مہندر سنگھ دھونی نے 2019کے ورلڈ کپ کے لیے برتھ کنفرم کرالی؟

سید اجمل حسین
حال ہی میں سری لنکا کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سریز میں ہندوستان نے 3-0سے کلین سوئپ کرنے کے بعد جس طرح5 ون ڈے میچز کی سریز بھی5-0سے جیت کر مکمل براؤن واش کر دیا۔ ٹیسٹ اور ون ڈے میچز کی سریز میں اس شاندار کامیابی سے ثابت ہو گیا کہ وراٹ کوہلی کی ٹیم بھی اپنے پیشرو ؤں محمد اظہر الدین، سوربھ گنولی اور مہندر سنگھ دھونی کی طرح اسپن ہتھیارکی مدد سے اپنی سرزمین کے ساتھ ساتھ برصغیر کی پچوں پر بھی حریف ٹیموں کو ناکوں چنے چبواکر ہر ٹیسٹ میچ کو اننگز یا ایک بڑے مارجن سے اور ون ڈے میچز کو یکطرفہ بناکر جیتنے کا سلسلہ شروع کر دے گی۔یوں تو مضبوط بیٹنگ لائن اور ہر قسم کے اسپن ہتھیار کی دستیابی کے باعث ٹیم انڈیا کی کے لیے ہر سریز اور ہر دورہ نہایت اہم ہوتا ہے لیکن جس طرح حالیہ دورہ سری لنکا میں ٹیسٹ میچوں کی سریز شیکھر دھون، مرلی وجے اور اجنکیا رہانے کے لیے نہایت اہم تھی ٹھیک اسی طرح ون ڈے میچوں کی سریز سابق کپتان اور فنیشر(Finisher) کا ٹیگ لگائے ٹیم میں شامل مہندر سنگھ دھونی کے لیے کافی اہم تھی۔ یہی وہ سریز تھی جو مہندر سنگھ دھونی کی قسمت کا فیصلہ کرتی ۔ کیونکہ انہیں ٹیم میں وکٹ کیپر کے فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ اصل میں یہ ثابت کرنا تھا کہ ان میں اب بھی فنشر کا کردار ادا کرنے کے دم خم ہیں یا وہ ان کی ڈھلتی عمر کے ساتھ ساتھ ان کے قویٰ کمزور پڑ گئے ہیں اور اب ان میں اسٹیمنا بھی باقی ہے یا وہ بھی ختم ہو گیا۔ اس سریز سے پہلے دھونی 296ون ڈے میچز کھیل چکے تھے ۔ اوراسی سریز میں انہیں اپنے 300ون ڈے میچز مکمل کر کے 300یا اس سے زیادہ میچز کھیلنے والے معروف کھلاڑیوں کے کلب میں شامل ہونے کا موقع بھی حاصل تھا۔ سریز کے پہلے میچ میں جب انہیں کچھ کرنے کا موقع نہیں ملا تو ان کو آزمانے کا موقع بھی نہیں ملا۔ شیکھر دھون نے سنچری او ر وراٹ کوہلی نے 84رنز کی اننگز کھیل کر ہدف ایک وکٹ کے نقصان پر ہی پورا کر دیاتھا۔دھونی چونکہ 36سال کے ہو چکے ہیں اور کچھ عرصہ سے ان کی بیٹنگ میں وہ بات بھی نہیں رہ گئی تھی جو کبھی ایسی تھی کہ دنیا کا ہر باؤلر خوف کھایا کرتا تھا۔
