انگلستان کے خلاف ون ڈے میچوں کی سریز ہارنے کے واحد مجرم صرف دھونی ہی نہیں کئی بلے باز ہیں

سید اجمل حسین

عام طور پر کسی بھی میچ میں شکست کے بعد جب ٹیم کا پوسٹمارٹم کیا جاتا ہے تو کئی مجرم سامنے آتے ہیں۔ لیکن یہ پہلا موقعہ ہے کہ اس سریز میں شکست کا ٹھیکرہ واحد بلے باز مہندر سنگھ دھونی کے سر پھوڑا جا رہا ہے۔ لارڈز کے میدان میں جہاں ہمیشہ ہندوستان کے کھلاڑی انفرادی کارنامے انجام دے کر ٹیم کی مسیحائی کرتے رہے تھے وہیں جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے کے مصداق مہندر سنگھ دھونی نے نہایت سست بلے بازی کرکے لارڈز کے اسی میدان میں اپنی اس ننگز کو اسی ماہ جولائی میں اختتام پذیر ہونے والی تین ون ڈے میچوں کی اس سریز کا ایک ڈراؤنا خواب ضرور بنا دیا ۔ یہ بات ا پنی جگہ درست کہ دھونی تو صرف وکٹ کیپر تھے ہدف کے تعاقب کا کامیاب بنانے کی اصل ذمہ داری تو ٹاپ آرڈر اور مڈل آرڈر بلے بازوں کی تھی ۔

مڈل آڈر میں بھی دھونی بہت بعد میں آتے ہیں۔ پھر بھی دھونی کو اس لیے اصل مجرم قرا دیا جارہا ہے کیونکہ ٹیم میں وہی سب سے سینیئر او رمیچ وننگ اننگز کھیلنے میں مہارت رکھنے والے سمجھے جاتے ہیں ۔ اور ان کو 11میں رکھنے کی خاطر دنیش کارتک کو در خور اعتنا نہیں سمجھا جاتا ۔ لیکن جب کارتک کی بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو دھونی کو ڈراپ کرنے کے بجائے تلوار لوکیش راہل ، اجنکیا رہانے اور رشبھ پنت اور ان جیسے کئی نوجوان بلے بازوں پر گرتی ہے۔جیسا کہ رواں کرکٹ سریز کے تیسرے اور آخری ون ڈے میچ میں ہوا۔ لیکن اس بار دھونی سے وہ فائدہ نہیں مل سکا جس کی سب کو امید تھی۔

سریز کا وہ میچ جو لارڈز میں کھیلا گیا اس وقت انگلستان کی جیت کاٹرننگ پوائنٹ بن گیا جب دھونی نے 100اور اس سے زائد کے اسٹرائیک ریٹ سے بیٹنگ کر کے ہدف کے قریب پہنچنے کی کوشش کرنے کے بجائے 62کے اسٹرائکنگ ریٹ سے بیٹنگ کر تے ہوئے 59گیندوں پر صرف37رنز بنا کر ٹیم انڈیا کو شکست سے دوچار کرنے میں ہاتھ بٹایا۔ لیکن ا س اننگز سے غالباً انہوں نے یہ پیغام دیا کہ اگر وہ میچ جتوانے کے لیے اچھے فنشر ہیں تو کسی میچ میں وہ سست رفتاری سے رنز بنا کر مدمقابل ٹیم کے لیے سیلف گول کرنے والے فٹ بال کھلاڑی کا کردار بھی ادا کر سکتے ہیں۔

لارڈز کے میدان میں ہی جب دھونی نے ٹیم انڈیا کو جتانے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی تو کرکٹ شوقینوں کے عتاب کا شکار بن گئے اور اسی عتاب کی یادوں کے ساتھ وہ آخری اورتیسرے میچ میں بھی کریز پر آئے تو ان کی جسمانی حرکات و سکنات سے ان کے دل میں لگی اس آگ سے تپ رہا تھا جو لارڈز کے میدان میں ان کی سست بلے بازی کے باعث پرستاروں نے ان کا پیچھا ہی لے لیا۔ایسی بات نہیں کہ شکست کے مجرم تنہادھونی ہی ہیں۔ بلکہ خود کپتان وراٹ کوہلی، افتتاحی بلے بازوں کی جوڑی (روہت شرما اور شکھر دھون)اور مڈل آرڈڑ میں پہلے لوکیش راہل اور پھر ان کی جگہ کھیلنے والے دنیش کارتک بھی برابر کے ذمہ د ار ہیں۔ کہ جب تک ان کھلاڑیوںکو خالص بیٹنگ پچ اور چھوٹا گراؤنڈ ملاتو پہلے میچ میں روہت نے اور پھر پوری ٹیم نے جو اسکور بنایا وہ سب کو معلوم ہے۔ اور جب انگریزوں نے پہلی بار چائنا مین باؤلر کلدیپ یادو کو کھیلا تو سٹپٹا گئے ۔لیکن جوں جوں کارواں آگے بڑھتا گیا کلدیپ ہی کی کیا ٹیم انڈیا کے ہر کھلاڑی کی خوبی و خامی انگریز کھلاڑی آنکتے رہے ، اور دوسرے اور تیسرے ون ڈے میچ میں اس کا جو فائدہ اٹھایا وہ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔اور اس فائدے کا آغاز سنیچرکو لارڈز کے میدان سے کیا۔

