ڈیموکریسیفورم اور ہنری جیکسن سوسائٹی کے زیر اہتمام پاکستان اور دہشت گردی پر سمینار کی رپورٹ

ڈیموکریسی فورم اور دی ہنری جیکسن سوسائٹی کے زیر اہتمام 15ستمبر کو لندن کے سنیٹ ہاؤس یونیورسٹی میں ”کیا پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے یا اس کا سرپرست“؟ کے عنوان سے ایک سمینار منعقد ہوا ۔اس سمینار میں ماہرین تعلیم، محققین ، سیاست داں اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔اس مباحثہ کی انسٹی ٹیوٹ آف کامن ویلتھ اسٹڈیز کے ڈاکٹر ولیم کراؤلی نے صدارت کی۔100سے زائد حاضرین جلسہ نے اس موضوع پر جارج ٹاؤن یونیورسٹی واشنگٹن کی ڈاکٹر کرسٹائن فئیر ، اوکلاہامہ یونیورسٹی کے ڈاکٹر عاقل شاہ، پاکستانی صحافی و مصنف عرفان حسین، ہورو ایسٹ اینڈ کائل آرٹن سے کنزرویٹیو ممبر پارلیمنٹ اور دی ہنری جیکسن سوسائٹی کے ریسرچ فیلو باب بلیک مین پر مشتمل پانچ مقررین کے پینل کے خیالات کو بغور سنا۔حاضرین جلسہ میں غیر ملکی و دولت مشترکہ دفتر کے مشاہدین اور پاکستان،نیپال، روس ،کرغیز جمہوریہ، یوکرین اور ہندوستان کے سفارت کار بھی شامل تھے۔ڈاکٹر فئیر نے ”پاکستان:اسلامی دہشت گردی کا مجرم ،اسلامی انتہا پسندی کا شکار“ کے موضوع پر اسکائپی کے توسط سے حاضرین سے خطاب کیا۔
انہوں نے گذشتہ20سال کے دوران پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات اور مختلف سروے اور مطالعات کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا ۔انہوں نے اس کا اعادہ کیا کہ اس کے وافر ثبوت دستیاب ہیں کہ پاکستانی سیکورٹی ادارے مذہبی انتہاپسند تنظیموں کی حمایت و اعانت کر رہے ہیں۔ انہوںنے اس قسم کی دہشت گردی کی مقامی حمایت کا تجزیہ کیا اور بتایا کہ دہشت گردوں کو سب سے زیادہ حمایت پنجاب میں حاصل ہے۔یہ وہی صوبہ ہے جہاں سے پاکستانی فوج بھی سب سے زیادہ بھرتیاں کرتی ہے۔ فئیر نے دستیاب وافر شواہد کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پاکستان دہشت گردی کا مجرم ہے۔ڈاکٹر فئیر کے خیالات کا لب لباب یہ تھاکہ خارجہ پالیسی کے آلہ کے طور پر دہشت گردی پر پاکستان کا انحصار خود اسی کے لیے پیر تسمہ پا بن گیا۔اور اب وہ ان دہشت گرد گروپوں کے خلاف نبرد آزما ہے اور ان سے چھٹکارہ پانا چاہتا ہے لیکن وہ جتنا چھٹکارہ پانا چاہتا ہے وہ دہشت گرد گروپ اپنی رسی نما ٹانگوں کو پاکستان کے گلے کا پھندہ بناکر صاف اعلان کر دیتے ہیں کہ ان پر اب اس کا کنٹرول نہیں رہا۔ جب بھی پاکستان میں جمہوری طور پر منتخب حکومت ہندوستان سے ممکنہ مصالحت و مفاہمت کی جانب کامیاب پیش رفت کرتی نظر آتی ہے پنجابی غلبہ والی فوج ہندوستان میں دہشت گردانہ حملے کراکے اسے سبو تاژ کر دیتی ہے۔حالیہ پٹھان کوٹ حملہ اسی طرح سبوتاژ کرنے کی تازہ مثال ہے اور اس سے قبل کارگل حملہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھا۔
عرفان حسین کا موضوع بحث ”پاکستان دہشت گردی کا شکار اور ذریعہ“تھا جس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے قیام کے وقت سے ہی دہشت گردی کو ایک آلہ کے طور پر استعمال شروع کیا۔ اس نے 1948میں غیر فوجی قبائلی عوام کو بھیج کر جس نے کشمیر کے ایک حصہ پرقبضہ کر کے کشمیر کو دو حصوں میں منقسم کر دیا، اس دہشت گردی کا آغاز کیا تھا۔اس کے بعد اس نے ڈھاکہ میں مقامی نیٹ ورک جماعت اسلامی کو آلہ کار بنا کر 1971میں بنگالیوں کا قتل عام کرایا اور دہشت گردی کو سرحد پار بر آمد کرنا شروع کر دیا۔مزید برآں دہشت زدہ کیے رکھنے کے لیے اب اس نے ایٹم بم و جوہری اسلحہ کے استعمال کی دھمکی دے رکھی ہے۔انہوں نے یہ کہتے ہوئے اپنی بات مکمل کی کہ پاکستان اب اپنے ہی پالے ہوئے سنپولیے کو ا ژدہے میں بدل چکا ہے جو آئے روز اسے بھی ڈستا رہتا ہے ۔اس عفریت کے بارے میں پاکستانی فوج نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ اسی کے پروردہ جہادی ایک روز اپنے سابق آقاؤں کو ہی نشانہ بنانے لگیں گے۔
