حلال ایکسپو آسٹریلیا میں پاکستانی سفارتکاروں کی غیر حاضری انکی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے

سید عتیق الحسن(سڈنی،آسٹریلیا)

آسٹریلیا میں تعینات پاکستانی سفارتکاروں کی نا اہلی کا یہ کوئی نیا فسانہ نہیں۔ پچھلے 25 سالوں سے جو سید عتیق الحسن نے اپنی صحافتی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے دیکھا، بحیثیت پاکستانی کمیونٹی کے ایک سرگرم رکن اور اسلامی کمیونٹی کے بڑے اجتماعات کے اورگنائزر کے طور پر تجر بہ حاصل کیا اسکی فہرست اور کہانی بہت لمبی ہے لیکن بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ پاکستان سرکار نے زیادہ تر ایسے سفارتکار آسٹریلوی سفارتخانے کیمبرہ اور کونسل خانہ سڈنی میں تعینات کئے ہیں جو پاکستان اور آسٹریلیا میں بسنے والے سوائے چند مفاد پرست ٹولہ کے علاوہ تمام محبت وطن پاکستانیوں کے لئے شرمندگی کے سوا کچھ نہیں۔ انِ سفارتکاروں کے عمل سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی تعیناتی میرٹ پر نہیں سیاسی وابستگیوں یا ذاتی تعلقات بنیاد پر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر جب پاکستان میں سیاسی حکومت تبدلی ہوتی ہے تو یہاں بھی اعلیٰ سفارتکار تبدیل ہو جاتے ہیں۔
آسٹریلیا پاکستان کےلئے ایک اہم ملک ہے۔ پاکستان کے قیام کے بعد سب سے پہلا پاکستان کا سفارتخانہ آسٹریلیا میں قائم کیا گیا۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پچھلے کئی دھائیوں سے یہاں جو سفارتکار تعینات کئے گئے ہیں ان میں اکثریت ایسے افسران کی ہے جو پاکستانی روائتی افسر شاہی اپنے ساتھ لاتے ہیں۔ ان کی نا اہلی اور ذاتی مفاد پرستی کا عمل سارے پاکستانیوں کے لئے شرمندگی کا باعث بنتا ہے۔انِ سفارتکاروں کا یہاںتعینات ہونے کے بعد سب سے پہلا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کسِ طرح سے اپنی تعیناتی کی معیاد پوری ہونے سے پہلے اپنے اور اپنی فیملی کے لئے آسٹریلیا میں مستقل رہائش کے سامان پیدا کئے جائیں۔ اور اسِ کی زندہ مثال یہ ہے کہ آج یہاں کتنے ہی سابق سفیر ، کونسل جرنل اور دوسرے افسران سڈنی، کیمبرہ اور میلبورن کے شاپنگ سینٹرز میں اپنی فیملی کے ساتھ شاپنگ کرتے نظر آتے ہیں۔ کیا پاکستان کی غریب عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر عیش کرنے والے یہ سرکار ی افسران اپنی ذمہ داریوں کا ناجائز فائدہ اٹھانے کے جرم کے مرتکب نہیں؟ کیا پاکستانی سرکار نے کبھی کوئی دھیان اس طرف دیا اور ان کے خلاف کوئی ایکشن لیا گیا؟ یہ افسران آسٹریلیا میں مستقل رہائش حاصل کرتے ہیں اور ساتھ ہی پاکستان کے سرکار ی خزانے سے ریٹائرمنٹ کے سارے فوائد بھی لیتے ہیں؟ پاکستان کے غریب عوام کے پیسوں سے اپنے لئے آسٹریلیا میں مستقل سکونت اختیار کرنا بھی اتنا ہی بڑا جرم ہے جتنا بڑا جرم پاکستان پیسہ باہر لیجاکر اپنی اثاثے بنانا!
پھر یہاں انکی کارکردگی پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ددطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے حوالے سے کیا ہے؟ صنعت ، زراعت، تعلیم ، صحت غرض کہ ہر شعبہ میں پاکستان کے خطے کے ممالک نے آسٹریلیا سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے مگر پاکستانی سفارتکاروں کی اپنی ذاتی مصروفیات ہی ختم نہیں ہوتیں۔ اسِ کی تازہ مثال آسٹریلیا کی تاریخ میں اسلامی کمیونٹی کا سب سے انٹرنیشنل بڑا حلال ٹریڈ شو اور انٹرنیشنل حلال کانفرنس کا سڈنی میں انعقاد تھا جس میں پاکستانی ہائی کمشنر، ٹریڈ کونسلر، کونسل جرنل اور تمام عملہ کی غیر حاضری اور عدم دلچسپی ہے نا صرف سڈنی میں بسنے والے پاکستانیوں کے لئے شرمندگی کا باعث تھا بلکہ دوسرے اسلامی ممالک مقامی اور انٹرنیشنل ڈیلیگیٹس کے لئے جن میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، ملیشیا، انڈونیشنا ، برونائی، بنگلادیش، افغانستان، مصر، سنگاپور، تھائی لینڈ شامل تھے حیرانگی کا باعث تھا۔
