دورہ ہند نیوزی لینڈ کے لیے کسی زبردست چیلنج سے کم نہیں ہوگا

سید اجمل حسین
کرکٹ کی دنیا میںنصف صدی سے زائد کا عرصہ گذر چکا ہے کہ دس بار نیوزی لینڈ نے ہندوستان کو سر کرنے کی کوشش کی لیکن ہر بار اسے منھ کی کھانا پڑی اور اس کا کرکٹ دستہ بے نیل ومرام اس طرح واپس جانے پر مجبور ہوا کہ صرف دو بار برابر کی ٹکر دے کر اپنی لاج بچا سکا ورنہ 8بار اس کی کرکٹ ٹیم ٹیسٹ سریز ہار کر ہی واپس گئی ہے۔آخری بار وہ 2012 میں دو ٹیسٹ میچوں کی سریز 2-0سے ہار کر گئی تھی اور اس کے دو سال بعد ہی اپنی سرزمین پر دو ٹیسٹ میچوں کی سریز 1-0سے جیتنے کے بعد اب ہندوستان کو اس کی سرزمین پر بھی شکست دینے کی امیدوں کے چراغ جلائے ایک بار پھر تین ٹیسٹ میچوں کی سریز کھیلنے ہندوستان کے دارالخلافہ نئی دہلی پہنچ چکی ہے جہاں اس نے فیروز شاہ کوٹلہ میدان پررنجی چمپین ممبئی کے خلاف سہ روزہ میچ سے جو ڈرا ہو گیا، اپنی مہم کا آغاز کیا۔ اس وقت مجموعی اعتبار سے دیکھا جائے تو حال ہی میں ہندوستان اور نیوزی لینڈ نے جن ٹیموں کے خلاف سریز جیتی ہے وہ دونوں کے مقابلہ بہت کمزور ٹیمیں تھیں۔
نیوزی لینڈ نے اگر زمبابوے کو گذشتہ ماہ ہی 2ٹیسٹ میچوں کی سریز 2-0سے ہرائی ہے تو ہندوستان نے ویسٹ انڈیز کو چار ٹیسٹ میچوں کی سریز میں2-0سے ہرایا۔دونوں نے ہی یہ کارنامہ بیرون ملک کھیلی گئی سریز میں انجام دیا۔ علاوہ ازیں نیوزی لینڈ کے بعدجنوبی افریقہ کے خلاف سریز کھیل کر اپنے سے نسبتاً مضبوط ٹیم کے خلاف کھیل کر خود کو ہندوستان کے خلاف تیار کرنے کا فائدہ ملا تو دوسری جانب ہندوستان کو اپنی پچوں کا فائدہ ملے گا۔ یہ بات بہرحال طے ہے کہ ہندوستان کا دورہ اس بار بھی نیوزی لینڈ کے لیے کسی زبردست چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔یوں تو ہندوستان نے اپنی پچوں پر ہر چھوٹی بڑی ٹیم کا جو حشر کیا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے لیکن گذشتہ سال جب جنوبی افریقہ کی ٹیم ہندوستان کے دورے پر آئی تھی تو اس وقت ہندوستانی اسپنروں روی چندر اشون ، رویندر جڈیجہ اور امیت مشرا نے اس کے بلے بازوں کی جو گت بنائی تھی وہ ساری دنیا نے دیکھی تھی۔حالانکہ جنوبی افریقہ عمران طاہر جیسا ایسا لیگ اسپنر لائی تھی جو ہر قسم کے حالات میں منجھے ہوئے بلے بازوں کی بھی خبر لینے میں ماہر تھا ۔اور سریز میں کئی بار انہوں نے جنوبی افریقہ کو میچ اور سریز میں واپس لانے کی کوشش کی لیکن جنوبی افریقی بلے باز وں کی اسپن بولنگ کے خلاف کمزوری عمران طاہر اور ان کی اسپن معاونت کرنے والے ہارمر اور ڈومینی کی محنت اکارت کرتی رہی۔
اگرچہ نیوزی لینڈ کے لیے راہ آسان نہیں ہو گی۔کیونکہ جہاں ایک طرف نیوزی لینڈ کے تھنک ٹینک کو زبردست سوچ بچار کر کے حکمت عملی وضع کرنا ہوگی وہیں دوسری جانب موسم کیوی کھلاڑیوں کے لیے بڑا تکلیف دہ ہوگا ۔ بارشیں بند ہو چکی ہوں گی اور دھوپ ایسی شدت کی ہوگی کہ ہرن تک سیاہ پڑجائیں۔ہاں دورے کا پہلا تہائی حصہ تمام ہونے تک ہوا میں خنکی شروع ہو جائے گی اور نیوزی لینڈ کے کھلاڑی یقیناً راحت محسوس کریں گے۔