ہندوستان کی شکست سے سری لنکا سیمی فائنل کی دوڑسے باہر، پاکستان اگر مگر کی کیفیت سے دوچار

لیڈز : انگلستان نے جہاں ایک طرف ہندوستان کو 31رنز سے شکست دے کر اس کی پیش قدمی پر بریک لگایا وہیں برصغیر کی ٹیموں خاص طور پر سری لنکا اور پاکستان پر کاری ضرب لگائی۔ سری لنکا کو تو سیمی فائنل کی دوڑ سے ہی باہر کردیا جبکہ آخری چار میں پہنچنے کےپاکستان کے امکانات کو اگر مگر کی کیفیت سے دوچار کر دیا۔اور اس نے ہفتہ کو لیڈز میں افغانستان کو اعصاب شکن میچ میں ہرا کر جس طرح اپنے اعصاب مجتمع کیے تھے وہ اعصاب انگلستان کے ہاتھوں ہندوستان کی شکست سے ایک بار پھر منتشر ہو گئے۔

ہاں اگر ہندوستان نے یہ میچ جیت لیا ہوتا توہندوستان تو سیمی فائنل میں پہنچ ہی جاتا برصغیر کی باقی تین ٹیموں پاکستان، سری لنکا اور بنگلہ دیش کے بھی سیمی فائنل میں پہنچنے کے امکانات روشن رہتے ۔لیکن کسی نے بھی یہ تصور نہیںکیا ہوگا میزبان انگلستان کھیل کے ہر شعبہ میں نہ صرف ہندوستان کو مات دے کر اس کی فتوحات پر انکش لگا دے گا بلکہ برصغیر کی ٹیموں پاکستان ، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے ساتھ ساتھ نیوزی لینڈ کو بھی ہلا کر رکھ دے گا۔کیونکہ اس نتیجہ کے بعد نیوزی لینڈ کے لیے بھی اپنا آخری میچ جو اس نے انگلستان کے ہی خلاف کھیلنا ہے آر پار کا میچ بنا دیا۔

اس میچ کے ہارنے کے نیوزی لینڈ بھی سیمی فائنل کی دوڑسے باہر ہو سکتا ہے۔شاید پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع رہا ہوگا کہ اس نے کسی معاملہ میں ہندوستان کی جیت کی دعائیں مانگی ہوں گی۔یہی نہیں بلکہ سری لنکا اور بنگلہ دیش میں بھی رکرکٹ شوقین انگلستان کے خلاف ہندوستان کی جیت کے لیے دعا مانگتے رہے ہوں گے۔لیکن جانی بیرسٹونے ورلڈ کپ میں پہلی سنچری بناکر ہفتہ کے میچ میں افغانستان کے خلاف پاکستان کے آل راؤنڈر عماد وسیم کی عمدہ آل راؤنڈ کارکردگی اور فاسٹ بولرز شاہین شاہد آفریدی اور وہاب ریاض کی تباہ کن بولنگ سے پاکستان کو ملنے والے کامیابی کو فی الحال بے فیض کر دیا۔خیال رہے کہ ان تینوں کھلاڑیوں کی مدد سے پاکستان نے افغانستان کو شکست دے کر رواں ورلڈ کپ میں اپنی جیت کی ہیٹ ٹرک کرنے کے ساتھ ساتھ سیمی فائنل میں پہنچنے کے امکانات بھی روشن رکھے تھے۔

228رنز ہدف کے تعاقب میں پاکستانی اننگز کے دوران بے شمار نشیب و فراز آئے اور میچ کبھی افغانستان کے حق میں جھک رہا تھا تو کبھی پاکستان کا پلڑا بھاری نظر آنے لگتا تھا اور آخر کار عماد وسیم نے ایسی بازی پلٹی کہ پاکستان میچ جیت کر ہی میدان سے باہر نکلا۔ انہوں نے پہلے شاداب خان کے ساتھ7ویں وکٹ کے لیے 50اور پھر وہاب ریاض کے ساتھ مل کر 8ویں وکٹ کے لیے باقی20گیندوں پر درکار 22رنز 18گیندوں پر بنا کرپاکستان کی جیت کی مہر ثبت کر دی۔ عماد 54گیندوں پر پانچ چوکوں کی مدد سے49اور وہاب ریاض 9گیندوں پر ایک چوکے اور ایک چھکے کے ساتھ15رنز بنا کر غیر مفتوح رہے۔جبکہ بابر زماں نے 51گیندوں پر پانچ چوکوں کے ساتھ45، امام الحق نے 51گیندوں پر چار چوکوں کی مدد سے36اور حارث سہیل نے 57گیندوں پر 27رنز بنائے اور صرف دو چوکے لگائے۔

کپتان سرفراز احمد 22گیندوں پر ایک چوکے کے ساتھ 18رنز بنا کر رن آؤٹ ہو گئے۔افغانستان کی طرف سے مجیب الرحمٰن اور محمد نبی نے دو دو اور راشد خان نے ایک وکٹ لی۔اس سے قبل ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے افغانستان کے بلے باز پاکستان کے فاسٹ و اسپن کے ملے جلے اٹیک کے آگے ڈٹ کر اور کھل کر نہ کھیل سکے ۔ جس کے باعث ٹیم مقررہ50اووروں میں 9وکٹ پر 227رنز ہی بنا سکی ۔اصغر افغان نے 35گیندوں پر 3چوکے اور دو چھکے لگا کر 42 اور نجیب زدران نے بھی 54گیندیں کھیل کر 6چوکوں کی مدد سے42رنز ہی بنائے۔

اکرام علی خیل نے 66گیندوں پر ایک چوکا لگا کر24رنز بنائے۔ اگرچہسمیع اللہ شنواری اور نجیب اللہ زدران نے بقیہ اوورز بیٹنگ کرنے کی حکمت عملی اپنائی اور ساتویں وکٹ کے لیے 35رنز جوڑکر افغانستان کو قابل دفاع اسکور تک لے جانے کی کوشش کی لیکن افغانستان کے 200رنز مکمل ہوتے ہی نجیب اللہ اپنی وکٹ گنوا بیٹھے، انہوں نے 42رنز بنائے۔اس کے بعد پھر کوئی بلے باز نہیں ٹک سکا۔ پاکستان کی طرف سے شاہین آفریدی نے چار وکٹ لیے جبکہ عماد وسیم اور وہاب ریاض نے دو دو وکٹ لیے۔عماد وسیم کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔

Read all Latest sports news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from sports and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Indias defeat to england dims pakistans hopes in Urdu | In Category: کھیل Sports Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.