تاہم دھونی وکٹ کیپر کے طور پر آج بھی گیند پر چیتے کی مانند زقند لگا کر دبوچنے میں زبردست مہارت رکھتے ہیں اور ان کو ہوا میں اس طرح غوطے لگا تا دیکھ کر کوئی کہہ ہی نہیں سکتا کہ وہ کھیل زندگی کی عمر کی حد کو چھو چکے ہیں۔لیکن کچھ نوجوان وکٹ کیپر بلے بازوں مثلاً کے ایل راہل اور سنجو سیمسن نے اپنی عمدہ کیپنگ کے ساتھ ساتھ جارحانہ انداز سے بلے بازی کرنے نیز شاندار فارم کی بدولت دھونی کو ڈراپ کیے جانے کے خطرے سے دوچار رکھا تھا۔علاوہ ازیں سلیکٹروں نے بھی کچھ ایسے اشارے دینا شروع کر دیے تھے کہ اب مہندر سنگھ دھونی ”نیچرل چوائس“ نہیں رہے۔اور سب سے بڑھ کر ان کے پرانے نقاد روی شاستری نے چیف کوچ کا عہدہ سنبھالتے ہی دو ٹوک لہجہ میں کہہ دیا تھا کہ 2019کے ورلڈ کپ میں اسی کے نام پر غور کیا جائے گا جو نہ صرف فٹ ہوگا بلکہ جس مقصد کے لیے اسے ٹیم میں اب تک لیا جاتا رہا ہے وہ اس کو پورا کرنے کا خود کو اہل بھی ثابت کردےگا۔ ظاہر ہے اس قسم کے بیانات و خیالات دھونی کے کیریر کے لحاظ سے کافی معنی رکھتے تھے۔کیونکہ اپنی کارکردگی کے لحاظ سے دھونی کافی مایوس کر رہے تھے۔ 2016میں انہوں نے 13ون ڈے میچز کھیلے تھے اور 27کی اوسط سے محض 278رنز بنائے تھے۔اور سری لنکا کے دورے پر جانے سے پہلے تک2017میں انہوں نے جو 13ون ڈے میچز کھیل تھے ان میں انہوں نے 386رنز بنائے تھے۔ اس میں بھی 134رنز ایک اننگز میں بنائے تھے۔ یعنی باقی 12میچوں میں وہ صرف 252رنز ہی بنا سکے۔ یہاں تک کہ کئی بار و ہ ایسے فنشرکے طور پر بھی بری طرح ناکام رہے جس کی ایک دنیا قائل تھی۔ایسی صورت میں دھونی کے سر پر ڈراپ کیے جانے کے خطرے کے بادل اور گھنیرے ہوگئے تھے۔کیونکہ 2019کے ورلڈ کپ تک وہ38سال کے بھی ہو جاتے۔
ایسے حالات کسی طور بھی دھونی کے حق میں نہیں تھے۔ یوراج سنگھ اور سریش رینا کی مثال دھونی کے سامنے تھی ۔جو فٹ نہ ہونے کے باعث سری لنکا کے دورے کے لیے ٹیم میں شامل نہیں کیے گئے تھے۔ سری لنکا کے خلاف پہلے ہی ون ڈے میچ میں شیکھر دھون اور وراٹ کوہلی نے انہیں بیٹنگ کے لیے کریز پر آ نے کا موقع ہی نہیں دیا اور خود ہی ٹیم کو ٹارگٹ تک لے گئے۔لیکن اس بات سے بھی سبھی واقف تھے کہ دھونی دباؤ میں کچھ زیادہ ہی بہترمظاہرہ کرتے ہیں۔اور اس کا ثبوت انہوں نے آخر دینا شروع کر ہی دیا۔کینڈی میں کھیلے گئے دوسرے ون ڈے میچ میں ٹیم انڈیا237کے ہدف کے تعاقب میں ابھی ٹیم منزل سے 107رنز دور تھی کہ اس کے سات بلے باز پویلین واپس جا چکے تھے۔دھونی کا ساتھ دینے کے لیے صرف ٹیلنڈرز بچے تھے۔لیکن دھونی کو چیف کوچ، سلیکٹروں اور نقادوں کو جواب دینا تھا۔موقع بھی تھا اور حالا ت بھی فنشر(Finisher) کا کردار ادا کرنے کے متقاضی تھے۔دھونی نے ایک اینڈ کی حفاظت کرتے ہوئے لمبی ہٹیںلگانے کے لیے اپنے پارٹنر بھونیشور کو موقع دینا شروع کیا اور ساتھ ہی حوصلہ بھی بڑھاتے رہے اور بھونیشور کو ہاف سنچری بنانے کا موقع دے کر خود 45رنز بنا کربھونیشور کے ساتھ 107رنز کی ناقابل شکست شراکت کر کے ٹیم انڈیا کو سریز میں2-0کی سبقت دلانے میں کامیاب ہو گئے۔