ایران میں احتجاجوں کی سیاست

کم سین گپتا

ایران میں جس تیزی سے اور وسیع پیمانے پر احتجاجوں نے ملک کے طول و عرض میں اپنے پیر پھیلائے اس نے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ دشمنان ایرانسعودی عرب قیادت والا اتحاد اور ڈونالڈ ٹرمپ اس کو عوامی بغاوت کے طور پر پیش کر رہے تھے جس سے حکومت کو گرانے میں مدد ملے گی۔ جبکہ ایسی بات نہیں تھی بلکہ ایک ہفتہ کے بعد یہ جلسے جلوس اور مارچ ختم ہو گئے لیکن اس دوران 21افراد ہلاک اور 450دیگر زخمی ہوگئے۔لیکن اس دوران جو کچھ ہوا اس نے اسلامی جمہوریہ میں سیاسی طاقت کی ایک جھلک اور مستقبل میں کیا عقدہ کھل سکتا ہے اس کی ایک جھلک ضرور دکھا دی۔
یہ عام اتفاق رائے تھا کہ ان احتجاجوں کے پس پشت زیادہ تر اقتصادی محرک کار فرما تھا۔ بے روزگاری گذشتہ سال کی نزبت1.4فیصد اضافہ کے ساتھ12.4فیصد ہو گئی تھی۔اشیائے خوردنی کے نرخ آسمان سے باتیں کرنے لگے تھے اور مرغ کے نرخوں میں،جو احتجاجوں کا ایک اہم سبب تھا،40فیصد اضافہ ہو گیا تھا۔ حکومت نے مرغ کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ کا سبب برڈ فلو کی روک تھام بتایا۔
مظاہرے اور د دھرنے اچانک وسیع پیمانے پر رخ اختیار کرنے سے پہلے گذشتہ کئی ہفتوں سے وقتاً فوقتاً ہو رہے تھے ۔ معلوم ہوا ہے کہ یہ مظاہرے صدر حسن روحانی کی اصلاح پسند حکومت کے اندر کے ہی لوگوں کی سوچی سمجھی اسکیم کے تحت تھے۔
آنے والا بجٹ افشا ہو گیا تھا ۔ جس میں پہلی بار اس کا انکشاف ہوا تھا کہ مذہبی تنظیمیں اور پاسداران انقلاب کو ایک کثیر رقم حکومتی خزانے سے دی اجا رہی ہے جبکہ عوام مالی پریشنانیوں سے دوچار تھے۔صدر کے ایک قریبی مشیر حسام الدین نے بجٹ کے غیر متوازن تقسیم کے حوالے سے ٹوئیٹ کیا۔
مقصد کنزرویٹیوز کے خلاف حمایت حاصل کرنا تھا لیکن اس سے عوامی غصہ بھی پھوٹ پڑا۔ ایسے شواہد ہیں کہ سخت گیروں نے ریلیاں ترتیب دینے کی کوششیں کی تھیں۔ یہ ریلیاں ایک مذہبی مرکز مشہد سے، جو کہ سخت گیر صدارتی امیدوار رئیسی اور اس کے خسر آیت اللہ عالم لہدا کا، جو دقیانوسی علماءکی ایک سینیئر شخصٰت تھی ، وطن ہے، شروع ہوئیں ۔اشیائے خوردنی اور ملازمتوں کے حوالے سے نعرے بازیاں بہت جلد سیاسی اور روحانی مخالف و ملک مخالف ہو گئیں۔ایسی رپورٹیں ملی ہیں کہ مسٹر عالم الھدیٰ کو حکم دیا گیاکہ جو کچھ پیش آیا اس کی ایران کی قومی سلامتی کونسل میں حاضر ہو کروضاحت کریں۔انہوں نے ایسا کچھ بھی کرنے کی تردید کی۔
غیر معمولی بات دقیانوسی عالم دین رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کے خلاف کھلا اظہار غصہ کیے جانا تھی۔انہوں نے اس معاملہ میں مداخلت کرتےہوئے غیر ملکی طاقتوں کو مورد الزام ٹہرایا۔لیکن کسی دشمن ملک کا نام نہیں لیا۔ تاہم دیگر سینیئر حکام نے امریکہ ، برطانیہ اور سعودی عرب پر ان احتجاجوں کو جوخونریزی اور تباہی کا باعث بنے ہوا دینے کا الزام لگایا۔
