ہندوستان اور افغانستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے پس پشت پاکستان کی آئی ایس آئی کا ہاتھ:ماہرین

نئی دہلی: افغانستان اور ہندوستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے والے دہشت گردوں کو تربیت حاصل کرنے اور چندے کی شکل میں مالی اعانت حاصل کرنے کے لیے اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت دینے پرکیا بین الاقوامی برادری کوپاکستان کے خلاف کارروائی نہیں کرنا چاہئے۔ کیا مختلف حیلے بہانوں اور ذرائع سے اسلامی دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے میں پاکستان کے رول کے پیش نظر امریکہ کو اس کی تمام فوجی امداد بند نہیں کر دینی چاہئے۔
یہ اور دیگر معاملات وہ موضوعات ہیں جن پر گذشتہ روز یہاں لندن ۔نئی دہلی ویڈیو نیوز کانفرنس میں سیر حاصل مباحثہ کیا گیا۔ سیکورٹی ماہرین اور صحافیوں نے ، جوگذشتہ روز لندن میں اس موضوع پر منعقد ہونے والے اس سمینار میں اظہار خیال کر رہے تھے،میڈیا سے خطاب کیا اور ان کے سوالات کا جواب دیا۔ موضوع بحث یہ تھا: آیا پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے یا اس کا سرپرست؟جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سی کرسٹیانے فئیر نے کہاکہ پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں مصروف اسلامی دہشت گرد گروپوں کے پس پشت پاکستان کی آئی ایس آئی کا ہاتھ کارفرما ہے اور سرحد پار دہشت گردانہ حملے کرانے میں ملوث ہونے کی پاداش میں پاکستان پر بین الاقوامی پابندیاں عائد کی جانی چاہئیں۔
pak-1
لندن مقیم ایک سینیئر صحافی کیلاش بدھوار نے اپنا خیال ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا قیام گذشتہ صدی کی سب سے بڑی اور فاش غلطی تھی۔ اور اس کی سزا آج تک اسلامی دہشت گردی کو پاکستانی حمایت و اعانت کی شکل میںبھگتی جارہی ہے۔اوکلاہاما یونیورسٹی میں ساؤتھ ایشین اسٹڈیز کے پروفیسر ڈاکٹر عاقل شاہ نے کہا کہ پاکستانی فوج اور حکومت سمجھتی ہے کہ وہ اپنی من مانی کر سکتے ہیں، جو چاہیں کر سکتے ہیں اور کوئی ان کو روکنے یا ٹوکنے والا تک نہیں ہے۔اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور دیگر ممالک کو یہ واضح کر دینا چاہئے کہ پانی سر سے اونچا اور صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے اور اب دہشت گردوں کو پاکستانی فوج اور حکومت کی امداد و حمایت ہر گز برداشت نہیں کی جائے گی۔
ڈاکٹر فئیرنے اس پر کڑی تنقید کی کہ باوجود اس کے کہ پاکستان دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے اس کو فوجی امداد بہم پہنچائی جا رہی ہے ۔انہوں نے اس امداد کا موازنہ ایسے بلینک چیک سے کیا جس کے مضر اثرات یہ مرتب ہو رہے ہیں کہ اس کا خمیازہ خود امریکہ کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔
لندن مقیم ایک اور صحافی لووینا ٹنڈن نے کہا کہ اس معاملہ پر سمینار میں گرما گرم مباحثہ ہوا اور عام خیال یہ پایا گیا کہ پاکستان یا تو یہ یقین دہانی کر ائے کہ وہ دہشت گردی کی حمایت نہیں کرے گا یا پھر دنیا میں تنہا اور الگ تھلگ ڈال دیے جانے اور بین الاقوامی کارروائی کے لیے تیار رہے۔
لندن میں سمینار اور نئی دہلی میں نیوزویڈیوکانفرنس ڈیموکریسی فورم کے زیر اہتمام منعقد ہوا تھا۔

Read all Latest press release news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from press release and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Pak isi behind cross border terrorism in india and afghanistan experts in Urdu | In Category: Press Release Press release Urdu News

Leave a Reply