چمپینز ٹرافی کے سیمی فائنل میں ہند کو بنگلہ دیش سے چوکنا رہنا ہوگا

برمنگھم: سابقہ چمپئن ہندستان کو خطاب کا دفاع کرنے کے آمائشی موڑ پر کل جمعرات کو آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے دوسرے سیمی فائنل میں ہمسایہ ایشیائی ٹیم بنگلہ دیش سے مقابلہ کرنے میں بڑی احتیاط برتنی ہوگی جو ایک بار پھرایک بڑا الٹ پھیر کرنا چاہے گی۔ جہاں تک ہندستانی ٹیم کا تعلق ہے تو وراٹ کوہلی کی کپتانی میں ہندستانی ٹیم کسی سے کم نہیں بلکہ بڑھ چڑھ کر مقابلے میں ہے۔ وراٹ خود بھی پوری طرح فارم میں ہیں اورایک اہم سیمی فائنل مقابلے سے ٹھیک پہلے وہ دوبارہ آئی سی سی ون ڈے رینکنگ میں دنیا کے نمبر ایک بلے باز بن گئے ہیں اور اس طرح میچ سے پہلے ان کا قد اور اعتماد اور بھی بڑھ گیا ہے. ٹیم انڈیا کے لیے یہ یقینا بڑے حوصلے کی بات ہے۔ وراٹ نے بھی میچ سے پہلے کہا تھا کہ ان کی ٹیم مقابلے پر اتری کسی بھی ٹیم کو شکست سکتی ہے۔ ہندستان اور بنگلہ دیش دونوں ہی ایشیائی ٹیمیں ہیں۔ بنگلہ دیش چونکہ اپنی کارکردگی کے بل پر سیمی فائنل تک پہنچی ہے اس لئے ہندستان کو زیادہ محتاط رہنا ہوگا. نیوزی لینڈ کے خلاف پانچ وکٹ کی جیت کے بعد تو بنگلہ دیشی ٹیم کا اعتماد اور بھی بڑھ گیا ہے۔ باوجودیکہ نمبر ون کپتان کی قیادت میں ہندستان اپنے خطاب کا دفاع کرنے کا پوری طرح متحمل نظر آتا ہے۔ تجربہ کار وکٹ کیپر بلے باز مہندر سنگھ دھونی کی کپتانی میں 2013 میں ہندستان نے یہ خطاب جیتا تھا۔ اگرچہ ہندستان اسی ٹورنامنٹ میں پاکستان کو ایک طرفہ طور پر ہرا چکا ہے پھر بھی بنگلہ دیش کا سامنا کرنے سے پہلے ٹیم کو اپنے کھیل میں مزید بہتری پیدا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ دوسرے ہی میچ میں انڈر ڈاگ سری لنکا نے ہندستان کو سات وکٹوں سے ہرا دیا تھا۔
جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیم انڈیا نے فوری طور پر اپنی غلطی درست کرتے ہوئے تقریباً یک طرفہ انداز میں اسے آٹھ وکٹ سے شکست دے کر سیمی فائنل میں قدم رکھا تھا۔ تیز ہندستانی گیند بازوں کا اس میچ میں اہم کردار تھا۔ جس بھونیشور کمار اور جسپریت بمراہ نے دو دو اور ہاردک پانڈیا نے ایک وکٹ حاصل کیا تھا۔ ٹیم کے پاس محمد سمیع اور امیش یادو بھی اچھی اور تیز گیند بازی کے متحمل ہیں۔ اسپن گیند بازی کے شعبے میں لیفٹ آرم اسپنر رویندر جڈیجہ سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔ بالنگ میں کچھ کمیاں بھی ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان اور سری لنکا کے بلے بازوں نے ان کمیوں کا فائدہ اٹھا یا تھا۔ 10 اوورز میں بالترتیب 51 اور 44 رن بن گئے تھے۔ جنوبی افریقہ کو ہندستانی بلے بازوں نے ایس کوئی موقع نہیں دیا پھر بھی بنگلہ دیش کے ساتھ کھیلتے ہوئے محتاط رہنا ہوگا۔ اس ہمسائے کے پاس اچھے بلے باز ہی نہیں ان کی ترتیب بھی اچھی ہے۔ دیکھنا ہے کل کے اہم میچ میں آف اسپنر روی چندرن اشون کو موقع ملتا ہے یا ان کی جگہ تیز گیند بازی حملے میں امیش کو جگہ دی جاتی ہے جنہوں نے پریکٹس میچ میں بنگلہ دیش کو 16 رنز پر تین جھٹکے دیئے تھے۔ بھونیشور نے بھی تین وکٹ لئے تھے۔ٹورنامنٹ سے پہلے ہندستان اور بنگلہ دیش کے درمیان پریکٹس میچ میں ٹیم انڈیا نے 324 رن کا بڑا اسکور کھڑا کیا تھا جس کے تعاقب میں بنگلہ دیشی ٹیم صرف 84 رنز پر ہی ڈھیر ہو گئی تھی۔ اس میچ کو ہندستان نے 240 رنز سے جیتا تھا۔ دوسرے سیمی فائنل مقابلے میں ہندستان کو جہاں نیوزیلینڈ کے ساتھ بنگلہ دیش کے سلوک کے پیش نظر محتاط رہنا ہوگا وہیں پریکٹس میچ کا بنگلہ دیش پر بھی نفسیاتی اثر ضرور رہے گا۔۔