حالانکہ لارڈز کا میدان وہ مقام ہے جو عام طور پر ٹیم انڈیا کے لیے خوشیوں کی نوید لاتا رہا ہے یا باالفاظ دیگر کچھ ہند ستانی کھلاڑیوں خاص طور پر ون ڈے میچز میں محمد کیف اور مناف موسیٰ پٹیل کے انفرادی کارناموں کے باعث ہندوستان کو یادگار اور تاریخی کامیابیوں سے ہمکنار کرتا رہا ایک اسی کھلاڑی مہندر سنگھ دھونی کی بدولت ٹیم انڈیا کی سریز ہار کی بنیاد بن گیا جو ابھی تک ایک بہترین فنشر کے طور پر تسلیم کیے جاتے تھے۔اور جن کی شاطرانہ چال سے لارڈز میں اس وقت میچ ٹائی کرا کے ٹیم کو یقینی شکست سے بچا لیا جب نہایت نازک موڑ پر انہوں نے مناف پٹیل کو اس وقت گیند تھمائی جب انگلستان کو جیت کے لیے ایک رن کی ضرورت تھی اور 12گیندیں باقی تھیں۔49یں اوور کی پہلی تین گیندںپر رن بنانے کیہر کوشش ناکام ہوتا دیکھ کر چوتھی بال پر گریم سوان نے میچ وننگ رن لینے کی کوشش کی لیکن ان کا رن مکمل کرنے سے پہلے ہی مناف نے نان اسٹرائیکنگ اینڈ پر سوان کو رن آؤٹ کر دیا مگر اس وقت تک دونوں بلے باز ایک دوسرے کو کراس کر چکے تھے اور اسٹرائیکنگ اینڈ پر ایک اورسیٹ بلے باز روی بوپارا تھے اور ہندستان شکست کے دہانے پرتھا۔

لیکن مناف پٹیل نے اگلی ہی گیند پر للچایا اور بوپارانے بھی لمبی ہٹ لگانے کی کوشش کی لیکن گیند ہوا میں تن گئی اور ڈیپ مڈ وکٹ پر رویندر جڈیجہ نے اس کیچ کو پکڑنے میںکوئی غکطی نہیں کی۔اور ہندستان میچ نہیں جیت سکا تومناف پٹیل نے انگلستان کو بھی نہیںجیتنے دیا اور یوں میچ ٹائی ہو گیا۔ اس سے قبل2002میں لارڈز میں ہی محمد کیف نے نامساعد حالات میں 83نز کی میچ وننگ اننگز کھیل کر ہندوستان کوپہلی بار نٹ ویسٹ ٹرافی جیتنے کا اعزاز دلایا۔اس کے بعد2004کی سریز میں لارڈز کے ہی میدان پر سوربھ گنگولی نے 90رنز کی شاندار اننگز کھیلی اور ہندوستان 23رنز سے جیت گیا۔

اس میچ میں بھی عرفان خان پٹھان کی عمدہ بولنگ اور محمد کیف کی زبردست فیلڈنگ نے ٹیم انڈیا کی کامیابی میں اہم رول ادا کیا۔کیونکہ 205رنز کے قلیل اسکور کا ابھی ایک چوتھائی بھی نہیں بنا تھا کہ انگلستان کی نصف ٹیم کو آؤٹ کرنے میں ان دونوں کا زبردست تعاون رہا۔ عرفان پٹھان نے اینڈیو اسٹراس اور میک گر کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا تو ٹاپ آرڈر کے پانچویں بلے باز کولنگ ووڈ کو محمد کیف نے دھونی کے اشتراک سے رن آؤٹ کیا۔اور یہیں سے انگلستان فتح کی راہ سے بھٹکتا چلا گیا۔

لیکن 2018کی رواں سریز میں لارڈز کا یہی میدان ٹیم انڈیا کے لیے ایسا منحوس ثابت ہوا کہ سب سے پہلے تو دھونی کو اپنی کرکٹ کیریر میں پہلی بار ہندستانی کرکٹ ٹیم کے پرستاروں کا زبردست ہدف تنقید بننا پڑا اور وقت کے تقاضہ کے عین برعکس بلے بازی کر تے ہوئے جب وہ ٹیم انڈیا کو ہدف کے آس پاس تک نہ لے جا سکے تو ان کی اننگز کے دوران ہی اسٹیڈیم میں موجود ہندوستانی ٹیم کے پرستاروں نیز انگریزکرکٹ شوقینوں نے دھیمے دھیمے تالیاں بجا کر اظہار بیزاری کرنا اور اوووووو کی آوازیں نکال کر دھونی کے انداز بلے بازی کا مذاق اڑانا شروع کر دیا۔

اور کیوں نہ اڑاتے کیونکہ اس میچ کے نتیجے سے ہی ٹیم انڈیا نے پہلے اپنی اول پوزیشن بحال کرنے کا موقع گنوایا اور پھر آخری میچ ہار کر گذشتہ سات سال کے دوران انگلستان کے خلاف کوئی سریز نہ ہارنے کا ریکارڈ بھی برقرا رنہیں رکھا ۔یہی نہیں بلکہ وراٹ کوہلی کوبھی تسلسل کے ساتھ دسویں کرکٹ سریز جیتنے کاکارنامہ انجام دینے سے محروم کر دیا۔

Read all Latest sports news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from sports and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Dhoni bcomes villain at lords in Urdu | In Category: کھیل Sports Urdu News

Leave a Reply