وراٹ کوہلی پر ہی کب تک تکیہ کیا جاتا رہے گا

سید اجمل حسین
جس طرح اب سے کئی برس پہلے جب ٹیم انڈیا صرف سچن ٹنڈولکر کے بل پر کھیلتی تھی اور ان کے آو¿ٹ ہوتے ہی پوری ٹیم بھی ڈھیرہوجاتی تھی ٹھیک اسی طرح آج ٹیم انڈیا کی وہی حالت ہے۔ ٹیم انڈیا کے ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میچوں کے نائب کپتان وراٹ کوہلی بھی کسی دور کے سچن ٹنڈولکر بنے ہوئے ہیں۔ کیونکہ ٹیم انڈیا کی زیادہ تر فتوحات یا بڑا اسکور وراٹ کوہلی کا ہی مرہون منت رہا ہے۔ یہ بات دیگر ہے کہ ان کا ہر بڑا اسکور ٹیم کی جیت کا باعث نہیںبن سکا۔ یہی صورت حال اس وقت آئی پی ایل میں ہے۔ وراٹ کوہلی کی ٹیم رائل چیلنجرز بنگلور نے7میچ کھیلے ان میں4میچوں میں کوہلی نے ہاف سنچری اور ایک میچ میں سنچری بنائی ۔لیکن اس کے باوجود ان کی ٹیم صرف دو میچ ہی جیت سکی۔ یہاں تک کہ پیر کو رائل چیلنجرز نے جو آخری میچ کھیلا اس میں بھی کوہلی نے کے کے آر کے خلاف شاندارہاف سنچری بنائی لیکن اس کے باوجود ان کی ٹیم 5وکٹ سے ہار گئی۔ ان کی اس اننگز پر یوسف پٹھان کی ہاف سنچری بھاری پڑ گئی۔
یہاں تک کہ ان کی سنچری بھی کسی میچ میں کارآمد ثابت نہیں ہو رہی۔24اپریل کو انہوں نے گجرات لائنز کے خلاف صرف63گیندوں پر 11چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے سنچری تک بنا ڈالی پھر بھی ان کی ٹیم وہ میچ نہ جیت سکی۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف آئی پی ایل میں ہی یہ سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ ورلڈ کپ ٹی ٹونٹی کے فائنل میں ویسٹ انڈیز کے خلاف بھی ایسی ہی صورت حال دیکھنے کو ملی۔انہوں نے سب سے صرف47گیندوں پر 11چوکوں اور ایک چھکے کے ساتھ 89رنز کی اننگز کھیل کر ٹیم کو192 جیسا بہترین اسکور بنانے میں نمایاں رول ادا کیا۔ لیکن ویسٹ انڈیز کو ٹرافی پر قبضہ کرنے سے ٹیم انڈیا پھر بھی نہ روک سکی۔وراٹ کوہلی اگر کم اسکور پر آو¿ٹ ہوجائیں تو ٹیم انڈیا کے دیگر بلے باز بھی ہاتھ پیر چھوڑ دیتے ہیں۔ اسی ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف میچ اس کی تازہ مثال ہے۔ محض127رنز کے ہدف کے تعاقب میں کوہلی صرف 23رنز بنا کر کیا آو¿ٹ ہوئے تمام بلے بازوں کے ہاتھ پاو¿ں پھول گئے اور پوری ٹیم آیا رام گیا رام کی صورت حال سے دوچار ہو کر محض79رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ہاں موہالی میں اس ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں جس دباو¿ میں وراٹ کوہلی نے 82رنز کی میچ وننگ اننگز کھیلی اسے شاید ہی کبھی فراموش کیا جاسکے کیونکہ 162کے ہدف کے تعاقب میں صرف94رنز پر ٹیم انڈیا کے ٹاپ آرڈر کے 4بلے باز آو¿ٹ ہوگئے تھے اور صرف 6اوور کا کھیل باقی تھا اور ٹیم ہدف سے ابھی68رنز دور تھی۔ کوہلی 35رنز پر کھیل رہے تھے۔ اور واٹسن ، فاکنر اور زمپا پر مشتمل فاسٹ و اسپن بولنگ کے ملے جلے اٹیک نے ٹیم انڈیا کے بلے بازوں کا ناک میں دم کر رکھا تھا۔لیکن کوہلی نے دباو¿ جھیلتے ہوئے آخری 6اووروں کو پاور پلے کے اووروں میں بدل دیا اور آخری تین اووروں میں جب 40رنز کی ضرورت تھی تو وراٹ نے وہ ہاتھ دکھائے کہ گیند کو میدان کے گوشہ گوشہ کی سیر کراکے اشارے دے دیے کہ اب ٹیم انڈیا کی جیت طے ہے۔
