پہلے ٹیسٹ میچ میں اسپن رخی پچ ٹیم انڈیا کے لیے الٹی آنتیں گلے پڑجانا ثابت ہوئی

سہیل ظہیر
پنے: عام طور پر پنے میں مہاراشٹر کرکٹ ایسوسی ایشن میدان کی پچ سپاٹ ہوتی ہے یا پھر فاسٹ باؤلرز کو مدد دیتی رہی ہے۔لیکن اس بار اس نے کچھ ایسا رخ اختیا ر کیا یا ہندوستانی فتوحات کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے وہ راتوں رات اسپنروں کو مدد دینے والی ایسی پچ بن گئی کہ چار ٹیسٹ میچوں کا پہلا ہی میچ ٹیم انڈیا کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن گیا۔ کسے معلوم تھا کہ پچ کا یہی بدلا رخ جسے ہندوستان کے حق میں سمجھا جا رہا تھا آسٹریلیا کے لیے نعمت غیر مترقبہ بن جائے گا۔ اور ہندوستانی بلے باز بھی اپنی ناقص کارکردگی سے پانچ روز تک کھیلنے کے بجائے صرف تین روز میں آسٹریلیا کو جیت پلیٹ میں سجاکر دے دیں گے۔یہی وجہ ہے کہ لیفٹ آرم اسپنر اسٹیو اوکیف نے محض 28اووروں 333رنز سے کراری شکست دے کر ہندوستان کا19ٹیسٹ میچوں میں غیر مفتوح رہنے کا سلسلہ توڑ دیا۔ انہیں ان کی اس شاندار اور میچ وننگ باؤلنگ کی بدولت مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔ ٹیم انڈیا کی مدد کے لیے تیار کی گئی اسپن پچ پر ہی ہندستانی بلے باز اس طرح ڈھیر ہوگئے کہ میچ تیسرے روز کے کھیل کا وقت ختم ہونے سے پہلے ہی تمام ہو گیا۔ اوکیف اور ان کی معاونت کر رہے آف اسپنر لیون کے سامنے اس قدر بے بس نظر آرہے تھے کہ 441کے ٹارگٹ کے تعاقب میں پوری ٹیم محض107رنز پر ڈھیر ہو گئی۔اور پہلی بار گھر کے شیر اس طرح گھر میں ہی ڈھیر ہوگئے کہ دونوں اننگز کا مجموعی اسکوربھی آسٹریلیا کی ایک اننگز کے اسکور سے آگے نہیں بڑھ سکا۔اوکیف نے پہلی اننگز میں چھ وکٹ لینے کے بعد دوسری اننگز میں بھی چھ وکٹ لیے اور آسٹریلیا کو4 میچوں کی سیریز میں ایک۔صفر سے سبقت حاصل ہو گئی۔ اوکیف کی یہ کارکردگی ہندوستانی سر زمین پر کسی غیر ملکی گیندباز کی دوسری بہترین کارکردگی ہے۔ انگلینڈ کے ایان باتھم نے 1980 میں ممبئی میں 106 رنز پر 13 وکٹ لئے تھے۔
32 سالہ اوکیف نے اس سے پہلے چار ٹسٹ میچوں میں کل 14 وکٹ حاصل کئے تھے۔ ان کی ایک اننگز میں بہترین کارکردگی 53 رن پر تین وکٹ اور میچ میں بہترین کارکردگی 103 رن پر چار وکٹ تھی لیکن ہندوستان کے خلاف انہوں نے ایک میچ میں ہی 12 وکٹ لے لئے۔ ہندوستان کے پاس روی چندرن اشون اور رویندر جڈیجہ کے طور پر موجودہ ٹیسٹ رینکنگ میں نمبر ایک اور نمبر دوگیندباز تھے لیکن میچ کے اصل ہیرو کیف رہے۔اوکیف لیون جوڑی نے دوسری اننگز میں بھی ہندوستان کے 6 بلے بازوں، مرلی وجے ، اشون ، ردھمان ساہا، رویندر جڈیجہ ، جینت یادو اور ایشانت شرما کو دو عددی ہندسہ میں پہنچنے سے پہلے ہی پویلین پہنچا دیامیں امیش یادو اگرچہ ناٹ آؤٹ رہے لیکن وہ بھی دہائی کا ہندسہ نہیں چھو سکے۔