امیت شاہ کو حزب اخلاف کے اتحاد پر اپنا خیال بدلنا پڑے گا

سید اجمل حسین

2014کے عام انتخابات مٰں شاندار مظاہرہ کرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی( بی جے پی ) نے جب لوک سبھا اور اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں سیٹیں گنوانی شروع کیں تو اس کے صدر امیت شاہ اور بی جے پی حامیوں کو یہ سوچ کر اطمینان ہو ا رہا کہ جس ریاست میں بھی ضمنی انتخابات میں اس نے اپنی کوئی لوک سبھا یا اسمبلی سیٹ گنوائی اسی ریاست میں جب اصل انتخابات ہوئے تو وہ2014کے لوک سبھا انتخابات کی کہانی دوہراتی رہی۔ یہاں تک کہ جب گجرات انتخابات سر پر آئے تو ہوا کا ر خ دیکھ کر سب نے یہ بھانپ لیا تھاکہ گجرات بچانے کے لیے بی جے پی کو جو جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے اس کے اثرات دیگر ریاستوں میں ہونے والے انتخابات پر پڑسکتے ہیں ۔لیکن کسے معلوم تھا کہ گجرات میں جیتنے کے لیے ہاتھ پیر مارنے والی کیفیت کرناٹک اور اس کے بعد ہونے والے اسمبلی و لوک سبھا ضمنی انتخابات تک ایسی انگڑائی لے گی کہ بی جے پی صدر امیت شاہ کو اپنے اس خیال کو بدلنا ہو گا کہ حزب اختلاف کی جماعتیں کتنی ہی متحد کیوں نہ ہو جائیں بی جے پی کا بال بھی بیکا نہیں ہو سکتا۔

امیت شاہ کو اب یہ بھی احساس ہو چلا ہے کہ بی جے پی اب کی بار عام انتخابات میں وہ شاندار فتح حاصل نہیں کر سکے گی جو اس نے تنہا نریندر مودی کے دم پر جیت کر قومی جمہوری اتحاد کی دیگر پارٹیوں کو ایسی صورت حال سے دوچار کر دیاتھا کہ ان مٰیں کوئی بھی نہ تواپنی مرضی کی وزارت مانگ سکتی تھی اور نہ ہی زیادہ وزارتوں کا مطالبہ کر سکتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ابھی تک امیت شاہ یہی کہتے رہے کہ اب بی جے پی کو کسی کے سہارے کی ضررت نہیں ہے۔ یہاں تک کہ جب حلیف پارٹیوں نے آنکھیں دکھانا شروع کیں اور اپنی کچھ باتیں منوانے میں ناکام رہنے پر این ڈی اے سے باہر ہونے کی دھمکیاں دینا شروع کیں تو امیت شاہ نے بھی بناگ دہل اعلان کیا کہ این ڈی اے سے کسی پارٹی کے نکل جانے سے اقتدار میں واپسی کے بی جے پی کے امکانات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔اور جب چندر بابو نائیڈو کی تیلگو دیشم نے این ڈی سے باہر نکلنے کا اعلان کیا تو امیت شاہ نے فوراً جواب دیاکہ این ڈی میں کسی کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔کیونکہ تیلگو دیشم باہر گئی تو نتیش کمار کی جنتال یونائیٹڈ(جے ڈی یو) این ڈی اے میں آگئی۔ جے ´دی یو نےین ڈی اے میں آنے کا اعلان تو کردیا اور بہار مین حکومت بھی بنا لی لیکن خود نتیش کمار کے حامیوں کو یہ کھیل پسند نہیں آیا۔ اور کوئی عجب نہیںکہ ادھر2019کے عام انتخابات کا اعلان ہو اور ادھو جے ڈی یو کے ارکین پارٹی چھوڑ کر غیر بی جے پی پالے میں آنے کا اعلان کردیں۔

