جس بڑے کرکٹ فائنل میں مسلم کھلاڑی ٹیم میں شامل رہاہندوستان ہی فاتح بنا

سید اجمل
پاکستان کے خلاف شارجہ میں آخری اوور کی آخری گیند پر جاوید میاں داد کو چھکا لگا کر فائنل جیتنے کا موقع بہم پہنچاکر آج تک یاد کیے جانے والے چیتن شرما نے اس وقت یقیناً راحت کا سانس لیا ہوگا جب حالیہ چمپینز ٹرافی کے فائنل میں فخر زماں کو دھونی کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کرادینے کے باوجود فاسٹ بولربمراہ اس وقت ہیر ونہ بن سکے جب امپائر نے ان کی نوبال قرار دی اور فخر زماں نہ صرف کریز پر واپس آگئے بلکہ سنچری بنا کر پاکستان کی ایک ہمالیائی اسکور اور ٹرافی تک ایسی رسائی کرائی کہ وہ ٹیم انڈیا جو اس ٹورنامنٹ کے فائنل تک دیو پیکر دکھائی دے رہی تھی اچانک بونا اور پستہ قدنظر آنے لگی ۔ اس شکست کے ساتھ ہی جہاں ایک جانب وراٹ کوہلی نے اپنی قیادت میں پہلا کوئی ایسا ٹورنامنٹ جس میں تین یا تین سے زائد ٹیمیں ہوں اور جسے منی ورلڈ کپ کہا جاتا ہے پاکستان سے ہار کر اپنااسٹاردڈم کھودیا وہیں کرکٹ میدان میں کوہلی اور بارڈر پر مودی کی گردان کرنے والوں کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا کہ کوہلی نے پاکستان کے تئیں ایسا نرم رویہ کیوں اختیار کیا جیسا وزیر اعظم نریندر مودی دیار غیر میں ملاقات ہوتے ہی اپنے پاکستانی ہم منصب سے رکھتے ہیں۔علاوہ ازیں یوم پدر پر اس میچ کے نتیجہ نے یہ ثابت کر دیا کہ کھیل میں کوئی ٹیم باپ بیٹا نہیں ہوتا بلکہ ٹیم کا ٹیلنٹ اور اتحاد ہی باپ ہوتا ہے۔یہی نہیں بلکہ اس شکست سے کوہلی اور دھونی کے درمیان جو سرد جنگ چل رہی ہے اور ٹیم جس طرح خیموں میں تقسیم ہے اور کوچ کے تقرر کو وقار کا مسئلہ بنائے ہوئے ہے وہ منظر عام پر آگئی۔
پورے میچ کے دوران ٹیم ایک اکائی کی طرح کھیلتی نظر نہیں آئی۔اس اہم ترین فائنل میچ میں بمراہ نے بھی اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ اس وقت کے کپتان مہندر سنگھ دھونی اپنے اس موقف اور دعوے میںہر گز سچے نہیں تھے کہ اب بمراہ کی آمد سے ٹیم میں محمد شامی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔جبک جو اس امر کی نشاندہی کرتا تھا کہ اب ٹیم انڈیاکوبھی شاید ”کانگریس سے پاک ہندوستان “ کی طرح ”مسلم کھلاڑیوں سے پاک ٹیم انڈیا “ بنانے کی پیش بندی کی جارہی ہے۔ جبکہ ملک نے جتنے بھی بڑے عالمی ٹورنامنٹ جیتے ہیں اس میں مسلم کھلاڑیوں کی موجودگی اور کئی فائنل میچوں میں ان کی میچ وننگ پرفارمنس کا زبردست عمل دخل رہا ہے۔1983میں ٹیم انڈیا نے عالمی کپ جیت کر آئی سی سی ٹورنامنٹ جیتنے کا جو سلسلہ شروع کیا تو ہر وہ ٹورنامنٹ جس میں ایک یا دو مسلمان کھلاڑی ہندوستان کی نمائندگی کر رہے تھے ٹیم انڈیا نے جیتا ہے۔ 1983کے ورلڈ کپ میں مسلم کھلاڑی کے طور پر وکٹ کیپر سید کرمانی ٹیم انڈیا کا لازمی حصہ تھے۔ 1985میں آسٹریلیا میں جب ٹیم انڈیا نے بینسن اینڈ ہیجز کپ کے فائنل میں پاکستان کو17رنز سے ہرا کر ٹرافی جیتی تو اس وقت بھی ٹیم انڈیا میں مسلم کھلاڑی محمد اظہر الدین تھے۔جب پاکستان کے ہی خلاف ٹورنٹو میں 1997میں 5ون ڈے میچز کی سریز ہندوستان نے4-1سے جیتی تو اس وقت بھی ٹیم انڈیا میں دو مسلم کھلاڑی محمد اظہر الدین اور سید صبا کریم تھے۔2002کا نٹ ویسٹ ٹرافی فائنل کون فراموش کر سکتا ہے جس میں دو مسلم کھلاڑی ظہیر خان اور محمد کیف تھے ۔
