انگلستان کو 8وکٹ سے شکست دے کر پاکستان چمپینز ٹرافی کے فائنل میں

کارڈف: کھیل کے ہر شعبہ میں انگلستان کو مات دیتے ہوئے پاکستان نے چمپینز ٹرافی کے فائنل میں داخلہ حاصل کر لیا۔ پاکستان نے یہ قابل ذکر کامیابی اعزاز کا مضبوط دعویدار قرار دیے جانے اور لیگ مرحلے میں غیر مفتوح رہنے والے انگلینڈ کو 49.5 اوور میں 211 رن پر ڈھیر کرنے کے بعد 37.1 اوور میں دو وکٹ پر 215 رن بنا کر حاصل کی۔ چیمپئنز ٹرافی کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوگا جب ایشیا کی دو ٹیمیں فائنل میں ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گی ۔ٹورنامنٹ کے آغاز میں ہندوستان سے اپنا پہلا میچ ہارنے کے بعد پاکستان نے شاندار واپسی کی اور جنوبی افریقہ اور سری لنکا کو شکست دینے کے بعد سیمی فائنل میں انگلینڈ کی مضبوط ٹیم کو بری طرح پسپا کر دیا۔ معمولی ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے اظہر علی اور فخر الزماں نے پہلے وکٹ کے لئے 21.1 اوور میں 118 نصف منزل طے کرکے ہدف کو مزید آسان بنا دیا۔ اظہر نے 100 گیندوں کی اپنی76رنز کی اننگز میں پانچ چوکے اور ایک چھکا لگایا جبکہ فخر نے محض 58 گیندوں پر 57 رن میں سات چوکے اور ایک چھکا لگایا۔ پاکستان کا دوسرا وکٹ 173 کے اسکور پر گرا لیکن اس وقت تک پاکستان ہدف کے اتنا قریبپہنچ چکا تھا کہ پاکستانی کرکٹ شیدائیوں نے جشن منانا بھی شروع کر دیا تھا اور انگلینڈ کے حامی مسلسل مایوس اور خاموش ہوتے چلے گئے۔ اور 38ویں اوور کی پہلی گیند پر پاکستان نے جیت کا رن بنا کر انگلینڈ کا تیسری بار فائنل میں پہنچنے اور پہلی بار خطاب جیتنے کا خواب چکنا چور کر دیا۔ بابر اعظم نے 45 گیندوں پر دو چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے نا قابل شکست 38 اور محمد حفیظ نے 21 گیندوں میں تین چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے ناقابل شکست 31 رن بنا کر پاکستان کو یادگار جیت دلا دی۔
حفیظ نے ٹیم کے لئے فتح چوکا مارا۔ اس سے قبل تیز گیندباز حسن علی کی قیادت میں گیند بازوں کی بااثر کارکردگی سے پاکستانی فاسٹ بولروں نے عمدہ باؤلنگ کا مطاہرہ کرتے ہوئے انگلینڈ کی اننگز 49.5 اوور میں 211 رن کے معمولی اسکور پر سمیٹ دی۔ حسن علی نے 35 رن پر تین ، جنید خان نے 42 رن پر دو اوررمان رئیس نے 44 رن پر دو وکٹ لیے۔ لیگ اسپنر شاداب خان نے 40 رن کے عوض ایک وکٹ لیا۔ انگلینڈ نے اچھے آغاز کے بعد درمیانی اووروں تک پہنچتے پہنچتے اننگز پر اپنی گرفت گنوا دی۔ اس کے بلے بازوں نے خود پر اتنا دباؤ بنالیا کہ وہ اس سے باہر نہیں نکل سکے۔ میچ سے پہلے امید تھی کہ میزبان ٹیم شاندار فارم کو برقرار رکھتے ہوئے اس سیمی فائنل میں بڑا اسکور بنائے گی لیکن فیصلہ کن مواقع پر اس کے بلے باز مسلسل غلطیاں کرتے چلے گئے۔ جانی بییرسٹو اور یلیکس ہیلز نے انگلینڈ کو اچھی شروعات دیتے ہوئے پہلے وکٹ کے لئے 5.5 اوور میں 34 رن بنائے۔ ہیلز 13 گیندوں میں 13 رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔ رمان رئیس نے ہیلز کا وکٹ لیا۔ بییرسٹو 57 گیندوں میں چار چوکوں کی مدد سے 43 رن بنانے کے بعد حسن علی کا پہلا شکار بنے۔ بییرسٹو کا وکٹ 80 کے اسکور پر گرا۔
جو روٹ 56 گیندوں میں دو چوکوں کی مدد سے 46 رن بنانے کے بعد جب آؤٹ ہوئے تو انگلینڈ کی ٹیم کو زبردست جھٹکا لگا جس کے بعد وہ سنبھل ہی نہ سکی اور وقفہ وقفہ سے اس کے وکٹ گرتے رہے۔ کپتان مورگن 53 گیندوں میں چار چوکوں کی مدد سے 33 اورا سٹار آل راؤنڈر بین اسٹوکس 64 گیندوں میں 34 رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔ حیرانی کی بات یہ رہی کہ ا سٹوکس اپنی اننگز میں ایک بھی باونڈری نہیں لگا سکے۔ حسن علی نے مورگن اورا سٹوکس کو بھی اپنا شکار بنایا اور چیمپئنس ٹرافی کے ایک ایڈیشن میں سب سے زیادہ وکٹ لینے والے پاکستانی گیند باز بن گئے۔ انہوں نے اب تک دس وکٹ لے کر آف اسپنر سعید اجمل کا 8وکٹ لینے کا ریکارڈ توڑ دیا۔جوس بٹلر چار، معین علی 11، عادل رشید سات اور لیام پلنکٹ نو رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔ بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز جنید خان نے بٹلر اور علی کو نمٹا یاجبکہ رئیس نے پلنکٹ کا وکٹ بھی لیا۔ انگلینڈ نے دو وکٹ پر 128 رن کی بہتر پوزیشن کے بعد اپنے آخری آٹھ وکٹ صرف 83 رن بنا کرگنوا دیے۔

Read all Latest sports news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from sports and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Ali help pakistan storm into champions trophy final in Urdu | In Category: کھیل Sports Urdu News

Leave a Reply