ویسٹ انڈیز کے ورلڈ کپ جیتنے سے افغانستان کا سر بھی فخر سے بلند ہوگیا

سید اجمل حسین
فائنل میں انگلستان کو شکست دے کرورلڈ کپ ٹی ٹونٹی جیتنے کی جتنی خوش ویسٹ انڈیز اور ان کے ہم وطنوں کو ہوگی اس سے کہیں زیادہ خوشی سے افغان قوم جھوم رہی ہوگی اور کرکٹ کی دنیا میں فخر سے سینہ پھلائے گھوم رہی ہوگی ۔ کیونکہ پورے ٹورنامنٹ افغانستان واحد ٹیم ہے جس نے ویسٹ انڈیز کو شکست دے کر کرکٹ شوقینوں کے ہی نہیں خود ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں کے دل جیت لیے تھے۔ اور وہ بھی افغانستان کی جیت پر ایسے مسرور ہوئے تھے کہ گیل سمیت کئی ویسٹ انڈیز کے کئی کھلاڑی افغانستان کی جیت کے جشن میں شامل نظرآرہے تھے۔ویسٹ انڈیز پر افغانستان کی جیت سے افغانستان ہر اس ٹیم کے خلاف خود کو فاتح محسوس کر رہا ہوگا جنہیں شکست دے کر ویسٹ انڈیز نے یہ کپ جیتا ہے۔کیونکہ سابق پاکستانی کپتان اور اپنے دور کے معروف بلے باز انضمام الحق کے زیر تربیت کھیلتے ہوئے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے پہلے راو¿نڈ سے سوپر 10کے اپنے پہلے تینوں میچوں میں اپنے خوبصورت کھیل اور ہر میچ میں حریف ٹیم کو برابر کی ٹکر دے کر کرکٹ شوقینوں کا دل جیتنے کے بعد افغانستان نے سوپر 10میں ایکمیچ بھی جیت کر جس طرح رواں ورلڈ کپ ٹی ٹونٹی کا سفر مکمل کیا وہ ناقابل فراموش ہے ۔
کیونکہ اس ٹورنامنٹ میں جس ویسٹ انڈیز ٹیم کو کوئی ٹیم شکست نہ دے سکی اسے جنگ و جدال سے بدحال افغانستان نے شکست دے کر ثابت کر دیا کہ لیگ میچوں میں اس نے تھوڑی اور محنت کر لی ہوتی یا اس کے پاس بھی دیگر ٹیموں کی طرح اپنے گھر میں سکون اور کرکٹ کا ماحول ہوتا تو شاید یہی ٹیم سیمی فائنل سے پہلے ہی وطن واپس لوٹ جانے کے بجائے ٹورنامنٹ میں نہ صرف کئی بڑے اپ سیٹ کرتی بلکہ بہت ممکن تھا کہ سیمی فائنل اور حتیٰ کہ فائنل تک پہنچنے میں بھی کامیاب ہو جاتی۔اس میں دور دور تک کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے۔ کیونکہ اس نے رواں ورلڈ کپ کے اپنے آخری میچ میں 2010کی ورلڈ کپ ٹی ٹونٹی چمپین، دو بارون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی چمپین شپ اورایک بار آئی سی سی چمپینز ٹر افی کی فاتح ویسٹ انڈیز کو شکست دینے سے پہلے اس نے ورلڈ کپ کوالیفائر ٹورنامنٹ میں تمام میچ جیت کر سوپر10میں پہلے تینوں میچوں میں ہار قبول کرنے سے پہلے جس طرح حریف ٹیم کے دانت کھٹے کیے اور انگلستان کے تو چھکے تک چھڑا دیے وہ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اگر اس ٹیم کے خانگی حالات سازگار ہوتے تو نہ معلوم اس افغان ٹیم کا سفر کہاں ختم ہوتا۔لیکن وطن روانہ ہوتے ہوتے یہ پیغام ضرور دے گئی کہ جلد یا بدیر وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں ایک ایسی طاقت بن کر ابھرے گی کہ جس طرح جغرافیائی اعتبار سے کوئی حملہ آور افغانستان فتح نہ کر سکا اسی طرح اس کی کرکٹ ٹیم کو بھی زیر کر نا آسان نہیں ہوگا۔کوچ انضمام الحق کی تربیت، محمد شہزاد، نجیب اللہ زردان،اصغر اسٹانک زئی، سمیع اللہ شنواری کی بیٹنگ ،محمد نبی اور 17سالہ راشد خان کی بولنگ اور اصغر اسٹانک زئی کی آل راو¿نڈ صلاحیتیں ایک روز رنگ لائیں گی اور وہ بہت جلد انٹرنیشنل کرکٹ میں افغانستان کو وہ اونچامقام دلادیں گے جس کا وہ مستحق ہے۔
