ہاکی میں بھی مسلم کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا جانے لگا

سید اجمل حسین
ابھی تک تو صرف کرکٹ میں ہی ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ مسلم کھلاڑیوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے لیکن اب ہاکی ٹیم میں بھی مسلم کھلاڑیوں سے ناانصافی شروع کر دی گئی۔جس سے تو یہی سمجھا جا سکتا ہے کہ جس طرح وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کو کانگریس سے پاک کرنے کا منصوبہ بنایا ہے شاید اسی طرح آر ایس ایس سمیت تمام مسلم مخالف ہندو تنظیموں کے دباو¿ میں وزارت اسپورٹس نے کرکٹ اور ہاکی دونوں ہی کھیلوں کومسلم کھلاڑیوں سے پاک کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حالانکہ آزادی ہند سے پہلے سے ہی کرکٹ ہو یا ہاکی دونوں کھیلوں میں مسلم کھلاڑیوں کا دبدبہ بھلے ہی نہ رہا ہو لیکن انہوں نے بارہا اپنے کھیل سے کرکٹ اور ہاکی دونوں کھیلوں میں ملک کا نام روشن کرنے اور عین وقت پر دونوں کھیلوں میں ہندوستان کی ساکھ بحال کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیے رکھا۔ حال ہی میں اختتام پذیر ورلڈ کپ ٹونٹی ٹونٹی میں محمد شامی کو نہ کھلانے کا نتیجہ دیکھ لیا کہ ٹیم انڈیا ورلڈ کپ جیتتے جتتے محمد شامی جیسے بولر کی عدم شمولیت کے باعث ہار گئی۔ جبکہ اس آخری اوور کے لیے محمد شامی جیسے بولر کی ہی ضرورت تھی جو ڈیتھ اووروں میں ظہیر خان کی طرح بولنگ کے فن سے پوری طرح واقف ہے۔ ازلان شاہ ہاکی کپ کو فائنل تک پہنچانے کا کام بھی ایک مسلم مڈ فیلڈر دانش مجتبیٰ نے ہی کیا۔ لیکن اس کے باوجود تمام کھلاڑیوں کی تعریفوںکے پل باندھے جارہے ہیں لیکن نہ تو کوئی دانش مجتبیٰ کے اس کھیل کی تعریف کر رہا ہے جس میں انہوں نے اپنے فارورڈوں کو مڈ فیلڈ سے بڑے نپے تلے اور حریف دفاع کو چکمہ دینے والے پاسوں سے گول پوسٹ پر حملے کرنے کے موقع دیے جس سے ملیشیا کا دفاع ایسا پست ہوا کہ ہندوستان6-1سے وہ میچ جیت کر فائنل کھیلنے کا حقدار ہو گیا۔اس وقت صرف دانش مجتبیٰ ہی نہیں بلکہ انڈین ہاکی لیگ میں ممبئی کی طرف سے کھیلنے والے مڈفیلڈر رضی رحیم اور فارورڈ عفان یوسف قومی ٹیم میں شامل کیے جانے کے مستحق تھے ۔لیکن ہندوستانی ہاکی سے بھی کرکٹ کی طرح مسلم نمائندگی بتدریج کم ہوتی جارہی ہے۔ابھی زیادہ پرانی بات نہیں ہے جب ہاکی اور کرکٹ دونوں کھیلوں کی قومی ٹیم میں مسلم نمائندگی اچھی خاصی ہوا کرتی تھی۔کرکٹ میں بیک وقت محمد اظہر الدین، وسیم جعفر اور محمد کیف اور اس کے بعد محمد کیف ،ظہیر خان اور عرفان پٹھان اور پھر ؓظہیر خان ، مناف پٹیل ، عرفان پٹھان اور یوسف پٹھان رہے۔ اسی طرح ہاکی میںمسلم کھلاڑیوں کی ایک طویل فہرست فیروز خان،علی شوکت ، محمد اسلم، لعل بخاری،سید جعفر اور مسعود منہاس سے ہوتے ہوئے ظفر اقبال ، سید علی،محمد شاہد اور جلال الدین ، ریاض نبی محمد اورعمران خان تک ایسی رہی کہ ہر بار قومی ٹیم میں کم از کم دو مسلم کھلاڑی ضرور رہے۔لیکن آج صورت حال اس کے برعکس ہے۔ حالانکہ ازالان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ کے لیے دانش مجتبیٰ کے ساتھ رضی رحیم یا عفان کو شامل کر کے کم از کم دو مسلم کھلاڑیوں کی تعداد برقرار رکھی جاسکتی تھی ۔کیونکہ ہندوستانی ہاکی کو روز اول سے ہی ایک طاقتور ہاکی ملک کا درجہ کا مستحق قرار دلوانے میں مسلم کھلاڑیوں نے ایک اہم کردار ادا کر کے ہندوستان پر احسا ن کیا ہے ۔
