آئی پی ایل کا سیزن دس رائزنگ پنے سوپر جائنٹس کے آخر دم تک لڑنے کے جذبہ کے باعث یاد رکھا جائے گا

نئی دہلی:آئی پی ایل کے دسویں سیزن کافائنل ہی نہیں بلکہ پورا ٹورنامنٹ اس وجہ سے نہیں یاد رکھا جائے گا کہ ممبئی انڈئینز آئی پی ایل چمپین بنی ہے بلکہ پنے سوپر جائنٹس کی شاندار کارکردگی اور فائنل تک پہنچنے اور شکست کھانے سے قبل آخر دم تک لڑ نے کے باعث یاد رکھا جائے گا۔ کیونکہ جب کولکاتا کے صنعتکار آر پی سنجیو گوئنکا نے چنئی سوپر کنگز اور راجستھا ن رائلز کی معطلی کے بعد ان کی جگہ دو نئی ٹیموں کے لیے پنے سوپر جائنٹس کا فرنچائز بننے کی کامیاب بولی لگائی تو آئی پی ایل سے وابستہ ہر شخص اس بات سے واقف تھا کہ یہ عارضی معاملہ ہے اور صرف دو سیزن کے لیے ہی دو نئی ٹیموں کو شامل کیا گیا ہے۔ اور اگر پنے سوپر جائنٹس چمپئین بن بھی جاتی تب بھی آئندہ ایڈیشن میں وہ دفاعی چمپین ہونے کے باوجود نہیں کھیل سکتی تھی۔ لیکن اس نے اس پورے ٹورنامنٹ میں جس طرح تمام ٹیموں کو زچ کیا اور کولکاتا نائٹ رائیڈرز، سن رائزرز حیدر آباد اور کنگز الیون پنجاب کو کہیں پیچھے چھوڑا اس سے تو ایسا ہی لگ رہا ہے کہ ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ کوئی ایسا راستہ ڈھونڈنے کی کوشش کرے گا جس سے آئندہ ایک نئے سیزن میں پنے سوپر جائنٹس کو بھی کسی طرح جگہ مل جائے۔لیکن یہ بھی طے ہے کہ بھلے ہی پنے سوپر جائنٹس ٹیم کو آئی پی ایل میں جگہ نہ ملے لیکن اس ٹیم کے مالکان ضرور آئندہ سیزن میں آئی پی ایل کا حصہ بنے رہیں گے۔اور وہ یقیناً کوئی ایک ٹیم خریدنے یا کسی فرنچائزی کا پارٹنر بننے کی کوشش کریں گے۔
قطع نظر اس بات کہ آئندہ سیزن میں ٹیم کا کیا مستقبل ہوگا یہ بات قابل ذکر ہے کہ جس طرح نئے کپتان اسٹیو اسمتھ نے شاطرانہ چالوں سے ٹیم کو فائنل تک پہنچا کر 2016کے سیزن کی تلخ یادوں سے ٹیم مالکان کو چھٹکارہ دلایا وہ نہایت قابل تعریف ہے۔ اگرچہ اس بار بھی وہ دوسری پوزیشن پر ہی رہی ہے بس فرق اتنا ہے کہ وہ گذشتہ سال حتمی درجہ بندی فہرست میںنیچے سے دوسرے نمبر پر تھی اور اب اوپر سے دوسری پوزیشن پر ہے۔بلا شبہ یہ ایک زبردست کامیابی ہے۔ لیکن اس بار ٹیم مالکوں نے بڑے جرائتمندانہ فیصلے کرتے ہوئے ہندوستانی کرکٹ شوقینوں کی اکثریت کو غیظ و غضب میں مبتلا کر دیا تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ پنے سوپر جائنٹس فائنل تو دور کی بات شاید پلے آف تک نہ کھیل سکے۔کیونکہ ٹیم کے فرنچائزی سنجے گوئنکا نے اچانک ہی مہندر سنگھ دھونی کو قیادت سے برطرف اور ان کے آسٹریلیائی ہم منصب اسٹیو اسمتھ کو کپتان بنانے اور پھر ابتدائی میچ جیتتے ہی اپنے فیصلہ کو درست ثابت قرار دے کر ہندوستانی کرکٹ شوقینوں کی ناراضگی میں اور اضافہ کر دیا تھا۔لیکن دوسری جانب دھونی نے اپنی اس بے عزتی کا جواب ایسے موقع پر جب ٹیم پر پلے آف تک پہنچنے کے لالے پڑگئے تھے تو آخر ی میچوں میں زبردست اننگز کھیل کر اس طرح دیا کہ ٹیم کے اوپر سے نہ صرف آخری چار میں نہ پہنچنے کا خطرہ ٹل گیا بلکہ ٹیم فائنل تک پہنچ گئی۔