اور اسے سیمی فائنل میں پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔اور یہ کوہلی کی سحر انگیز بلے بازی ہی تھی جس نے آسٹریلیائی بولروں اور فیلڈروں کا ایسا مسحور کیا کہ بولرز لائن اور لینتھ اور فیلڈر گیند پر نظریں جمانا بھول گئے۔لیکن اس میچ میں دیگر کوئی بلے باز ان کا ساتھ نہ دے سکا۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وراٹ کوہلی اس وقت بلے بازوں کی سلطنت کے بے تاج بادشاہ بنے ہوئے ہیں۔ کرس گیل، اے بی ڈی ولئیر، اسٹیو اسمتھ ،ہاشم آملہ حتیٰ کہ مہندر سنگھ دھونی بھی ان سے میلوں دور نظر آرہے ہیں۔کوہلی بلا شبہ ایسا بلے باز ہے جو صورت حال کے تقاضہ کے عین مطابق بلے بازی کرتا ہے۔ہر قسم کی صورت حال سے انہیں نمٹنا آتا ہے۔ٹیم انڈیا میں کوہلی شاید اب تک کا پہلا ایسا جارح بلے باز ہے جو ضرورت کے مطابق سرعت کے ساتھ بیٹنگ کا گئیر بدل لیتا ہے۔ انہیں اگر ٹیم انڈیا کا وہ جاوید میاں داد کہیں جو 1992کے ورلڈ کپ تک تھا تو غلط نہ ہوگا۔کیونکہ ایک دور جاوید میاں داد کا بھی تھا جب وہ حالات کے عین مطابق بیٹنگ کر کے پاکستانی ٹیم کی نیا پار لگانے میں کامیاب ہو جاتے تھے۔کوہلی بھی جاوید میاں داد کی طرح جب ضرورت ہو تو اکے دکے اور جب تقاضہ باو¿نڈری کا ہو تو چوکے چھکے لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کوہلی نے اب اپنی صلاحیتوں کا لوہا ایسا منوایا ہے کہ اب کم و بیش ہر بولر کو وہ خواب میں نظر آتے رہتے ہوں گے۔کیونکہ حریف بولروں کے بخیے ادھیڑنے میں انہیں ایسی مہارت حاصل ہو گئی ہے کہ وہ تنہا اپنے بل پر کسی بھی میچ کا رخ ٹیم کے حق میں بدل سکتے ہیں۔
صرف ورلڈ کپ ٹی ٹونٹی کے سیمی فائنل میں ہی نہیں بلکہ آسٹریلیاکے خلاف متعدد اننگز کوہلی نے بولرز کی درگت بناتے ہوئے ایسی کھیلی ہیں کہ آسٹریلیائی بولرز کبھی بھول نہیں سکتے ۔ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف بھی کوہلی نے بہترین اننگز کھیلی تھی۔ اس میچ میں بھی دیگر بلے باز کوہلی کا ساتھ نہ دے سکے تھے۔اگر کوہلی بھی کہیں روہت، شیکھر، رینا اور یوراج کی طرح محمد عامر، وہاب ریاض اور محمد سمیع پر مشتمل فاسٹ اٹیک کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے تو جس طرح نیوزی لینڈ کے خلاف 127کا ہدف بھی نہیں چھو سکے تھے تو شاید پاکستان کا دیا گیا119کا ٹارگٹ بھی نہ چھو پاتے۔اس جانب توجہ دینے کی خاص ضرورت ہے کہ کوہلی کی مسلسل کامیابیوں اور باقی بلے بازوں کی تسلسل سے ناکامیوں کو یہی حال رہا تو ایک بار پھر ٹیم انڈیا اسی دور میں پہنچ جائے گی جب ٹنڈولکر آو¿ٹ تو پوری ٹیم آو¿ٹ سمجھی جاتی تھی۔ ٹیم انڈیا کے باقی بلے بازوں کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانا ہو گی۔کیونکہ اگر کہیں وراٹ کوہلی ان فٹ ہو گئے یا کسی میچ میں زخمی ہو گئے تو کوہلی پر ہی تکیہ کیے رکھنے کی عادت ٹیم انڈیا کو چاروں خانے ایسا چت کر دےگی کہ وہ شاید وراٹ کوہلی کی واپسی تک ہر قسم کی کرکٹ رینکنگ میں کئی سیڑھی نیچے اتر آئے گی۔ٹیم انڈیا کے تمام بلے باز اس وقت آئی پی ایل میں کوہلی کی ٹیم کی حالت دیکھ لیں کہ اگرانہوں نے کوہلی پر ہی بھروسہ کرنا ترک نہ کیا تو ایک روز ٹیم انڈیا کی بھی یہی کیفیت ہو سکتی ہے۔

Read all Latest sports news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from sports and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: How long team india will depend on virat kohli in Urdu | In Category: کھیل Sports Urdu News

Leave a Reply