ہند کے500ویں ٹیسٹ میچ سے شروع ہونے والی سریز میں نوجوان کپتانوں وراٹ اور کین کا امتحان شروع

کانپور: (یو این آئی) ہندوستان کے وراٹ کوہلی اور نیوزی لینڈ کے کین ولیمسن دونوں ہی دنیا کے سرکردہ بلے بازوں میں جگہ بنا چکے ہیں اور جمعرات کوگرین پارک میں شروع ہونے جا رہی تین ٹسٹ میچوں کی سیریز میں ان پر اپنی اپنی ٹیموں کی کامیاب قیادت کی ذمہ داری رہے گی۔ ہندستان اور مہمان نیوزی لینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا مقابلہ گرین پارک میں شروع ہونے جا رہا ہے اور فی الحال دونوں ہی ٹیموں کے پاس بہترین کھلاڑیوں کی فوج ہے جو اپنی اپنی جیت کا دعوی کر رہے ہیں۔ویسے ہندستان میں نیوزی لینڈ کا پچھلا ریکارڈ کچھ خاص نہیں رہا ہے اور ایسے میں میزبان ٹیم کا ہی پلڑا فی الحال بھاری لگ رہا ہے جس کی قیادت وراٹ سنبھال رہے ہیں۔ ویسٹ انڈیز کی زمین پر چار ٹسٹ میچوں کی سیریز میں 2۔0 کی فتح دلانے والے وراٹ کا ملکی اور غیر ملکی زمین پر بطور کھلاڑی اور کپتان دونوں ہی کردار میں شاندار کارکردگی رہی ہے اور اگر وہ نیوزی لینڈ کے خلاف بھی ہندستان کو فتح دلاتے ہیں تو یہ بطور کپتان ان کی سیریز جیت کا ‘چوکا’ ہو گا۔وہیں دوسری جانب کین پر اپنی کیوی ٹیم کو ہندستانی زمین پر طویل عرصے بعد سیریز میں جیت دلانے کی بڑی ذمہ داری ہے۔ نیوزی لینڈ کا ہندوستانی زمین پر ٹیسٹ ریکارڈ کافی خراب رہا ہے جس میں اس نے کل 31 ٹیسٹ میچوں میں صرف دو ہی جیتےہیں۔کیوی ٹیم نے آخری بار ہندوستان میں 1988 میں ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم میں ٹیسٹ جیتا تھا۔اس کے بعد سے دونوں ٹیموں کے درمیان ہندستانی زمین پرکھیلے گئے14 ٹسٹ میچوں میں میزبان ٹیم نے چھ جیتے ہیں اور آٹھ ڈرا رہے ہیں۔ ہندستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے گئے آخری تین ٹیسٹ میچوں میں بھی تمام میچ ہندستان نے ہی جیتے ہیں۔ایسے میں کیوی ٹیم کی قسمت بدلنے کی ذمہ داری کین کے کندھوں پر ہے۔
ہندستانی ٹیم کے لیے بھی اپنے گھر میں یہ سیریز کئی معنوں میں اہم ہے۔ہندستان کا گھریلو سیزن میں مصروف ٹیسٹ پروگرام کا آغاز کیوی ٹیم کے خلاف ہو رہا ہے اور ایسے میں فاتحانہ آغاز آگے اس کے مقابلوں کے لیے حوصلہ دے گا تو وہیں یہ اس کا 500 واں ٹیسٹ بھی ہے۔ ہندستان نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے سفر کا آغاز 1932 سے کیا تھا اور 22 ستمبر 2016 کو وہ 500 ٹیسٹ کھیلنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن جائے گا۔ ساتھ ہی اسٹار کھلاڑی وراٹ نے اپنی پچھلی تین سیریز میں مسلسل کامیابی حاصل کی ہیں۔ انہوں نے سری لنکا میں ملک کو 22 سال کے وقفے کے بعد گذشتہ سال 2۔1 سے جیت دلائی، پھر جنوبی افریقہ کو گھریلو سیریز میں 3۔0 سے شکست دی اور حال میں ویسٹ انڈیز میں جا کر چار ٹسٹ میچوں کی سیریز 2۔0 سے جیت لی اور اب ان کی نگاہیں بھی جیت کا سلسلہ برقرار رکھنے پر ٹکی ہیں۔ٹیسٹ میں کچھ خاص نہیں کرنے کے باوجود سلیکٹرز نے روہت اور شکھر پر اعتمادظاہرکر کے انہیں ٹیم میں برقرار رکھا ہے اور یقینا اس سے دونوں بلے بازوں پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی ذمہ داری بڑھی ہے۔