باب بلیک میل نے ”کشمیر میں پاکستان کی زیر سرپرستی دہشت گردی اورچین پاکستان اقتصادی راہداری برصغیر کے لیے خطرہ“ کے عنوان سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شواہد اس امر کے غماز ہیں کہ پاکستان ہی جموں و کشمیر میں، جو کہ ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے، دہشت گردی کا مجرم ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان وادی میں ہندووں کی نسل کشی کے لیے اپنے کارندے چھوڑے ہوئے ہیں ۔پاکستانی حمایت یافتہ انتہا پسند کشمیر میںتمام غیر مسلموں کے نسلی صفایہ کا تہیہ کیے ہوئے ہیں اور ہندوستان میں آئے روز ہونے والے دہشت گردانہ حملے پاکستان میں بیٹھے عناصر کراتے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیر کے ایک حصہ پر پاکستان کا غیر قانونی تسلط ختم ہو جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ علاقائی سمندر ی و فضائی راستوں پر کنٹرول کی کوشش میں ہندوستان کو گھیرنے کے لیے چین نے پاکستان کے ساتھ ساز باز کر کے چین پاکستان اقتصادی راہداری وکا منصوبہ تیار کیا۔انہوںنے کہا کہ جب تک پاکستان دہشت گردی بند نہیں کر دے گا خطہ میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔انہوں نے ہندوستان ، برطانیہ، امریکہ ، آسٹریلیا اور اسرائیل جیسے تمام جمہوری ملکوں سے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف متحد ہو جائیں اور باہمی تعاون میں اضافہ کریں۔
ڈاکٹر عاقل شاہ نے کہا کہ پاکستان فوج دہشت گردی سے نبرد آزما نہیں ہے۔وہ محض چند دہشت گرد گروپوں سے لڑ رہی ہے۔انہوںنے کہا کہ فوجی حکمراں یہ دعویٰ کرتے ہوئے اپنے مسائل کوخارجی رنگ دے رہے ہیں کہ دشمنان پاکستان پاکستان کے داخلی عدم استحکام کا فائدہ اٹھا کر ملک کو کھوکھلا کررہے ہیں۔انہوں نے کہا پاکستانی فوج اچھے ، برے اور بدصورت دہشت گردوں کی درجہ بندی کر رہی ہے۔اچھے گروپ کا اس کا مقصد حقانی نیٹ ورک اور لشکر طیبہ سے ہے جو ملک گیر پیمانے پر چندہ بٹورنے کے مجاز ہیں۔دوسرے گروپ جنہیں برا کہا جاتا ہے اور ابھی ان کی نکیل کسی جا سکتی ہے اور حکومت اسے استعمال بھی کر سکتی ہے۔ بدصورت گروپ تحریک طالبان پاکستان جیسے گروہ ہیں جو ناقابل مصالحت ہیں اور فوج انہی کے خلاف لڑ رہی ہے۔ اس امر کا اعتراف کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی جارہی ہے کہ اس پالیسی یا ان گروپوں کے ساتھ نظریات ، افرادی قوت یا رابطے کے تبادلہ سے خود پاکستان پر کاری ضرب لگ رہی ہے۔
کائل آرٹن نے اس پر اتفاق کیا کہ پاکستان کو جو دہشت گردی ناسور بن کر اذیت سے رہی ہے وہ اس کی خود پیدا کردہ ہے۔ کشمیر کے حوالے سے ہندوستان پر دباؤ بنانے کے لیے خارجہ پالیسی کے جزو کے طور پر دہشت گردی کا استعمال خود پاکستان کی گلے کی ہڈی بن گیا اور پاکستان اندرونی جنگ میں ہی الجھنے پر مجبور ہو گیا۔دہشت گرد گروپوں کو، خاص طور پر 1980میں جنرل ضیاءکے دور میں جائز قرار دینے کی پالیسی نے انتہا پسند گروپوں کے لیے فوج اور اس کی آئی ایس آئی سے آزادی حاصل کرنے کا راستہ کھول دیا۔
ہر مقرر کی تقریر کے بعد براہ راست سوال جواب کاسلسلہ شروع ہوا۔ قوم پرستوں اور ان کے حامیوں کی ماؤرائے عدالت ہلاکتوں، بلا جواز قید اور گمشدگیوں کی مثالوں کے ساتھ بلوچ قوم پرستوں پر مظالم کے حوالوں سے معاملات پر سوالات کیے گئے۔پاکستان مقبوضہ کشمیر کے کشمیری رہنماؤں نے بتایا کہ نیشنل ایکشن پلان کو گلگت بلتستان اور پاک مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کو دبانے و کچلنے کے لیے استعمالکیا جارہا ہے ۔ان رہنماؤں نے بابا جان کو 40سالہ سزائے قید اور جے کے این اے پی کے تین کارکنوں کی گرفتاری کا بھی معاملہ اٹھایا۔
سمینار میں مجموعی اعتبار سے جس جذبات کا پورے جوش سے اظہار کیا گیا ہے ان میں پاکستان کو دہشت گری کا مجرم بتایا گیا ۔سمینار میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان دہشت گردی کو اپنی خارجہ پالیسی کے جزو کے طور پر استعمال کر کے خود اپنے ہی جال میں پھنس گیا اور دہشت گردی کی ایسی وبامیں مبتلا ہے جو وہاں سے جانے کا نام نہیں لے رہی۔اس روشنی میں ساؤتھ ایشیا ڈیولپمنٹ فورم بروسلز کی اس رپورٹ کا ذکر کیا گیا جس میں اس بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ پاکستانی فوج ہند پاکستان تعلقات کو پٹری سے اتارنے کے لیے کس طرح وقتاً فوقتاً سرحد پار دہشت گردانہ کارروائیاں کراتی ہے۔

Read all Latest press release news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from press release and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: The democracy forum and the henry jackson society hosted a seminar in Urdu | In Category: Press Release Press release Urdu News

Leave a Reply