ٹورنامنٹ میں سوپر 10کا ہر میچ جو افغانستان نے کھیلا اس کا واضح ثبوت ہے۔ پہلے میچ میں سری لنکا کے خلاف مقررہ 20اووروں میں 7وکٹ پر 153رنز بنانے کے بعد سری لنکا کو ہدف تک پہنچنے میں کامیاب ہونے سے پہلے جس طرح اس سے افغان بولروں نے پاپڑ بلوائے اس کے باعث سری لنکا کو ہدف تک پہنچنے کے لیے پورے19اوور کھیلنے پڑے۔اس میں کپتان استانک زئی کی تین چوکوں اور چار چھکوں کے ساتھ 47رنز پر 62رنز کی اور سمیع اللہ شنواری کی تین چوکوں اور دو چھکوں کے ساتھ صرف14گیندوں پر31رنز کی اننگز نے سری لنکا کے بولروں کے چھکے چھڑا دیے تھے۔جنوبی افریقہ کے خلاف اس میچ کو کون بھول سکتا ہے جس میں 203کے ہدف کا طوفانی انداز میں تعاقب کرتے ہوئے افغان بلے بازوں نے ورلڈ کلس بولنگ اٹیک کے خلاف پاور پلے کے 6اووروں میں ہی64رنز بنا کراور10اووروں میں ہی نصف منزل طے کر کے جنوبی افریقہ کے خیمے میں کھلبلی اور جنوبی افریقہ میں ٹی وی پر میچ دیکھ رہے جنوبی افریقی کرکٹ شوقینوں کی نیند اڑا دی تھی۔افتتاحی بلے باز شہزاد کی صرف19گیندوں پر تین چوکوں اور پانچ چھکوں کے ساتھ 44رنز کی اننگز آج بھی جنوبی افریقی بولروں کو خواب میں نظر آرہی ہوگی۔اور انگلستان کے خلاف تو لیگ اسپنر راشد خان اور محمد نبی نے جس تباہ کن بولنگ کا مظاہرہ کیا اس نے جہاں ایک طرف انگلستان کو 142کے معمولی اسکور تک محدود رکھا وہیں شفیق اللہ کی 20گیندوں پر 35رنز کی اننگز نے انگلستان کی شکست کا کافی حد تک سامان کر دیا تھا ۔
بدقسمتی سے افغانستان یہاں بھی چوک گیا اور صرف15رنز سے ہار گیا۔اس میچ تک تو افغان ٹیم صرف دل ہی جیتتی رہی۔لیکن اسے اپنے جنگ زدہ وطن میں مایوس ہم وطنوں کی خوشیوں کا بھی سامان کرنا تھا جو اگرچہ لیگ میچوں میں اس وقت تک کی غیر مفتوح ٹیم کے خلاف ممکن نظر نہیں آرہا تھا ۔لیکن ہمت مرداں مدد خدا واپسی میں ہم وطنوں کے لیے فتح کی سوغات لے کر جانے کی امنگوں کے ساتھ جب یہی افغان ٹیم میدان میں اتری تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ ویسٹ انڈیز ٹیم جسے ابھی تک گروپ میں کوئی ہرا نہیں سکا اور جس نے ہر میچ بڑی شان سے جیت کر سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی تھی اسے افغانستان سے نہ صرف زبردست چیلنج ملے گا بلکہ وہ دنیا کی ٹاپ8ٹیموں میں افغانستان سے شکست کھانے والی پہلی ٹیم بن جائے گی۔ اگر افغانستان کی کرکٹ اسی انداز میں نشوونما پاتی رہی تو ایک روز وہ دنیا کی مضبوط ترین ٹیموں میں سے ایک ہوگی ۔وہ تو ہندوستان، بنگلہ دیش، پاکستان اور سری لنکا خیر منائیںکہ افغانستان ایشیا کپ میں نہ کھیل سکا ۔ورنہ اگر یو اے ای کی جگہ اس نے کوالی فائی کیا ہوتا تو شاید اس ایشیا کپ کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا اوربہت ممکن تھا کہ ایشیا کپ افغانستان کے کرکٹ بورڈ کی زینت بنا نظر آرہاہوتا۔

Read all Latest sports news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from sports and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Afghanistan become the only team who defeat west indies in Urdu | In Category: کھیل Sports Urdu News

Leave a Reply