنائے اور 8چوکے لگائے۔

جیسن رائے بد قسمتی سے 15رنز کے فرق سے سنچری سے چوک گئے کیونکہ انہیں امپائر دھرم سینا نے گیند پر وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ قرار دیا۔ری پلے میں وہ ناٹ آؤٹ تھے ۔ لیکن انگلینڈ کے پاس کوئی رویو نہیں بچا تھا اس لیے وہ ریویو نہ لے سکے اور جیسن رائے جھنجھلاتے ہوئے میدان سے نکلے۔اس سے قبل آسٹریلیا کی پوری ٹیم 49اووروں میں223رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔آسٹریلیا کا آغاز نہایت مایوس کن رہا اور ابھی اسکور پورڈ پر14رنز کا ہیہندسہ جھول رہا تھا کہ آسٹریلیا کے تین چوٹی کے بلے باز آؤٹ ہو گئے تھے۔لیکن اسٹیو اسمتھ نے وکٹ کیپر کیری کے ساتھ مل کر اننگز کو سنبھالا اور دونوں محتاط بلے بازی کرتے ہوئے ٹیم کو100کے پار لے گئے لیکن117کے مجموعے پر لیگ اسپنر عادل رشید نے متبادل کھلاڑی وینس کے ہاتھوںکیچ آؤٹ کرا کے پہلے تو اس جوڑی کو جدا کیا اور اس کے بعد اسی اوور میں اسٹوئنس کو بھی پویلین کی راہ دکھا کر آسٹریلیا کی کوئی بڑا اسکور بنانے کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔

35ویں اوور میں آرچر نے میکسویل کو 157مجموعے پر آؤٹ کر کے قابل دفاع اسکور تک پہنچنے کی امیدیں بھی ختم کر دیں۔اسمتھ نے 119گیندوں پر چھ چوکوں کے ساتھ85، کیری نے 70گیندون پر چار چوکوں کی مدد سے46،اسٹارک نے 36گیندوں پر ایک چوکے اور ایک چھکے کی مدد سے29اور میکسویل نے 23گیندوں پر دو چوکوں اور ایک چھکے کے ساتھ22رنز بنائے۔ انگلینڈ کی جانب سے ووکس اور عادل رشید نے تین تین وکٹ لیے جبکہ آرچر نے دو اور ووڈ نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ووکس کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔

Read all Latest sports news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from sports and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Jason roy caps bowlers onslaught as england blaze a trail to world cup final in Urdu | In Category: کھیل Sports Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.