کیاکوہلی اورشاستری جڈیجہ اور اشون کو سرد خانہ میں ڈلوا دیں گے

سید اجمل حسین
آسٹریلیا کے خلاف5ون ڈے میچوں کی رواں سریز میں اندور میں کھیلا گیا تیسر ا میچ جیت کر سریز اپنے نام کرنے کے بعد سریز کے باقی دومیچوں میں اپنی بنچ طاقت کے دیگر کھلاڑیوں خاص طور پر اکشر پٹیل کو موقع دے کر ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی اور چیف کوچ روی شاستری نے آل راؤنڈر رویندر جڈیجہ اور لیگ اسپنرامیت مشرا کو بین السطورجو یہ پیغام بھیجا تھا کہ اب ٹیم انڈیا کوکسی بھی میچ کے لیے ان دونوں کی اسپن بولنگ کا جادو جگانے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیںرہی چوتھے میچ میں بھلے ہی درست ثابت نہوا ہو لیکن آخری میچ میں وہ اس قدر درست ثابت ہوا کہ امیت مشرا ہی نہیں جڈیجہ اور اشون تک کو اب یہ یقین ہو چلا ہوگا کہ اب ٹیم میں ان کی جگہ محفوظ نہیں۔ کیونکہ اب ٹیم انڈیا کو سلو لیفٹ آرم چائنا مین کلدیپ یادو اور یجوندر چاہل کے ساتھ ساتھ اکشر پٹیل کی بھی خدمات حاصل ہو گئی ہیں۔ مڈل آرڈر بلے باز کیدار جادھو کی آمد سے آف بریک باؤلر پہلے ہی دستیاب ہو چکا ہے۔جس نے پانچویں اور آخری میچ میں اہم موقع پر کپتان اسمتھ کو آؤٹ کر کے آسٹریلیا کو ایک بڑا اسکور بنانے سے بہت پہلے ہی روک دیا تھا ۔مجموعی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس وقت ٹیم انڈیابلا شبہ فتوحات کے دوش پر اڑ رہی ہے ۔اور کیوں نہیں اڑے گی کیونکہ اس نے جو لگاتار کامیابیاں حاصل کر کے تینوں قسم کی کرکٹ کی عالمی درجہ بندی میں اول پوزیشن کی جانب بڑھنا شرع کر دیا ہے ۔لیکن یہ بات دیگرہے کہ اسے یہ کامیابیاں من پسند اور یا پھر گنجی پچوں کی دستیابی اور بیرون ملک سریز کے لیے بننے بگڑنے کی پوزیشن کے دور سے گذر رہی سری لنکا یا ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلنے کے باعث حاصل ہوئی ہیں۔ مگر اس کے باوجود اسپنروں کاکریڈٹ نہیں چھینا جا سکتا۔
کیونکہ آسٹریلیا کے خلاف حالیہ کامیابیوں میں اسپنروں کا عمل دخل کس قدر رہا ہے اس کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف پہلے تین میچوں میںہی کلدیپ،چاہل کی جوڑی 13وکٹ لے چکی تھی ۔ کلدیپ نے تو ہیٹ ٹرک بھی کی۔یہ کارنامہ انہوں نے کولکاتا کے ایڈن گارڈن میں انجام دیا تھا۔ در اصل اس وقت صورت حال یہ ہے کہ روی شاستری اور وراٹ کوہلی ورلڈ کپ2019سے پہلے پہلے ان کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم تیار کرنے میں لگے ہوئے ہیں جن میں اکثریت وراٹ کوہلی کی آئی پی ایل روئل چیلنجرز بنگلور کے اور روی شاستری کے شہر ممبئی اور ممبئی انڈئینز کے کھلاڑیوں کی ہو۔ علاوہ ازیں کوشش یہ بھی ہے کہ حکومت وقت کے سربراہ اور حکمراں پارٹی کی بھی خوشنودی حاصل رہے اسی لیے گجرات کے کھلاڑیوں کو بھی فوقیت دی جارہی ہے۔ جس میں ہاردیک پانڈیا اور جسپریت بومرا سر فہرست ہیں۔کہنے والے تو یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ رویندر جڈیجہ بھی تو گجرات کے ہیں پھر کیوں انہیں آرام کرانے کے بہانے ٹیم سے باہر رکھا جارہا ہے۔ تو جڈیجہ گجرات کے سوراشٹر علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں جہاں عوام میں بی جے پی مخالف جذبات ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ آسٹریلیا کے خلاف رواں سریز کے دو میچوں میں جڈیجہ کو ٹیم میں شامل تو کیا گیا لیکن انہیں اپنے سے کہیں جونئیر کھلاڑیوں کو میدان میں پانی پہنچانے تک کی ذمہ داری تک ہی محدود رکھا گیا۔
