ٹیم انڈیا کو ناقابل تسخیر ہونے کے زعم سے باہر نکلنا ہوگا

(سیدا جمل حسین)
اگر ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے پہلے ہی میچ کو ٹیم انڈیا کے لیے بیداری کا الارم کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا ۔کیونکہ سپاٹ اور گنجی پچوں پر تسلسل سے ملی فتوحات سے ہر کس و ناکس اور خود ٹیم انڈیا کے ہر نو سکھیے اور بوڑھے و تجربہ کار کھلاڑیوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ بس میدان میں اترنے کی ضرورت ہے حریف ٹیم اس کے لیے جیت کی سوغات لیے کھڑ ی ہوگی۔
لیکن ٹیم انڈیا کے بلے بازوں کو بھی جب پچ کے موافق بولنگ اٹیک کا سامنا کرنا پڑا یا ٹرننگ وکٹ پر کھیلنا پڑاتو ان کا جو حشر ہوا وہ سب کے سامنے ہے کہ محض چند وکٹ کے نقصان پررنز کا انبار لگادینے میں زبردست مہارت رکھنے والے یہی بلے باز 20اوور بھی پورے نہ کھیل سکے اور نہ ہی تمام 11بلے باز مل کر اتنے رنز بھی بنا سکے جتنے نیوزی لینڈ کے محض چار بلے بازوں نے بنا دیے تھے۔اس میچ کے بعد کچھ مبصرین نے تو نیوزی لینڈ کی جیت کو میجر اپ سیٹ تک قرار دے دیا۔ گویا نیوزی لینڈ کوئی نووارد ٹیم ہو یا اس نے کبھی ٹیم انڈیا کو ہرایا ہی نہ ہو۔
یہ وہی نیوزی لینڈ کی ٹیم ہے جسے ٹیم انڈیا گذشتہ چار مقابلوں میں سے ایک میں بھی نہیں ہرا سکی تھی۔یہاں تک کہ سرزمین ہند پر بھی نیوزی لینڈ کی ٹیم ٹیم انڈیا کو چنئی کے میدان میں ہرا چکی ہے۔در اصل دیکھا جائے تو یہ میچ جس پچ پر کھیلا گیا اس پچ پر قائدانہ صلاحیتوں کی آزمائش تھی جس میں کیوی کپتان ولیمسن کھرے اترے۔ ٹیم میں ساو¿تھی اور باؤلٹ جیسے بہترین فاسٹ اور اوپننگ بولروں کی دستیابی کے باوجود ولیمسن نے پچ کے” خشک رویہ“ کو بھانپ کر ان تین اسپنروں کو ٹیم میں شامل کیا جن میں سے دو تو محض خانہ پری کے لیے ٹیم میں نظر آیا کرتے ہیں۔ اور ٹیم میں ہوتے ہوئے بھی ان کی حیثیت ایک سیاح کی ہوتی تھے۔ یہ دونوںابھی پالنے میں ہی تھے اور انٹرنیشنل کرکٹ میں قدم رکھے جمعہ جمعہ 8روز ہی ہوئے تھے۔
جبکہ تیسرا ایک بوڑھا اسپنر تھا جو اپنی ڈھلتی عمر کے باعث نہ صرف انٹرنیشنل کیریر ختم ہونے کے دہانے پر ہے بلکہ اس عمر میں ٹونٹی ٹونٹی جیسے میچوں کے لائق نہ سمجھے جانے والوں میں سے تھا ۔ اس کے باوجود ولیمسن نے جوا کھیلا اور ان کی یہی قائدانہ صلاحیت یا جوا کام آیا اور سیکڑوں میچوں کے تجربہ سے آراستہ ٹیم انڈیا حریف ٹیم کے کپتان کی قائدانہ صلاحیتوں اور اسپن مثلث کے جال میں ایسا پھنسی کہ الحفیظ و الاماں۔اس شکست کے بعد بھی اگر ٹیم منجمنٹ کی آنکھیں نہ کھلیں تو ورلڈ کپ کا سفر دشوار تر ہوتا جائے گا۔نیوزی لینڈ کے اسپنرز کے خلاف ٹیم انڈیا کے بلے بازوں کی اسپن رخی پچوں پر ایسے ہی قلعی کھل گئی جیسی باو¿نسی اور اسپورٹنگ پچوں پر فاسٹ بولنگ کے خلاف کھلتی ہے۔
یہ بات صحیح ہے کہ ہندوستان کی جیتنے کی کچھ عادت سی بن گئی ہے جبھی تو کپتان دھونی نے بلا تکلف و بلا جھجک یہ کہا تھا کہ ٹیم انڈیا کی جیت سے زیادہ ایہم خبر اس کی شکست کی ہوتی ہے۔ لیکن ایسی شکست کی نہیں ہوتی جس میں حریف ٹیم کھیل کے ہر شعبہ میں اور خاص طور سے اس شعبہ میں یعنی اسپن بولنگ میں جو ہمیشہ سے ہی ٹیم انڈیا کا ہتھیار رہا اور جیت کا راز رہا ہے ٹیم انڈیا کو پسپا کر دے گی اور قلیل اسکور کے مقابلہ کو بھی اس طرح یکطرفہ بنا دے گی کہ خود ٹیم انڈیا کے بلے باز ہی اپنا اسکور دیکھ کر شرما جائیں گے۔اگر عمدہ پرفارمنس دینے کے لیے یہ گھریلو دباو¿ تھا تو آگے راہ اور بھی کٹھن ہے کیونکہ اگلے میچ پاکستان، بنگلہ دیش اوآسٹریلیا کے خلاف کھیلے جانا ہیں۔
کیونکہ کسی نہ کسی شکل میں ہر ٹیم کے خلاف میچ کے دوران ٹیم انڈیا کے ہر کھلاڑی پر زبردست دباو¿ رہے گا اور یہی انفرادی دباو¿ مجموعی دباو¿ بن کر ٹیم کو نہ داب لے۔کیونکہ پاکستان پہلا ہی میچ جیت کر بہت پراعتماد نظر آرہا ہے۔بنگلہ دیش پہلے ہی میچ میں شکست کے باعث ٹیم انڈیا کی ہی طرح اپنا دوسرا میچ ہر حال میں جیتنے کی کوشش کرے گا۔اور مقابلہ کانٹے کا ہو سکتا ہے۔ جبکہ آسٹریلیا کی بھی بیٹنگ صف آسانی سے گھٹنے ٹیکنے والی نہیں ہے۔ایسے میں ٹیم انڈیاکے کسی ایک کھلاڑی کو نہیں بلکہ ہر کھلاڑی کو اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانے اور ٹرننگ پچ پر بھی کھیلنے میں مہارت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔

Read all Latest sports news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from sports and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: India will have to be at their best to win remaining matches in Urdu | In Category: کھیل Sports Urdu News

Leave a Reply