کوہلی کو ٹیم انڈیا میں شامل کرنے کی وکالت کرنے پر مجھے چیف سلیکٹر کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا: وینگسرکر

ممبئی: سابق ٹیسٹ کھلاڑی و چیف سلیکٹر دلیپ وینگسرکر نے کہا ہے کہ انہیں موجودہ کپتان وراٹ کوہلی کو قومی ٹیم میں شامل کرنے کی وکالت کرنے کے پاداش میں چیف سلیکٹر کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔
وینگسرکر نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے وراٹ کوہلی کو،جن کی قیادت میں ہندوستان نے 2008میں انڈر19ورلڈ کپ جیتا تھا، اسی سال سری لنکا کے دورے پر جانے والی ٹیم انڈیا میں شامل کرنے پر اصرار کیا تو اس وقت کے ہندستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ کے ذی اثر خازن سری نواسن نے ان کا چیف سلیکٹر کے طور پر پتہ ہی صاف کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ جب 2008کے دورہ سری لنکا کے لیے ٹیسٹ اور ون ڈے میچز کے لیے ٹیم تشکیل دینے کے لیے سلیکشن کمیٹی کا اجلاس ہوا تو انہوں نے ون ڈے میچز کے اسکواڈ مین وراٹ کوہلی کو شامل کرنے پر اصرار کیا لیکن اس وقت کے کپتان مہندر سنگھ دھونی اور کوچ گیری کرسٹن نہیں مانے۔ اگرچہ دیگر چار سلیکٹرز بھی ان سے متفق تھے۔
لیکن دھونی اور کرسٹن نے چونکہ کوہلی کو زیادہ نہیں دیکھا تھا اس کیے وہ تذبذب میںتھے۔تب میں نے کہا کہ میں نے کوہلی کی بیٹنگ دیکھی ہے اور اسے ٹیم میںلینا پڑے گا۔لیکن چونکہ میںجانتا تھا کہ وہ دونوں بدری ناتھ کو ٹیم میں شامل کرنے پر بضد ہیں کیونکہ وہ چنئی سوپر کنگز کے کھلاڑی تھے۔اور کوہلی کو شامل کیا جاتا تو بدری ناتھ کو ڈراپ کرنا پڑتا ۔
اور سری نواسن بدی ناتھ کو ڈراپ کیے جانے سے پریشان تھے کیونکہ وہ ان کی ٹیم چنئی سوپر کنگز کے کھلاڑی تھے۔لیکن بعد میں یہی طے پایا کہ کوہلی اور بدری دونوں کو شامل کر لیا جائے۔لیکن اس کے بعد وینگسر کر عہدے پر برقرار نہیں رہ سکے اور سری نواسن نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے انہیں برطرف کرکے سری کانت کو ،جو چنئی کے ہی رہائشی تھے،چیف سلیکٹر مقرر کر دیا۔

Title: backing of virat kohli in 2008 led to my removal as chief selector dilip | In Category: کھیل  ( sports )

Leave a Reply