امیت شاہ کی آنکھ اس وقت کھلی جب انہوں نے کرناٹک کے بعد ہونے والے لوک سبھا و اسمبلی ضمنی انتخابات میں متحدہ حزب اختلاف کے خلاف اپنی پارٹی کی حالت دیکھ لی کہ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ ٰیوگی ادتیہ ناتھ کے مستعفی ہونے سے خالی ہونے والی گورکھپور لوک سبھا سیٹ ہارنے کے بعد یو پی کی ہی اہم ترین کیرانہ سیٹ پر بی جے پی کی عزت داو¿ پر لگی تھی اور سبھی کی نظریں اس پر تھیں کہ کیا بی جے پی مودی جادو جگا کر متحدہ حزب اختلاف کے خلاف تسلسل سے شکست پر بریک لگادے گی یاحزب اختلاف کیرانہ جیت کر یو پی میں بی جے پی کو ہرانے کی ہیٹٹرک کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔کیونکہ متحدہ حزب اختلاف مارچ میں گورکھپور اور پھولپور لوک سبھا سیٹوں سے ہاتھ دھو چکی تھی۔اس شکست کے بعد تو امیت شاہ پہلی بار حرکت مین آئے اور انہیں احساس ہو گیا کہ اگر 2019سے پہلے پارٹی کی یہی حالت رہی اور دو چار س لوک سبھا سیٹوں پر پھر ضمنی انتخابات ہوئے تو بی جے پی کی حیثیت صرف سب سے بڑی واحد پارٹی کی ہی رہ جائے گی ۔اور اس وقت اسے ان حلیف پارٹیوں کا ہی منھ تکنا پڑے گا جنہیں امیت شاہ اکثریتی غرور میں خاطر میں نہیں لا رہے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ امیت شاہ نے راتوں رات اپنا موقف بالائے طاق رکھا اور حمایت کے لیے قبل ازوقت حلیف پارٹیوں سے رابطہ کرنا شروع کر دیا۔اور شیو سینا نے تو کھل کر کہنا شروع کر دیا کہ جہاں ایک طرف مودی پوری دنیاکی سیر کر نے میں لگے ہیں وہیں امیت شاہ اندرون ملک گھوم رہے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ بی جے پی حلیف پارٹیوں کو منانے میں کامیاب ہوتی ہے یا وہ حلیف پارٹیاں بایاں بازو کی پارٹیوں کے ساتھ ایک تیسرا محاذ بنا کر پرنب مکھرجی کو وزیر اعظم امیدوار بنا نے کی چال چل کرآر جے ڈی، کانگریس اور ترنمول کانگریس کو تیسرے محاذ میں شامل کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔ یہ وہ داو¿ ہوگا جو 2019میں اقتدار میں واپسی کے امیت شاہ کے خواب کو چکنا چور کر سکتا ہے۔کیونکہ وہابھی تک یہی سمجھ رہے تھے کہ بی جے پی کی 2014میں جو پذیرائی ہوئی ہے اس کے پیش نظر اسے انتخابی دنگل میں کسی حلیف پارٹی کے سہارے کی ضرورت نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے جب چار سال تک امیت شاہ نے کسی حلیف پارٹی کے رہنما کو کسی دعوت تک کے لیے مدعو نہیں کیا اب عام انتخابات کے موقع پر امیت شاہ کا حلیف پارٹیوں کے لیڈروں سے ملنا خود غرضی پر ہی محمول کیا جائے گا ۔اور نتیش کمار، پرکاش سنگھ بادل، ادھو ٹھاکرے اور چندرا بابو نائیڈو اسے خوب سمجھ رہے ہوں گے۔ لیکن اگر کانگریس اس تیسرے محاذ میں شامل نہیں ہپوتی ہے تو بلا شبہ غیر بی جے پی اور غیر کانگریس محاذ تشکیل دیا جائے گا۔اور اگر ایسا ہوا تو یہ بی جے پی کے حق میں یقیناً منافع کا سودا ثابت اور2019کے حوالے سے امیت شاہ کے خیال کو عملی جامہ پہنچا نے کا باعث بن سکتا ہے۔

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Will opp alliance be a challenge for bjp in 2019 in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News

Leave a Reply