سیمی فائنل میں وراٹ کو جو ٹیم کے تیسرے بڑے اسکوررہیں 8000 ون ڈے رنز حاصل کرنے میں کامیاب ہونے کا بھی موقع رہے گا۔ وراٹ 182 ون ڈے میں اب تک 53.82 کی اوسط سے 7912 رنز بنا چکے ہیں اور انہیں اپنے 8000 رنز مکمل کرنے کیلئے بنگلہ دیش کے خلاف 88 رنز کی ضرورت ہے۔ وراٹ کو بہر حال اپنی نگاہیں ذاتی ریکارڈ سے زیادہ سابقہ چمپئن ہندستان کو ایک بار پھر فائنل میں پہنچانے پر مرکوز رکھنی ہوں گی۔ سلامی بلے بازی کے محاذ پر روہت شرما اور شکھر دھون کی جوڑی سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔ دھون فی الحال ٹیم کے ٹاپ اسکورر ہیں جنہوں نے ایک سنچری اور دو نصف سنچری سمیت سب سے زیادہ 271 رن بنائے ہیں۔ روہت ٹیم کے دوسرے بڑے اسکورر ہیں۔ اس کے علاوہ سٹار آل راؤنڈر یوراج سنگھ سے بھی اس میچ میں کافی امیدیں ہیں جو کیریئر کا 300 واں ون ڈے کھیلنے جا رہے ہیں. امید ہے کہ یوراج اس کامیابی کو یادگار بنانے کیلئے بڑی اننگز کھیلیں گے۔ یووی نے گزشتہ میچوں میں 23، 07 اور 53 غیر مفتوح رن بنائے ہیں۔ ٹیم کے پاس مضبوط اوپننگ آرڈر کے ساتھ تجربہ کار دھونی، پانڈیا اور جڈیجہ جیسے نچلے آرڈر میں لمبی ہٹیں لگانے کے ماہر بھی ہیں۔ سابق کپتان نے سری لنکا کے خلاف میچ میں 63 رنز کی سات چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے اہم اننگز کھیلی تھی۔
اگرچہ ہندستان یہ میچ 321 رنز بنانے کے باوجود نہیں بچا سکا تھا۔ وراٹ کا کہنا تھا کہ ٹیم کو اور رنز یعنی 321 سے بھی زیادہ رنوں کا پہاڑ کھڑا کرنے کی ضرورت تھی۔ ایسے میں سوچا جا سکتا ہے کہ ٹیم انڈیا بنگلہ دیش کے ساتھ بھی ایک بڑے اسکور کے مقصد کے ساتھ ہی میدان میں اترے گی۔ مشرف مرتضی کی بنگلہ دیشی ٹیم بھی کل منصوبہ بند طور پر ہی اترے گی اور ہندستان کے خلاف وہ اپنا پورا زور لگائے گی۔ گزشتہ سال ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش صرف ایک رن سے ہی ہارا تھا۔ ہندستان کی ہی طرح بنگلہ دیش میں بھی کرکٹ ایک جذبہ کی طرح ہے جس کے پاس تسکین احمد، شکیب الحسن، تمیم اقبال، محموداللہ اور مستفیض الرحمن جیسے میچ جیتنے والے کھلاڑی ہیں. نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میںصرف 33 رن پر چار وکٹ گنوانے کے بعد ثاقب اور محموداللہ نے جس طرح 224 رن کی ڈبل سنچری شراکت داری کی اسے بنگلہ دیشی ٹیم کی بہادری ہی کہا جا سکتا ہے۔ بنگلہ دیشی فاسٹ بالر مستفیض کا سامنا کرنے میں ہندوستانی بلے بازوں کو زبردست آزمائش سے گذرنا پڑ سکتا ہے۔

Read all Latest sports news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from sports and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Champions trophy semi final confident india face tricky bangladesh test in Urdu | In Category: کھیل Sports Urdu News

Leave a Reply