کینڈی میں ہی جب تیسرا ون ڈے میچ کھیلا گیا تو ایک بار پھر محض218کے ٹارگٹ کے تعاقب میں ٹیم انڈیا کا آغاز کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا۔کیونکہ محض 61کے اسکور پر کپتان وراٹ کوہلی سمیت اس کے چار بہترین بلے باز آوٹ ہوچکے تھے اور سری لنکا نے جیت کی خوشبو سونگھ لی تھی کیونکہ اس میچ میں بھی آف اسپنر دھننجے کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔لیکن دھونی نے وہیں سے اپنی اننگز آگے بڑھائی جو وہ گذشتہ میچ میں چھوڑ کر آئے تھے۔
اس بار ان کا ساتھ دینے کے لیے روہت شرما تھے۔دھونی نے پھر ایک اینڈ کی حفاظت کرتے ہوئے روہت کو حملے کرنے کا موقع دیا۔روہت سنچری بنانے میں کامیاب رہے تو دھونی 86گیندوں پر چار چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 67رنز بنا کر خود کو ایک بار پھر فنشر کے طور پر منوانے میں کامیاب ہو گئے۔ اس میچ میں بھی انہوں نے پانچویں وکٹ کے لیے ناقابل شکست سنچری پارٹنر شپ کی۔ بس فرق اتنا تھا کہ اس بار ان کے سا تھ کوئی ٹیلنڈر نہیں بلکہ ایک منجھا ہوا افتتاحی بلے باز روہت تھا۔چوتھے ون ڈے میچ میں اگرچہ ایک فنشر کی تو ضرورت نہٰں تھی کیونکہ ٹیم انڈیا پہلے بیٹنگ کر رہی تھی ۔ہاں البتہ ٹارگٹ تک پہنچنا مشکل بنانے کے لیے اسکور میں تیزی سے اضافہ کر کنے کی ضرورت تھی ۔اس امتحان میں بھی دھونی پورے اترے اور صرف42گیندیں کھیل کر پانچ چوکوں اور ایک سکسر کے ساتھ49رنز بنا کر ٹیم کو پونے چار سو رنز بنانے کا موقع دیا۔پانچویں اور آخری ونڈے میچ میں انہوں نے وکٹ کیپنگ کے طور پر نام روشن کیا اور100کھلاڑیوں کو اسٹمپ آؤٹ کرنے وؤوالے پہلے وکٹ کیپر ہونے کا اعزاز پایا۔اپنی اس عمدہ پرفارمنس سے دھونی 2019کے ورلڈ کپ کی ٹیم کے لیے عملاً(virtually)اپنی برتھ کنفرم کرا چکے ہیں۔اور یہ چیف کوچ، سلیکٹرزخاص طور پر چیف سلیکٹر ایم ایس کے پرساد اور دھونی کے نقادوں نیز ان کی جگہ لینے کو بیتاب نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بھلے ہی اچھی خبر نہ ہو مگر2019کے ورلڈ کپ کے پیش نظر ٹیم انڈیا کے لیے ضرور اچھی ہو سکتی ہے۔

Read all Latest sports news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from sports and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Dhoni assure himself of 2019 world cup berth in Urdu | In Category: کھیل Sports Urdu News

Leave a Reply