لیکن اس وقت تک ٹیسٹ سریز تمام ہو چکی ہوگی اور ٹیم انڈیا نیوزی لینڈ کا کام تمام کر کے ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن حاصل کر چکی ہوگی۔ مگر اس بات کی کوئی ضمانت بھی نہیں ہے کہ ہندوستان موجودہ کیوی ٹیم کو اتنی آسانی سے مار لے گا۔ کیونکہ گذشتہ دورے پر جو ٹیم ہندوستان کے دورے پر آئی تھی اور 0-2سے پسپا ہو کر گئی تھی وہ ڈینیل ویٹوری کی قیادت میں آنے والی وہ ٹیم تھی جو اتنی کمزور اور بکھری ہوئی تھی کہ بنگلہ دیش جیسی ٹیم بھی اسے زبردست ٹکر دے رہی تھی۔لیکن اس کے بعد برینڈن میک کولم نے صرف تین سال کے اندر اسی کیوی ٹیم کی کایا پلٹ دی ۔اور ورلڈ کپ کے فائنل تک پہنچا دیا۔
اور گھریلو کارکردگی تو پہلے ہی بہتر تھی بیرون ملک بھی جیتنے کا سلیقہ سکھا دیا۔جس سے نیوزی لینڈ کا دیار غیر میں بھی ریکارڈ سدھرنا شروع ہو گیا۔یہ صحیح ہے کہ اس وقت میک کولم ٹیم میں نہیں ہیں لیکن وہ اپنے جانشین ولیمسن کو ایسی ٹیم دے گئے ہیں جو کسی بھی قسم کے حالات سے نہ صرف نمٹنا جانتی ہے بلکہ مقابلہ پر کوئی بھی ٹیم ہو آسانی سے ہار نہیں مانتی۔2014کا دورہ نیوزی لینڈ ہندوستانی کھلاڑیوں نے بھولا نہیں ہو گا کیونکہ اس وقت ٹیم میں کم و بیش یہی کھلاڑی تھے جو آج ٹیم انڈیا کا لازمی جزو ہیں۔اس وقت میک کولم کپتان تھے اور ان کی قیادت میں نیوزی لینڈ نے ہندوستان کو کھیل کے ہر شعبہ میں پسپا کیا اور ولیمسن نے اسی سریز میں اپنا جلوہ دکھایا۔اور آج کپتان ہیں ۔ اسی طرح اس وقت سریز ہارنے کے باوجود وراٹ کوہلی نے اپنی بیٹنگ کا جادو جگایا اور آج وہ بھی ٹیم کی باقاعدہ قیادت کر رہے ہیں۔اور دونوں ہی نئے کپتان ہیں۔ دونوں ہی ہی بیرون ملک کم ازکم ایک سریز ضرور جیت چکے ہیں۔
دونوں نے اندرون ملک اور بیرون ملک اپنے دور قیادت کا آغاز سریز جیتنے سے ہی کیا۔اس لیے دونوں کے ہی لیے یہ دورہ زبردست اہمیت کا حامل ہے۔اس سریز میں وراٹ کوہلی کا امتحان کم ہے ۔ اصل آزامائش تو ولیمسن کی ہے کہ وہ ٹرننگ پچوں پر اپنے بولروں کا کیسا استعمال کرتے ہیں اوران کے بلے باز ہندوستانی اسپنروں سے کس طرح نمٹتے ہیں۔اور سب سے بڑھ کر خود وہ اپنا اونچا مقام قائم رکھ پائیں گے یا دیگر گورے بلے بازوں کی طرح وہ بھی ہندوستانی اسپن جال میں پھڑپھڑاتے نظر آئیں گے۔اگرچہ ایسا امکان بہت کم ہے کیونکہ ولیمسن میں وہ تمام خوبیاں ہیں جو ایک کھلاڑی کو اس کے میدان میں عظیم کھلاڑی بناتی ہیں۔یہ بات دیگر ہے کہ زمبابوے اور جنوبی افریقہ کے تھکا دینے والے دورے سے وطن واپسی کے چند روز بعد ہی تکان پوری طرح اتارے بغیر ہی ولیمسن اپنے لڑکوں کو لے کر ہندوستان کی مہم پر نکل کھڑے ہوئے ہیں اور بر اعظم ایشیا کے دورے سے عین قبل بر اعظم افریقہ کا دورہ کہیں ولیمسن کا مائنس پوائنٹ ثابت نہ ہو۔

Read all Latest sports news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from sports and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: India vs new zealand new season new challenges in Urdu | In Category: کھیل Sports Urdu News

Leave a Reply