اگر مہندر سنگھ دھونی کے دور میں ٹیم انڈیاچنئی سوپر کنگز کے ستاروں سے جگمگا رہی تھی تو آج کوہلی اور شاستری کے دور میں ٹیم انڈیا رائل چیلنجرز بنگلور اوور ممبئی انڈئینز اور ممبئی کے کھلاڑیوں سے آراستہ ہے۔اس وقت دھونی کا طوطی بولتا تھا تو آج کوہلی کا ستارہ عروج پر ہے۔ لیکن جس طرح تسلسل کے ساتھ جیتتے ہوئے دھونی اپنے لڑکوں کو لے کر آسٹریلیا پہنچے تو وہاں سے ان کی قسمت کا تارہ ٹمٹمانے اور کوہلی کا قسمت کا ستارہ چمکنا شروع ہو گیا۔ اور چنئی سوپر کنگز کے کھلاڑیوں سے ٹیم انڈیا کو چھٹکارہ ملنے لگا۔ نتیجہ میں آج دھونی ٹیم میں تنہا ہیں ۔لیکن اپنی اچھی فارم کی بدولت ٹیم میں اس لیے برقرار ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے دور میں کسی دوسرے وکٹ کیپر کو پنپنے نہیں دیا۔ اگر موقع دیا بھی تو ردھیمان ساہا کو دیا ۔سنجو سیمسن ، لوکیش راہل اورریشب پنت اچھے وکٹ کیپر بلے باز ہونے کے باوجود ابھی تک کسی بھی قسم کی کرکٹ کی ٹیم میں جگہ بنانے کا موقع نہ حاصل کر سکے۔ البتہ لوکیش کو صرف ٹیسٹ میچوں میں صرف ایک بلے باز کے طور پر ہی کھلایا جاتا رہا۔ایسی ہی صورت حال سے جس سے دھونی آسٹریلیا میں دوچار ہوئے تھے کوہلی بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ انہیں نئے سیزن کے آغاز میںبیرون ملک سریز میں ویسٹ انڈیز یا سری لنکا سے نہیں بلکہ جنوبی افریقہ کےخلاف کھیلنا ہے۔
جو ان کے اور ان کے لڑکوںکے لیے کسی سخت واقعہ سے کم نہیں ہوگا۔اس وقت ٹیم کو اپنی آئی پی ایل ٹیم کے کھلاڑیوں سے سجانا سنوارنا کام نہیں آئے گا۔اس وقت ٹیم میں کوہلی کی ٹیم رائل چیلنجرز بنگلور کے کیدا رجادھو،یجویندر سنگھ چاہل،منیش پانڈے اور خود وراٹ کوہلی ٹیم کی زینت بنے ہیںتو روی شاستری کے شہر ممبئی کی ٹیم ممبئی انڈئینز کے کلدیپ یادو،روہت شرما، ہاردیک پانڈیا ، جسپریت بومرا اوراکشر پٹیل ٹیم میں کھیل رہے ہیں۔یہاں تک کہ شیکھر دھون کی عدم دستیابی کے باعث افتتاحی بلے باز کی جو جگہ خالی ہوئی تو افتتاحی بلے بازکے طور پر ہی کھیلنے والے لوکیش راہل کو اس لیے موقع نہیں دیا گیاکیونکہ وہ رائل چیلنجرز کو داغ مفارقت دے کر سن رائز حیدرآباد میں شامل ہو گئے ہیں۔ اس کے بجائے نمبر چار کے بلے باز اجنکیا رہانے کو افتتاحی بلے باز کے طور پر اس لیے کھلایا گیا کیونکہ وہ ممبئی کے رہائشی ہیں۔ آخری میچز میں محمد شامی اور امیش یادو کو موقع دے کر کولکتا نائٹ رائیڈرز کے کھلاڑیوں کو شامل تو کیا گیا لیکن ان کے ناکام ہوتے ہی کولکاتا نائٹ رائیڈرز کے کھلاڑیوںکا بھی قومی ٹیم سے پتہ کٹ جائے گا۔ٹیم میں مجموعی طور پر 90فیصد کھلاڑی کوہلی اور شاستری کرکٹ لمیٹڈ کے ہیں ۔لیکن کوئی کہنے سننے والا نہیں ہے۔ میڈیا اس لیے خاموش ہے کہ فی الحال ٹیم انڈیا فتح کی پٹری پر دوڑ رہی ہے۔ذرا جھٹکا لگنے دیجیے ابھی یہی میڈیا ہر کھلاڑی کا پوسٹمارٹم کرنے کے ساتھ ساتھ زور شور سے یہ انکشاف کرنا شروع کر دے گی کہ کس کھلاڑی کے کس سے تار جڑے ہیں ۔

Read all Latest sports news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from sports and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Jadeja and ashwin odi career in doubt in Urdu | In Category: کھیل Sports Urdu News

Leave a Reply