ورنہ پلے آف تو دور کی بات جس وقت پنے کی ٹیم شکست کی ہیٹ ٹرک کے ساتھ 16اپریل کو رائل چیلنجرز بنگلور کے خلاف میچ کھیلنے بنگلور پہنچی تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پنے کی ٹیم ٹورنامنٹ میں واپس آئے گی ۔بلکہ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ٹیم گذشتہ سال کی تاریخ ہی دوہرائے گی۔ لیکن دھونی نے 25بالوں پر28رنز کا تعاون دے کرٹیم کو 161کا ایک معقول اسکور دینے میں نمایاں کردار ادا کیا اور یہی اسکور ہار جیت کا فرق ثابت ہوا۔ یہی نہیں بلکہ اس کرکٹ میلے میں پوری دنیا کے معروف کھلاڑیوں کی موجودگی کے باوجود کرکٹ شوقینوں کے توجہ کا مرکز دھونی ہی تھے۔ اور انہوں نے بھی اپنے فرنچائزی سنجے گوئنکا کو منھ توڑ جواب دینے کے ساتھ ساتھ اپنے پرستاروں کو بھی مایوس نہیں کیا ۔اور ان کی توقعات پر پورے اترے۔ممبئی انڈئینز کے ہی خلاف کوالیفائنگ فائنل میں ان کی26گیندوں پر آسمان سے باتیں کرتے پانچ چھکوں کی مدد سے 40رنز کی وہ اننگز کون بھول سکتا ہے جس کی بدولت پنے کی ٹیم کو دوسرا کوالیفائنگ میچ کھیلے بغیر ہی فائنل کھیلنے کا ٹکٹ مل گیا۔ اس اہم ترین میچ میں دھونی کی جگہ کپتان بنائے جانے والے اسمتھ محض ایک رن ہی بنا سکے تھے۔اس کے باوجود دھونی نے ا سمتھ پر آنچ نہیں آنے دی ۔اور شاندار اننگز کھیل کر انہیں شرمندگی سے بچا لیا۔
دھونی نے سنجے گوئنکا کو ہی کرارا طمانچہ نہیں مارا بلکہ سب کو جتا دیا کہ ابھی ان میں اتنا دم ہے کہ وہ ڈیتھ اووروں میں اچھے اچھے بولرزکی لائن اور لینتھ بگاڑ سکتے ہیں۔ اور جس روز ان کا بلا چل جائے تو کوئی دوسرا بلے باز ان سے زیادہ تباہ کن ثابت نہیں ہو سکتا۔اور اس روز انہیں بولنگ کرنے والے باؤلرز کو خواب میں بھی دھونی ہی نظر آتے رہیں گے۔اور اس کی تصدیق سن رائزرز حیدر آباد کے بولرز ضرور کر سکتے ہیں ۔کیونکہ دھونی نے سب سے زیادہ انہی کی درگت بنائی ہے۔وہ تو شکر منائیں ممبئی انڈینز کے بولرز جو دھونی کے قہر سے بچ گئے ورنہ میچ سے پہلے ایسا لگ رہا تھا کہ دھونی پہلے کوالیفائر کی کہانی دوہرا کر ممبئی انڈینز کے بولروں کی گیندوں کو میدان کے چاروں کونوں کی سیر کراکے اس کا چمپین بننے کا خواب چکنا چور نہ کر دیں۔
(اردو تہذیب اسپورٹس ڈیسک)

Title: how after a shaky start rising pune supergiants reaches ipl final | In Category: کھیل  ( sports )

Leave a Reply