اگر کرکٹ میں بیرون ملک پہلی ٹسٹ سریز جتوانے کا سہرا ایک مسلم کپتان منصور علی خان پٹوڈی کو جاتا ہے تو اسی طرح اولمپک میں پہلا گولڈ میڈل جتوانے والی ٹیم میں فیروز خان اور علی شوکت کی کارکردگی قابل ذکر رہی۔اس کے بعد1932میں بھی جب اولمپک ہاکی میں ٹیم انڈیا کو گولڈ میڈل ملاتو اس میں بھی محمد اسلم، لعل بخاری،سید جعفر اور مسعود منہاس کی کارکردگی نمایاں رہی۔اگر قبل از آزادی دو بار ہندوستان کو اولمپک ہاکی میں طلائی تمغہ دلانے میں پانچ مسلم کھلاڑیوں کا رول رہا آزادی کے بعد پہلے ہی سال ہندوستان نے جو اولپمک گولڈمیڈل جیتا اس میں بھی جن مسلم کھلاڑیوں کا نمایاں رول رہا ان میں ایک اختر حسین تھے جنہیں ہاکی کی تاریخ میں دو ملکوںکے لیے میڈل جیتنے والے پہلے کھلاڑی ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے 1948میں ہندوستان کے لیے لندن اولمپک میں گولڈ میڈل جیتا تو پاکستان ہجرت کرجانے کے بعد1956میں ملبورن اولمپک میں پاکستان کے لیے نقری تمغہ جیتا۔اختر حسین کے ساتھ1948میں اولمپک گولڈ جیتنے والے دوسرے مسلم کھلاڑی لطیف الرحمٰن تھے۔لیکن اس کے بعد لگاتار تین اولپک کھیلوں میں کوئی مسلم کھلاڑی ہاکی ٹیم میں نہیں لیا گیا۔ غالباً اس کا سبب 1947کے دوران ہوئی مار کاٹ اور فرقہ پرستی کا زور ہونا تھا۔ لیکن 1964میں24سالہ سید مشتاق علی نے ٹیم میں مسلم نمائندگی کی اور انہوں نے بھی گولڈ میڈل جتوانے میں اہم کردار ادا کیا۔1968میں بھی کانسہ کا تمغہ جیت کر ہندوستان کی ساکھ بچانے میں دو مسلم کھلاڑیوں انعام الرحمٰن اور منیر سیٹھ کا کافی دخل رہا۔ایسا ہی کچھ ایشیا ئی کھیلوں میں بھی ہوا جب مسلم کھلاڑی دانش مجتبیٰ کی موجودگی کے باعث ہی ہندوستان16سال کے طویل وقفہ کے بعد ہاکی میں طلائی تمغہ جیتنے میں کامیاب ہو سکا۔مجموعی اعتبار سے دیکھا جائے تو کرکٹ ہو یا ہاکی، فٹبال ہو یا ٹینس جب بھی مسلم کھلاڑیوں کو موقع ملا انہوں نے ہندوستان کا سر فخر سے بلند کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔لیکن یہ مسلم کھلاڑیوں کی بد قسمتی ہے کہ وہ اچھی پرفارمنس دکھانے کے باوجود قومی ٹیم میں جگہ نہیں پا رہے۔ اور ان کو ٹیم میں جگہ ملنا اسی وقت ممکن ہے جب کم از کم کرکٹ اور ہاکی کے کھلاڑیوں کا انتخاب کرنے والے سلیکشن کمیٹی کی میٹنگ میں تعصب کی عینک اتارکر فیصلہ کریں۔

Read all Latest sports news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from sports and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: 2133 in Urdu | In Category: کھیل  ( sports ) Urdu News

Leave a Reply