ہندوستان کے خلاف پاکستانی سازشوں کے جال کی گرہیں کھلنا شروع

پاکستان میں عوام اپنے ملک کی ہیبت ناک صورت حال سے کچھ اس قدر بد دل اور مایوس ہو گئے ہیں کہ اب ان کو ہندوستان جیسے اسی ملک کے جسے وہ نہایت خشمناک نگاہوں سے اور وہاں کے باشندوں خاص طور پر مسلمانوں کو نہایت حقارت سے دیکھنا فرض عین سمجھتے تھے ، سماجی و سیاسی رہنماؤں جیسے لوگوں کی شدت سے ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔

ابھی زیادہ عرصہ نہیں گذرا جب پاکستان سے یہ مطالبہ اٹھا کہ انہیں بھی ایک انا ہزارے جیسے مصلح قوم کی ضرورت ہے جوایک ایسے بدحال و لاقانونیت کے شکار و دہشت گردی کے عفریت کے پنجوں میں پھڑپھڑاتے پاکستان کو بدعنوانیوں ، دہشت گردی،حفظ مراتب کی ستیا ناسی سے بچا سکے اور افق سیاست و سفارت پر پاکستان کا نام بھی دمکنے لگے۔اور اب پاکستان کے سیاسی حالات مزید درگوں ہوتا دیکھ کر یہ کہا جانے لگا ہے کہ کاش پاکستان میں بھی اٹل بہاری باجپئی جیسا کوئی وزیر اعظم ہوتا۔حالانکہ پاکستانی فوج چاہے تو وہ پاکستان کو ہندوستان کے حوالے کر کے وزیر اعظم کی گدی پرباجپئی کے پروردہ نریندر مودی کی وزارت عظمیٰ کے سایے میں آ سکتے ہیں۔

کیونکہ ا اٹل بہاری باجپئی ابھی بقید حیات تو ہیں لیکن ضعیف العمری کے باعث وہ وزارت عظمیٰ کے فرائض اس طرح انجام نہیں دے سکیں گے جیسا مودی انجام دے رہے ہیں۔در اصل باجپئی اور انا کو اس لیے پاکستان میں یاد کیا جا رہا ہے کیونکہ اس وقت پاکستان میں ”لنکا میں سبھی 52گز کے“کے مصداق جو بھی ملک کا حکمراں بنتا ہے راتوں رات ایسادولت مندہوجاتا ہے کہ فوربس جریدے کی جانب سے جاری کردہ دولت مند ترین ، مقبول ترین اور نہایت بااثر شخصیات کی فہرست میں شامل ہو جاتا ہے۔

جبکہ انا ہزارے اور اٹل بہاری باجپئی بلا لحاظ سیاسی تنظیم وجماعت پورے ہندوستان میں قدر ومنزلت سے دیکھے جانے اور اہم منصب پر فائز ہونے کے باوجود تہی دست ہیں۔الٹی آنتیں گلے پڑنے کے مصداق جس طرح امریکہ کی پیدا کردہ”طالبان“ آج خود اس کے گلے کی ہڈی بنی ہوئی ہے پاکستان اپنے ہی تیار کردہ دہشت گرد وں کے عتاب کا شکار بنا ہوا ہے۔اور پاکستان اس حد تک دہشت گردی کے عفریت کے پنجوں میں جکڑا ہوا ہے کہ پاکستان کے ہر شہر میں کئی کئی اناز ہزارے اور باجپئی جیسی شخصیات پہنچ جائی تب بھی پاکستان دہشت گردی کے چنگل سے اس وقت تک آزاد نہیں ہو سکے گا جب تک کہ حافظ سعید جیسے دہشت گرد کوجس کے سر پر 10ملین امریکی ڈالر انعام ہے، کیفر کردار تک نہیں پہنچادیا جاتا۔ لیکن ایسے دہشت گرد کو کون سزا سنائے جس کے جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری خود حکومت وقت لے لے اور اس کے لیے ملک کی عدالت عظمیٰ کی حکم عدولی کرتے ہوئے اس کی سیکورٹی بحال کر دے۔جبکہ ایک ماہ قبل ہی سپریم کورٹ نے حافظ سعید کی سیکورٹی واپس لینے کا حکم جاری کیا تھا۔

پاکستانی حکمرانوں کی دیدہ دلیری کہاجائے یا حافظ سعید کا خوف کہ ایک صوبائی حکومت کا وزیر اعلیٰ ملک کی سپریم کورٹ کے حکم کو پیروں تلے روند کر فوجیوں اور پولس اہلکاروں کا جتھہ حافط سعید کے کو اپنے گھیرے میں لے کرچلنے کے لیے تعینات کر دیتا ہے۔اور سپریم کورٹ تواتنی بے حس ہو گئی ہے کہ اسے توہین عدالت تو دور کی بات حکم عدولی تک نہیں سمجھتی۔

اب مجموعی طور پر دیکھاجائے تو ہندوستان کے تئیں پاکستان کے مخاصمانہ اور معاندانہ جذبات اور ہندوستان کے خلاف سازشوں کے جال کی ایک ایک کر کے گرہیں کھلنا شروع ہوں گی ۔ہندوستان کے خلاف اس کی کرتوتوں کے جال کی پہلی گر ہ تو کچھ روز پہلے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے اس اعتراف سے ہی کھل گئی تھی کہ کیا ہمیں پاکستان میں پنپ رہے دہشت گردوں کو سرحد پار حملے کرنے اوعر ممبئی میں قتل عام کرنے کی اجازت دینی چاہیے؟اس سے صاف ظاہر تھا کہ یہ پاکستانی دہشت گرد ہی ہیں جو ہندوستان کو نشانہ بنا کر کوئی نہ کوئی دہشت گردانہ کارروائی کرنے میں لگے رہتے ہیں۔

دوسری گرہ اس وقت کھلی جب پاکستان کی آئی ایس آئی کے ایک سابق سربراہ اسد درانی نے یہ انکشاف کیا کہ کشمیر میں حریت نام کی تنظیم تشکیل دیا جانا فاش غلطی تھی۔آج وہی تنظیم باغیانہ اور دہشت گردانہ وارداتیں انجام دینے والی تنظیم بن گئی۔لیکن اب اس انکشاف سے کچھ بھلا ہونے والا نہیں ہے کیونکہ حافظ سعید کی لشکر طیبہ ممبئی میں اور خود پاکستان کی تیار کردہ دہشت گرد تنظیم حریت کشمیر میں اپنے رنگ ڈھنگ دکھا چکی ہے اور ہر خاص و عام کا اس نے اپنی کرتوتوں سے ناطقہ بند کر رکھا ہے۔

(اردو تہذیب )

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Pakistans conspiracy against india exposed in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News

Leave a Reply