میچ کے بعد لیون کے اس بیان نے دکھایا کہ آسٹریلیائی ٹیم نے ہندوستان کے دورے کے لیے کس قدر تیاری کی تھی۔ لیون نے میچ ختم ہونے کے بعد کہا کہ ہم نے جو منصوبہ بنایا تھا اس پر ہم نے پوری طرح عمل کیا۔ ہم نے اشون کی گیند بازی کو کافی دیکھا تھا اور وہی دوبارہ کرنے کی کوشش کی جو اشون ان حالات میں کرتے ہیں۔ اگر میرا بس چلے تو میں اس پچ کو ہر جگہ لے جانا چاہوں گا۔
آسٹریلیا کے کوچ ڈیرن لہمن نے بھی کہا “زبردست جیت۔ میں اپنی ٹیم کی بلے بازی سے بہت متاثر ہوں۔ پچ دونوں ٹیموں کے لیے زبردست چیلنج تھی۔ لیکن ٹیم نے موقعوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جیت حاصل کی۔ آسٹریلیا کی رنز کے اعتبار سے ہندوستان کے خلاف یہ تیسری سب سے بڑی جیت ہے۔ اس نے 2004 میں ہندوستان کو ناگپور میں 342 رنز سے اور 2007 میں میلبورن میں 337 رنز سے شکست دی تھی۔ اس سے قبل آسٹریلیا نے ہفتہ کی صبح چار وکٹ پر 143 رنز سے آگے کھیلتے ہوئے دوسری اننگز میں 285 رنز بنائے اور ہندوستان کو جیت کے لئے 441 رنز کا ہدف دیا۔ہندوستان نے دوسری اننگز کا بھی بڑا مایوس کن آغاز کیا اورنچویں اوور میںہی افتتاحی بلے بازمرلی وجے کی وکٹ سے محروم ہوجانے کے بعد ٹیم انڈیا پٹری پر واپس نہیں آسکی اور ہندوستانی بلے بازوں کا وکٹ گرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ہندوستان کی ناقص کارکردگی دوسری اننگز میں بھی جاری رہی اور ٹیم نے پہلی اننگز میں تین وکٹ 44 رن تک گنوائے تھے اور پھر آخری سات وکٹ 11 رن جوڑ کر گنوا دیے تھے۔ دوسری اننگز میں ہندوستان کے پہلے تین وکٹ 47 رن تک گرے اور باقی سات وکٹ 30 رن کے اضافہ سے ہی گر گئے۔ ہندوستانی بلے بازوں نے پہلی اننگز کی غلطیوں سے کوئی سبق نہیں لیا اور دوسری اننگز میں بھی وہی غلطیاں دہرائی۔ اوکیف مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔ کوچ ا نل کمبلے نے دوسرے دن کے کھیل میں ہندوستانی اننگز کا 105 رن پر سمٹنے کے بعد کہا تھا کہ یہ ایک خراب دن تھا اور تسلسل سے اچھا کھیل رہی کسی بھی ٹیم کے ساتھ ایسا ہوسکتا تھا۔لیکن شاید کمبلے یہ نہیں جانتے تھے کہ ہندوستانی بلے باز مسلسل دوسرا دن بھی خود اپنے لئے خراب کر لیں گے۔ دوسری اننگز میں امید تھی کہ ہندوستانی بلے باز کچھ جدوجہد کریں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔
پجارا نے ٹیم کی نہیں بلکہ اپنی اننگز 58 کو سنوارنے کی کوشش میں گیندوں میں دو چوکوں کی مدد سے 31 رنز بنائے۔ مگر تابکے۔ وہ بھی ا چائے کے وقفہ کے بعد آؤٹ ہو گئے۔اس کے بعد تو جھڑی سی لگ گئی اور ایسا لگ رہا تھا کہ ہندوستانی بلے باز بیٹنگ کرنے نہیں بلکہ ووٹ ڈالنے آرہے ہیں ۔ اوکیف اور لیون کی تباہ کن بولنگ کا یہ عالم تھا کہ ہندوستان کی دوسری اننگز جو لنچ کے بعد شروع ہوئی تھی صرف دو گھنٹے میں ہی ختم ہو گئی۔اس سے پہلے اسٹیون اسمتھ نے ہندوستان کے خلاف اپنی پانچویں سنچری بنائی۔ اسمتھ نے 202 گیندوں کی اننگز میں 11 چو کوں کی مدد سے109رنز بنائے۔ 27 سالہ اسمتھ کی یہ 18 ویں ٹیسٹ سنچری ہے۔ آسٹریلیائی ٹیم نے جمعہ کی ناتمام دوسری اننگز کو چار وکٹ پر 143 رن سے آگے بڑھایا۔ اسمتھ نے 59 اور مشل مارش نے 21 رنز سے آگے کھیلنا شروع کیا۔ دونوں بلے بازوں نے پانچویں وکٹ کے لئے 56 رن کی ساجھےداری کی۔ ہندوستان کو صبح 26 رن کے بعد اپنی پہلی کامیابی مل گئی جب جڈیجہ نے مشیل کو وکٹ کیپر ساہا کے ہاتھوں کیچ کرایا۔ آسٹریلیا کا پانچواں وکٹ 169 کے اسکور پر گرا۔ مشیل نے 76 گیندوں کی اننگز میں چار چوکے اور ایک چھکا لگا کر 31 رنز بنائے۔ میتھیو ویڈ نے 42 گیندوں میں دو چوکے لگا کر 20 رنز بنائے اور چھٹے وکٹ کے لئے ایک سرے پر ٹک کر اسمتھ کے ساتھ 35 رن جوڑے۔ ویڈ کو امیش نے ساہا کے ہاتھوں ہی کیچ کرایا اور آسٹریلیا کو چھٹا جھٹکا دیا۔ہندوستان کو صبح 26 رن کے بعد اپنی پہلی کامیابی مل گئی جب جڈیجہ نے مشیل کو وکٹ کیپر ساہا کے ہاتھوں کیچ کرایا۔ آسٹریلیا کا پانچواں وکٹ 169 کے اسکور پر گرا۔
مشیل نے 76 گیندوں کی اننگز میں چار چوکے اور ایک چھکا لگا کر 31 رنز بنائے۔ میتھیو ویڈ نے 42 گیندوں میں دو چوکے لگا کر 20 رنز بنائے اور چھٹے وکٹ کے لئے ایک سرے پر ٹک کر اسمتھ کے ساتھ 35 رن جوڑے۔ ویڈ کو امیش نے ساہا کے ہاتھوں ہی کیچ کرایا اور آسٹریلیا کو چھٹا جھٹکا دیا۔ مشیل اسٹارک نے 31 گیندوں میں دو چوکے اور تین لمبے چھکے لگا کر 30 رنز بنائے۔اسٹارک نے پہلی اننگز میں بہترین 61 رنز بنائے تھے۔اسٹارک اور اسمتھ نے ساتویں وکٹ کے لیے 42 رنز کی منفعت بخش شراکت کی اور اسکور کو 246 تک لے گئے۔جڈیجہ نے اسمتھ کو پھر ساتویں بلے باز کے طور پر آؤٹ کرکے دن کا سب سے اہم وکٹ حاصل کیا۔ جڈیجہ کی ایک فلیٹ گیند پرا سمتھ ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ اس فیصلے پر ریویو بھی ہوا لیکن سمتھ کو آؤٹ دیا گیا اور ان کی سنچری اننگز ختم ہو گئی۔ تقریباً تین اوور بعد ہی اسٹارک کو اشون نے لوکیش راہل کے ہاتھوں کیچ کرایا۔ اس کے بعد لیون (13) کو امیش نے ایل بی ڈبلیو کیا اور آسٹریلیا کا نو وکٹ حاصل کیا۔کیفے نے 42 گیندوں میں ایک چوکا لگا کر چھ رنز بنائے۔ ان کا وکٹ جڈیجہ نے لیا اور انہیں ساہا کے ہاتھوں کیچ کراکر آسٹریلیائی اننگز کو 285 رنز پر روک دیا ۔ آسٹریلیا کی دوسری اننگز میں اشون نے 119 رن دے کر چار وکٹ، جڈیجہ نے 65 رنز دے کر تین وکٹ، امیش نے 39 رنز دے کر دو وکٹ اور جینت نے 43 رن دے کر ایک وکٹ لیا۔

Title: how the pune pitch backfired for india | In Category: کھیل  ( sports )

Leave a Reply