پاکستان میں مرجھاتی جمہوریت اور متوازی حکمرانی:لندن سمینار میں مقررین کا اظہار خیال

لندن: یہاں لندن یونیورسٹی میں منعقد ایک سمینار میں برطانیہ و امریکہ کے پانچ معروف و معتبر دانشوروں نے نے متفقہ طور پر پاکستان کی بناؤٹی جمہوریت کو سخت ہدف تنقید بنایا۔ یہ سمینار ’ ڈیموکریسی فورم، کے زیر اہتمام جس کے صدر برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈز میں ڈیموکریٹ رکن لارڈ چارلس بروس ہیں،’پاکستان میں مائل بہ زوال جمہوریت اور فوج ،دیگر حکومتی اداروںو مذہبی جماعتوں کا کردار“کے عنوان سے منعقد کیا گیا تھا۔
پاکستان نژاد اور چیتھم ہاؤس کی ایک ایسوسی ایٹ فیلو ڈا کٹر فرزانہ شیخ نے کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے پاکستان کو ایک ”جھاڑی دار پودے جیسی جمہوریت “ یا حالات کے موافق چلنے والی جمہوریت سے تعبیر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کہیں دور کیوں جایا جائے حال ہی میں سپریم کورٹ کے ذریعہ نواز شریف کی برطرفی سے اس کو شدت سے محسوس کیا جاسکتا ہے۔اور اسے ایک واضح ثبوت سمجھا جا سکتا ہے۔شریف کو گذشتہ ماہ سپریم کورٹ نے پناما گیٹ کیس میں نااہل قرا دے کر وزارت عظمیٰ کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔
واشنگٹن جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر کرسٹائن فئیر نے شریف کی برطرفی کو ”عدالتی انقلاب“ سے تعبیر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی عدلیہ کو ”آزاد ادارہ “ نہیں سمجھتیں ۔ ان کے خیال میں پاکستانی فوج اور سپریم کورٹ ایک نئی مشترکہ حکمرانی کی شکل میں ابھر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید تبصرہ کیا کہ پاکستان میں جمہوریت کی جڑوں کو مضبوط ہونے سے روکنے کے لیے گھاس کو تراشتے رہنے کا سلسلہ برقرار رکھنے میں فوج کو نئے اوزاروں کو تلاش کرنا پڑ رہا ہے۔
لندن کے اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز میں ایشیا کی سیاست و اقتصادیات کے پروفیسر لارنس سائیز نے کہا کہ ابتدا میں کرپٹ نواز شریف کی برطرفی کو وہ ایک مثبت اقدام سمجھتے تھے۔لیکن جب سے پاکستان میں عدم جوابدہی بڑھی ہے انہیں اپنے اس خیال کو بدلنا پڑا۔
ایس او اے ایس میں ایک سینیئر تدریسی فیلوبرزائن واگمر نے بلوچستان صوبہ میں تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے ”اٹھانے اور لاپتہ کردینے کے معمول “ کے ساتھ پاکستان کی فوج و عدلیہ کی ساز باز کو اجاگر کیا۔
سمینار کی کارروائی کے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے لندن یونیورسٹی میں ایجوکیشن اینڈ ساؤتھ ایشین اسٹڈیز کی سربراہ پروفیسر میری کرائن لل نے یہ بات زور دے کر کہی کہ پاکستان کے نوجوانوں میں نظام جمہوریت کی بحالی کے جذبہ کا فقدان نظر آتا ہے اور ان کا، خاص طور پر زیادہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کا فوج نواز نظریہ کی جانب رجحان محسوس ہوتا ہے۔انہوں نے زمینی سطح پر سخت تحقیق کے بعد یہ نتیجہ اخذکیا ہے۔
اس سمینار میں موجود سامعین میں غل غپاڑہ کرنے والے پاکستانیوں نے بظاہر بڑے منظم اور سوچی سمجھی اسکیم کے تحت مقررین خاص طور پر ڈاکٹر فئیر کے اظہار خیال کے دوران ہنگامہ آرائی کی کوشش کی اور انہیں ٹوکنا شروع کیا لیکن وہ قطعاً نہیں گھبرائیں اور نہ ان کے چیخنے چلانے سے خاموش ہوئیں بلکہ انہوں نے ان لوگوں کی چیخ پکار اور دعوؤں کو بکواس اور بلاوجہ بولنے کی عادت سے تعبیر کیا۔انہوں نے یہ اشارہ دیاکہ ان لوگوں کو پاکستان کی جاسوس ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس(آئی ایس آئی) اور پاکستان ہائی کمیشن واقع لندن کے فوجی اتاشی نے سمینار کو درہم برہم کرنے بھیجا ہے۔

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Uk and us academics slam pakistans sham democracy in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News

Leave a Reply