زماں اور عامر نے ٹیم انڈیا کو بری طرح پسپا کر کے اس کے قبضہ سے چمپنز ٹرافی چھین کر پاکستان کو دلادی

لندن: لگاتار دوسرءبار چمپینشز ٹرافی جیتنے کی تمام قیاس آرائیوں، امکانات اور یہاں تک کہ یقین کامل کی سختی سے تردید کرتے ہوئےہندوستان چمپینز ٹرافی کے فائنل میں روایتی حریف پاکستان سے 180رنز کی شرمناک شکست سے دوچار ہو گیا۔ اس یکطرفہ میچ میں جس میں پاکستان نے ہندوستان کو کھیل کے ہر شعبہ میں بری طرح پسپا کیا افتتاحی بلے بازفخر زماں کی شاندار سنچری اور تیز گیند باز محمد عامر کی تباہ کن گیند بازی قابل ذکر ہے۔ پاکستانی ٹیم ہندوستان سے پہلے لیگ میچ میں شکست کھانے کے بعد غضب کی واپسی کرتے ہوئے فائنل میں پہنچی اور اس نے ٹیم انڈیا کو کھیل کے تمام شعبوں میں پٹخنی دیتے ہوئے پہلی بار ٹائٹل اپنے نام کیا۔ پاکستان پہلی بار چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں کھیل رہا تھا اور اس نے فخر کی شاندار سنچری کی بدولت 50 اوور میں چار وکٹ پر 338 رن کا بڑا اسکور بنانے کے بعد ٹیم انڈیا کو اس کی مضبوط بلے بازی کے باوجود 30.3 اوور میں 158 رن پر ڈھیر کر دیا۔ چوٹ کے باعث سیمی فائنل نہ کھیل پانے والے اس بڑے اور وقار کے میچ کے لیے فاسٹ بولر محمد عامر نے پہلے فائری اسپیل میں روہت شرما (صفر)، کپتان وراٹ کوہلی (پانچ) اور شکھر دھون (21) کا وکٹ لے کر ہندوستان کو ایسا نڈھال کر دیا کہ وہ پھر سنبھل نہ سکا۔ اگرچہ ساتویں نمبر کے بلے بازہاردک پانڈیا نے 43 گیندوں میں چار چوکوں اور چھ چھکوں کی مدد سے 76 رنز کی طوفانی اننگز کھیلی لیکن ان کے رن آؤٹ ہوتے ہی ہندوستان کی تمام امیدیں زمیں دوز ہوگئیں۔ یوراج سنگھ 22، مہندر سنگھ دھونی 4، کیدار جادھو 9، رویندر جڈیجہ 15، روی چندرن اشون ایک اور جسپریت بمراہ ایک رن بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ پوری ہندوستانی ٹیم 30.3 اوور میں 158 رن پر ڈھیر ہوگئی جو انتہائی شرمناک مظاہرہ رہا۔ہندوستانی کپتان وراٹ نے میچ کے موقع پر کہا تھا کہ ٹیم کسی طرح کے دباؤ میں نہیں ہے لیکن فائنل میں ہندوستانی بلے بازوں پر بڑے اسکور کا دباؤ صاف نظرآیا جس کی وجہ سے انہوں نے مسلسل وکٹ گنوائے۔ پانڈیا کے رن آؤٹ ہونے میں ان سے زیادہ جڈیجہ کی غلطی رہی جو کریز پر آگے نکل کر پھر واپس کریز پر لوٹ گئے۔ پانڈیا رن آؤٹ ہونے کے بعد انتہائی غصے میں آ گئے اور واپس لوٹتے ہوئے جڈیجہ کو کئی بار گھورکر دیکھا۔ پانڈیا نے باؤنڈری لائن پر پہنچ کر باؤنڈری پر اپنا بلابھی پٹکا۔
پانڈیا کے رن آؤٹ ہونے کے چار رن بعد جڈیجہ بھی واپس پویلین لوٹ گئے۔ یہ ہندوستانی بلے بازی کا بے حد شرمناک مظاہرہ تھا جس نے پورے ٹورنامنٹ میں اس سے پہلے تک شاندار بلے بازی کی تھی۔ ہندوستانی اننگز کی تباہپی کا حال کچھ ایسا رہا۔عامر نے پہلے اوور میں روہت کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا۔ عامر نے ہندوستان کو سب سے بڑا جھٹکا اس وقت دیا جب ان کی گیند پر وراٹ کوہلی لائن کے برعکس کھیلنے کی کوشش میں پوائنٹ پر شاداب خان کو کیچ دے بیٹھے۔ عامر نے پھر شکھرکو وکٹ کیپر اور کپتان سرفراز خان کے ہاتھوں کیچ کرا دیا۔لیگ اسپنر شاداب خان نے یوراج کو ایل بی ڈبلیو کیا۔ دھونی نے کریز پر آتے ہیحسن علی کی گیند پر غیر ضروری اونچی شاٹ کھیل کر عماد وسیم کو کیچ تھما دیا جبکہ جادھو کو شاداب نے سرفراز کے ہاتھوں کیچ کرا دیا۔ پانڈیا نے چھ زبردست چھکے لگاتے ہوئے 76 رنز کی زبردست اننگ کھیلی۔ اس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ ہندوستان کم از کم اپنی شکست کو باعزت بنا دے گا، لیکن جڈیجہ کور میں گیند کھیل کر کریز پر آگے نکل آئے۔ انہیں آگے آتا دیکھ پانڈیا تیزی سے دوڑ پڑے لیکن چند قدم کے بعد جڈیجہ نے اپنے قدم واپس کریز میں کھینچ لئے اور پانڈیا رن آؤٹ ہوگئے۔ جڈیجہ کو یہاں اپنے وکٹ کی قربانی دینی چاہیئے تھی لیکن وہ ایسا نہیں کر پائے۔ پانڈیا نے اس پر کافی غصے کا اظہار کیا۔پانڈیا کا وکٹ 152 کے اسکور پر گرا اور پھر چھ رنوں کے بعد ہی بقیہ تین وکٹ بھی نکل گئے۔ ہندوستان کا آخری وکٹ گرتے ہی پاکستانی ٹیم اور اس کے حامیوں نے اوول میدان پر جشن منانا شروع کر دیا۔ عامر نے 16 رن پر تین وکٹ، حسن نے 19 رن پر تین وکٹ، شاداب نے 60 رن پر دو وکٹ اور جنید خان نے 20 رن پر ایک وکٹ لیا۔ پاکستان کی 1992 کے عالمی کپ اور 2009 کے ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ کے بعد یہ تیسری بڑی خطابی جیت ہے۔
اس کا 50 اوور کے کرکٹ میں یہ دوسرا آئی سی سی خطاب ہے۔ پاکستان نے پہلا میچ ہندوستان سے 124 رنز سے ہارا تھا اور فائنل میں اس نے 180 رن کی جیت سے اس حساب کو برابر کر لیا۔ پاکستانی جیت کے سب سے بڑے ہیرو رہے اوپنرفخرالزمان (114) جنہوں نے اپنے کیریئر کی پہلی سنچری لگاکر ٹیم کو چار وکٹ پر 338 رن کے مضبوط اسکور تک پہنچایا جو اس ٹورنامنٹ میں کسی ٹیم کا سب سے بڑا سکور تھا۔ہندوستان کے کپتان وراٹ کوہلی کے اوول میدان میں ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ سرے سے غلط ثابت ہو گیا۔ فخر نے اظہر علی (59) کے ساتھ پہلے وکٹ کے لئے 23 اوور میں 128 اور پھر بابر اعظم (46) کے ساتھ دوسرے وکٹ کے لئے 10.1 اوور میں 72 رن کی شراکت کی اور اپنی ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں پہنچا دیا۔ پاکستان کا 338 رن کا اسکور ہندوستان کے خلاف پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے اس کا سب سے بڑا اسکور ہے۔ اپنا چوتھا ون ڈے کھیل رہے فخر نے اس سے پہلے تین میچوں میں کل 138 رن بنائے تھے لیکن اس بار انہوں نے 106 گیندوں میں 12 چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے 114 رنز بنا ڈالے۔ فخر نے یہ سنچری ایسے وقت میں بنائی جب پاکستان کو ہندوستان کے خلاف بڑا اسکور بنانے کے لئے ایک بڑی اننگز کی ضرورت تھی۔ فخر کے جوڑی دار اظہر علی نے 71 گیندوں پر 59 رن میں چھ چوکے اور ایک چھکا لگایا۔ بابر اعظم نے 52 گیندوں پر 46 رنز میں چار چوکے لگائے۔ سابق کپتان محمدحفیظ نے 37 گیندوں پر ناٹ آوٹ 57 رن کی اننگز میں چار چوکے اور تین چھکے لگائے۔ عماد وسیم نے 21 گیندوں پر ایک چوکے اور ایک چھکے کی مدد سے ناٹ آوٹ 25 رن بنائے۔ شعیب ملک نے 12 رنز بنائے۔ پورے ٹورنامنٹ میں شاندار بولنگ کرنے والے ہندوستانی گیند بازوں نے فائنل میں حیرت انگیز طور پر کافی خراب بولنگ کا مظاہرہ کیا۔