قطع نظر اس امر سے کہ الزام غلط تھا یا درست اس بات میں کوئی شبہ نہیں تھا کہ احتجاج کو بین الاقوامی سمت ملی تھی۔ جوہری پروگرام پرعالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے معاہدہ سے اقتصادی فائدہ ہونا تھا لیکن جہاں اس معاہدے سے اقتصادی فائدہ ہونا تھا اور ایران عالمی منڈی میں اپنا تیل فروخت کرنے کا اہل ہوجاتا دیگر معاملات کے حل ہونے کے امکانات کم تھے کیونکہ امریکہ نے کئی دیگر پابندیاں انہیں اٹھائی تھیں۔ٹرمپ کا ایٹمی معاہدے سے وابستہ رہنے سے انکار اور مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کی دھمکیوں نے ایران کی عالمی تجارت کے حوالے سے مزید غیر یقینی کیفیت پیدا کر دی تھی۔
مجھے یاد ہے گذشتہ دو سال کے دوران ایران کے پارلیمانی و صدارتی انتخابات کی انتخابی مہم میں روحانی کے سخت گیر مخالفین نے کس طرح ایٹمی معاہدے پر روحانی کو اپنے حملوں کا ہدف بنا رکھا تھا۔ان پر ملک کی سلامتی کو سے سمجھوتہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا اور یہ کہا گیا کہ معاہدے کے عوض جو اقتصادی فائدہ پہنچنے کا وعدہ کیا گیا تھا وہ نہیں پہنچا۔ اور اس دوران ٹرمپ کی ایران مخالف تقریروں کو بنیاد بنا کر کہا گیا کہ یہی وجہ ہے کہ مغرب پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
لیکن یہ تمام حربے ناکام رہے اور پارلیمانی انتخابات اصلاحات پسندوں کی شاندار کامیابی پر منطبق ہوئے۔روحانی نے اپنے سخت گیر حریف ابراہیم رئیسی کو صدارتی دوڑ میں زبردست شکست سے دوچار کر دیا۔
کچھ روز بعد ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے دوران جو بنیادی طور پر خلیجی ملکوں کو اسلحہ فروخت کرنے کے مقصد سے تھاریا ض میںتقریر کرتے ہوئے ایران کو سخت ہدف تنقید بنایا اور اس پر دہشت گردی کی حمایت کرنے کا الزام عائد کیا۔
ایران کے وزیر خارجہ محمد ظریف نے تجویز پیش کی کہ اس سے بہتر تو یہ تھا کہ صدر ٹرمپ ریاض میں اپنا وقت بے بنیاد الزامات عائد کرنے کے بجائے اپنے میزبان سعودی حکمرانوں سے امر پر تبادلہ خیال کرتے کہ 9/11طرز کےایک اور حملے سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔لیکن وزراءکو اصل فکر تو یہ دامن گیر ہے تھی کہ ٹرمپ کے دور صدارت میں جوہری معاہدے کے مستقبل کیا ہوگا۔
اس معاہدے پر دستخط کرنے والے دیگر فریقین یوکے،فرانس، روس ، چین اور جرمنی اس معاہدے کے ساتھ ہیں اور اس پر پیہم اصرار کر ہے ہیں کہ ایران تمام ذمہ داریوں کو پورا کر رہا ہے۔اور اس کی مخالفت کرنے والو ں کیتعداد سعودی قیادت والے سنی ممالک ، اسرائیل، امریکہ اور کانگریس میں ایران مخالف گروپ تک ہی محدود ہے۔
لیکن ٹرمپ کا بد خواہ سایہ متواتر اس جوہری معاہدے کو توڑنے کے لیے اس پر خطرہ بن کر منڈلا رہا اور تعاقب کر رہا ہے ۔اس بات نے ایران میں سخت گیروں کو یہ حوصلہ دیا ہوگا کہ وہ دوبارہ بر سر اقتدار آسکتے ہیں۔لیکن انتخابات کے نتائج اور احتجاجوں نے واضح کر دیا کہ ہوا کا رخ ملاؤں کے خلاف ہے ۔ اور سیاسی و اقتصادی اصلاحات کےجوش اور ولولہ پر قابو پانا نہایت مشکل امر ہے۔
(یہ مضمون یو کے سے شائع ہونے والے موقر جریدے ایشئین افیرز سے لیا گیا ہے)

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: The politics of protest in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News

Leave a Reply