دونوں نے ہی اپنا کردار بخوبی نبھایاتھا۔اگر ظہیر خان نے 3وکٹ لیے تو محمد کیف نے نامساعد حالات میں87رنز کی شاندار اننگز کھیل کر 326کا ہدف پورا کرنے میں زبردست معاونت کی اور مین آ ف دی میچ کے مستحق قرار دیے گئے۔2007میں جب پہلا ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ جنوبی افریقہ میں کھیلا گیا تو اس میں بھی پٹھان برادران کی شکل میں دو مسلم کھلاڑی یوسف پٹھان اور عرفان پٹھان نے ٹیم انڈیا کو چمپین بنوانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔فائنل میں جو پاکستان کے خلاف کھیلا گیاتھا ٹیم انڈیا کی5رنز سے سنسنی خیزجیت میں مسلم کھلاڑی عرفان پٹھان کو ہی مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔جب2011میں چوتھائی صدی کی کوششوں کے بعد جب دوسری بار ورلڈ کپ جیتا تو اس وقت بھی ٹیم میں دو مسلم کھلاڑی ظہیر خان اور مناف پٹیل تھے۔اس کے بعد چونکہ حالیہ چمپینز ٹرافی تک کوئی بھی بڑا ٹورنامنٹ ٹیم انڈیا نے نہیں جیتا اس لیے اس ٹورنامنٹ کے فائنل میں جب ٹیم انڈیا پہنچی تو فیورٹ کا ٹیگ لگائے رہنے اور تمام بڑے ٹورنامنٹوں اور اس چمپینز ٹرافی کے پہلے ہی میچ میں پاکستان کو ہرانے کے باعث نفسیاتی فائدہ حاصل ہونے کے باوجود فائنل میں پاکستان کے خلاف ٹیم انڈیا نے جس طرح گھٹنے ٹیکے اس نے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کاش کہ اس فائنل میں بھی ٹیم انڈیا کی پلئینگ الیون میں کوئی مسلم کھلاڑی ہوتا۔لیکن محض مسلم کھلاڑی کی عدما موجودگی کا عذر پیش کر کے پاکستانی ٹیم سے اس کی جیت کا کریڈٹ نہیں چھینا جکا سکتا ۔کیونکہ ایک طویل عرصہ بعد ایسا ہوا ہے کہ پاکستان نے ہندوستان کو کھیل کے ہپر شعبہ میںبری طرح پسپا کیا۔ خاص طور پر پاکستان کے فاسٹ بولروں نے ٹیم انڈیا کی فاسٹ بولنگ کے خلاف کمزوری کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور جس پچ پر ان کے ساتھی بلے بازوں نے300سے کہیں زیادہ رنز کا پہاڑ کھڑا کر دیا اسی پچ پر پاکستانی بولرز خاص طور پرفاسٹ بولروں نے ہندوستانی بلے بازوں کو نصف منزل بھی طے نہ کرنے دی اور ہندوستانی ٹیم کو منزل سے میلوں دور ڈھیر کر دیا۔ادھر پاکستان نے بھی ثابت کر دیا کہ اگر اس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ اس کی سرزمین فاسٹ بولنگ کی فصل کے لیے بڑی زرخیز ہے تو غلط نہیں ہے۔ کیونکہ حسن علی اور ان کا مین آف دی سریز ایوارڈ جیتنا تازہ ترین مثال ہے۔

Read all Latest sports news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from sports and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Cricket finals and muslim cricketers in team india in Urdu | In Category: کھیل Sports Urdu News

Leave a Reply