ہندوستانی فیلڈروں نے بھی انتہائی خراب کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ جسپر?ت بمرا? تو چوتھے اوور میں 9 بال کر فخر کا وکٹ لینے سے چوک گئے۔آخر کا اس وقت اسکور تین رن تھا اور وہ وکٹ کے پیچھے مہندر سنگھ دھونی کے ہاتھوں لپک لئے گئے تھے۔ لیکن بمرا? کاپاوں کریز سے باہر تھا اور یہ گیند نو بال نکلی۔ فخرنے اس چانس کا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے کیریئر کی پہلی سنچری بنائی۔فخر اس طرح چیمپئنز ٹرافی میں سنچری بنانے والے سعید انور اور شعیب ملک کے بعد تیسرے پاکستانی بلے باز بن گئے۔ ہندوستانی گیند بازوں نے ابتدائی تین اوور اچھے ڈالے جس میں صرف چار رنز ہی گئے۔ لیکن اس کے بعد فخر اور اظہر کی شراکت نے ہندوستانی گیند بازوں کے حوصلوں کو پست کر دیا۔ انہوں نے ہندوستانی تیز اور اسپن گیند بازوں پر آسانی سے رن حاصل کئے۔ ہندوستان کے دونوں ہی اسپنر خاصے مہنگے ثابت ہوئے اور انہیں کوئی وکٹ نہیں ملا۔ آف اسپنر روی چندرن اشون نے 10 اوور میں 70 رن دئے جبکہ لیفٹ آرم اسپنر رویندر جڈیجہ نے آٹھ اوور میں 67 رن دیئے۔ بمرا? نے 9 اوور میں 68 رن دیئے۔ ہندوستانی گیند بازوں میں بھونیشور کمار ہی کچھ متاثر کن رہے جنہوں نے 10 اوور میں 44 رن دے کر ایک وکٹ لیا۔ ہاردک پانڈیا کو 10 اوور میں 53 رن پر ایک وکٹ اور پارٹ ٹائم آف اسپنر کیدار جادھو کو تین اوور میں 27 رن پر ایک وکٹ ملا۔ پاکستان کا پہلا وکٹ 128 کے اسکور پر گرا جب اظہر علی رن آؤٹ ہوئے۔فخر ٹیم کے 200 کے اسکور پر آؤٹ ہوئے۔ انہیں پانڈیا نے جڈیجہ کے ہاتھوں کیچ کرایا۔ شعیب ملک کو بھونیشور نے جادھو کے ہاتھوں کیچ ا?ؤٹ کرایا۔ بابر اعظم کا وکٹ جادھو نے اور کیچ یوراج نے لپکا۔ پاکستان کے چار وکٹ 267 رن تک گر گئے تھے لیکن حفیظ اور عماد وسیم نے پانچویں وکٹ کی ناٹ آوٹ شراکت میں 7.3 اوور میں 71 رن بنا ڈالے اور پاکستان نے ہندوستان کے خلاف ون ڈے میں اپنا دوسرا بہترین اور چیمپئنز ٹرافی کا دوسرا سب سے بہترین اسکور بنا ڈالا۔ ہندوستان نے 25 اضافی رنز بھی دیے جس میں 13 وائڈ اور تین نو بال تھیں ان میں سے ایک نو بال تو ہندوستان کو آخر میں ایسا بھاری پڑا جس کا بمراہ اور ٹیم انڈیا کو طویل عرصے تک افسوس رہے گا۔ “

Read all Latest sports news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from sports and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Champions zaman amir and pakistan in Urdu | In Category: کھیل Sports Urdu News

Leave a Reply