ویسٹ انڈیز کے دورے پر گئی ہندستانی ٹیم کے 15 کھلاڑیوں کو ہی کیوی ٹیم کے خلاف اتارا گیا ہے لیکن اس سیریز میں روہت کو محض دو ٹسٹ میچوں میں کھیلنے کا موقع ملا جس میں انہوں نے 25 کے اوسط سے کل 50 رنز اور شکھر نے تین میچوں میں 34.50 کی اوسط سے 138 رنز بنائے۔وہیں ٹیسٹ کے ماہر کھلاڑی مانے جانے والے چتیشور پجارا کی فارم بھی تشویش کا موضوع بنی ہوئی ہے جن کا گزشتہ دو برسوں میں اسٹرائک ریٹ گر کر 42.39 تک پہنچ گیا ہے۔ پجارا نے کیریبین دورے پر بھی کوئی کمال نہیں کیا تھا اور تین میچوں میں 31 کی اوسط سے 62 رنز بنائے جس میں 46 رنز ان کی بڑی اننگز تھی۔لیکن حال ہی میں کھیلی گئی دل?پ ٹرافی میں پجارا نے واپسی سے اپنی زبردست ٹیسٹ فارم کا اشارہ دے کر نیوزی لینڈ کے خلاف آخری الیون میں جگہ بنانے کی دعویداری پیش کی ہے۔انڈیا بلیو کے لئے ان کی ناقابل شکست 256 رنز کی اننگز یقینا یادگار ہے، وہیں اس ٹورنامنٹ میں ان کی ٹیم کے ساتھی روہت نے بلے سے پھر کچھ خاص نہیں کیا اور 30 ??اور ناٹ آؤٹ 32 رنز بنائے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف بھی کوٹلہ میں کھیلے گئے تین روزہ پریکٹس میچ میں بھی روہت نے 18 رنز بنائے جبکہ ممبئی ٹیم کے تین بلے بازوں نے سنچری بنائی۔ روہت کی ہی طرح شکھر کی فارم پر بھی تشویش ہے جنہوں نے دلیپ ٹرافی میں بھی کچھ خاص متاثر نہیں کیا۔لیکن وراٹ کی پسند بن گئے نوجوان بلے باز لوکیش ضرور اوپننگ میں مضبوط دعویدار دکھائی دے رہے ہیں۔
لوکیش ویسٹ انڈیز کے دورے پر تین میچوں میں تیسرے سب سے زیادہ رنز بنانے والے تھے اور 78.66 کے اوسط سے انہوں نے ایک سنچری اور ایک نصف سنچری سمیت 236 رنز بنائے تھے۔لوکیش کا خیال ہے کہ کپتان وراٹ انہیں جس آرڈر پر بھی کھیلنے کے لیے کہیں گے وہ تیار ہیں وہیں رہانے بھی کیوی ٹیم کے خلاف اہم ہوں گے جنہوں نے گزشتہ سیریز میں وراٹ کے بعد سب سے زیادہ اسکور بنایا تھا۔وراٹ اس سیریز میں ڈبل سنچری لگانے کے ساتھ کل 251 رنز بنا کر بہترین اسکورر رہے تھے۔
بلے بازی کے ساتھ ساتھ بولنگ بھی ہندستان کیلئے جیت کا اہم فارمولا رہے گی تاہم چکن گنیا کے باعث پہلے ٹیسٹ سے باہر ہوئے تیز گیند باز ایشانت شرما کے جانے سے ٹیم انڈیا کو کچھ جھٹکا ضرور لگا ہے لیکن ایشانت کی غیر موجودگی میں ہندستانی اٹیک کی ذمہ داری بھونیشور کمار ، محمد شامی اور امیش یادو کے کندھوں پر رہے گی لیکن آخری الیون میں گیند بازوں کی صورت حال کا فیصلہ گرین پارککی پچ کی حالت کو دیکھ کر کیاجائے گا۔پچ خشک ہے اور اس میں دراڑ بھی ہیں۔کیوریٹر کے مطابق یہ پچ اتنا ٹرن نہیں کرے گی جتنا گزشتہ سال ناگپور کی پچ نے کیا تھا لیکن تیز گیند بازوں کو ریورس سوئنگ بھی مل سکتی ہے۔ اگر گیند کی رفتار کے ساتھ ریورس سوئنگ لینے کا امکان ہوتا ہے تو معاملہ یادو کے حق میں جا سکتا ہے۔اگر پچ میں ٹرن ہوتا ہے اور جس کا امکان بھی ہے تو ہندوستان تین اسپنروں سمیت پانچ گیند بازوں کے ساتھ کھیل سکتا ہے۔
ہندستانی زمین پر الٹ پھیر کے مقصد کے ساتھ اتری کیوی ٹیم کے لئے بھی بلے بازی میں اوپننگ جگہ کو لے کر انتخاب ایک بڑا چیلنج رہے گا۔جہاں ایک طرف مارٹن گپٹل کچھ خاص فارم میں نہیں چل رہے ہیں تو وہیں پریکٹس میچ میں سنچری جڑنے والے لیوک رونچی اوپننگ آرڈر کے دعویدار مانے جا رہے ہیں۔دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ میدان پر تین روزہ پریکٹس میچ کے آخری دن رونچی نے 107 رنز کی بے مثال اننگز کھیلی تھی اور بلے سے سب سے زیادہ کامیاب رہے۔ انہیں اس میچ میں گپٹل کے ساتھ اوپننگ میں بھیجا گیا تھا۔گپٹل نے نیوزی لینڈ کی پہلی اننگز میں اوپننگ کرتے ہوئے محض 15 رنز بنائے تھے تو دوسری اننگز میں وہ کھاتہ کھولے بغیر ہی واپس آ گئے جس سے ان کی فارم کو لے کر فکر پیدا ہو گئی ہے۔گپٹل کی ٹیسٹ میں فارم گزشتہ کچھ وقت سے خاص نہیں رہی ہے اور ایشیا میں ان کا ٹیسٹ اوسط 20.68 ہے۔

Read all Latest sports news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from sports and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: A landmark test to start landmark season in Urdu | In Category: کھیل Sports Urdu News

Leave a Reply