آج اگر پاکستان کئی محاذوں پر حق اور اصولوں پر سچا ہونے کے باوجود بھی اپنے موقف سے بین الاقوامی کمیونٹی کو مطمئن نہیں کر پار ہا تو ان میں قصور اِن ہی نااہل اورکرپٹ مافیہ کا ہے۔ انِ سفارتکار وں کے پاس عام پاکستانیوں کے لئے وقت نہیں، اہم پروگراموں میں حاضر ہونے کے لئے وقت نہیں لیکن اپنے مطلب کے لوگوں سے روابط بڑھانےکے لئے یہ لوگ بہت فارغ نظر آتے ہیں۔ اگر پاکستانی کرکٹ ٹیم آسٹریلیاکا دورہ کرے تو پاکستان سفیر پورے پورے میچ اپنی فیملز کے ساتھ وی آئی پی لاﺅنج میں بیٹھ کر دیکھتے ہیں پھر انکے ساتھ ڈنر کی تقریبات رات دیر تک اٹینڈ کرتے ہیں لیکن ایک ایسی بین الاقوامی نمائش جو ہے ہی حلال اشیا کی آسٹریلیا کی منڈی میں اپنے ملک کے لئے جگہ بنانے کے لئے۔ اس میں پاکستان کی ہائی کمشنر نائیلہ چوہاننہیں جاتیں۔ حلال ایکسپو آسٹریلیا صرف حلال مصنوعات کی نمائش اور حلال طرزِ زندگی کو اجاگر کرنے کے لئے منعقد کانفرنس کی حد تک محدود ایک نمائش یا کانفرنس نہیں بلکہ یہ آسٹریلیا میں آباد مسلمانوں کی موجودہ اور اگلی نسلوں کو صنعت و حرفت، معیشت اور مختلف شعبوں میں مضبوط کرنے، آسٹریلیا کے مغربی معاشرہ میں اسلامی اصولوں کے مطابق حلال طرزِ زندگی کو فروغ دینے اورآسٹریلیا کے کثیر الثقافت اور بین الامذاہب معاشرہ میں اسلام اور حلال طریقہ کار سے متعلق جو من گھڑت کہانیاں اور غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں انکو دور کرنے کا عظیم مقصد او ر غیر مسلم کو امن اور بھائی چارے کا پیغام دینا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حلال ایکسپو آسٹریلیاکو آسٹریلیا کی تمام مسلمان کمیونیٹیز اور انکی بڑی تنظیموں نے نا صرف سراہا بلکہ اس کی کامیابی کے لئے درجہ بدرجہ شرکت بھی جاری رکھی ہوئی ہے۔ ملائشیا ، انڈونیشیا، برونائی، ترکی متحدہ عرب امارات اور سعودی عربیہ کے سفارتکاروں نے اسِ کے انعقاد اور کامیابی میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور شرکت بھی کی ہے۔ اگر پاکستان اور پاکستانی کاروباری کمیونٹی کو سامنے رکھا جائے تو حلال ایکسپو آسٹریلیا پاکستان اور پاکستان کی بزنس کمیونٹی کے لئے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہےکیونکہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جہاں ہر اشیا حلال پائی جاتی ہے۔ حلا ل ایکسپو میں پاکستانی بزنس کمیونٹی کی شمولیت کو یقینی بنانا پاکستانی ہائی کمشنر اور سڈنی میں ٹریڈ کونسل کی بنیادی ذمہ داریوں میں آتا ہے۔ جس کے لئے حلال ایکسپو کے منتظمین اعلی سید عتیق الحسن نے خود سڈنی کونسل آفس میں کونسلیٹ جرنل اور ٹریڈ کونسل سے ملاقات کرکے ان دعوت دی انکو حلال ایکسپو کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی اوران کو بتایا کہ حلال ایکسپو آسٹریلیا پاکستان اور پاکستانی بزنس کمیونٹی کے لئے ایک سنہری موقع ہے جس میں آپ لوگ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جس کے جواب میں ایک مرتبہ پھرروائتی قسم کے وعدے کئے گئے، منہ پر تعریفیں کی گئیں اور وعدے کئے گئے کہ وہ اسِ حلال ایکسپو میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے۔ اسِ سال حلال ایکسپو آسٹریلیاکا تیسرا سال تھا۔ یہ تقریب بروز ہفتہ 11 اور اتوار 12فروری کو سڈنی کے سب سے اعلی مقام روز ہلِ گار ڈنز میں منعقد ہوئی۔ اسِ سال حلال ایکسپو آسٹریلیا میںآسٹریلو ی اور غیر ملکی جن میں سعودی عربیہ، متحدہ عرب امارات، ملائشیا، انڈونیشیا، تھائی لینڈ ، اور برونائی کے مدوبین اور شرکت کی اور کچھ نے اپنے اسٹالز بھی لگائے۔ دو روزہ بین الاقوامی حلال کانفرنس بھی حلال ایکسپو کا حصہ تھی۔ اس سال اسِ کانفرنس کا تھیم ٹریڈ، معیشت اور کلچر میں حلال کا کردار تھا۔ یہ بین الاقوامی کانفرنس 7 سیشن اور 24 موضوعات پر مشتمل تھی جس میں بین الاقوامی شہرت کے مالک 24اہم اسپیکرز نے شرکت کی جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ملائشیا، انڈونیشیا ، تھائی لینڈ، سنگاپور اور آسٹریلیاکے نامور اسپیکرز شامل تھی۔ اسِ دو روزہ حلال ایکسپو میں موسم شدید گرم ہونے کے باوجود دو روز میں 7 ہزار سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی۔ پاکستان سے بھی کئی کمپنیوں نے اپنے اسٹالز بک کئے مگر وقت پر ویزے نہ ملنے کی وجہ سے وہ شرکت سے محروم رہے۔ پاکستانی سفارتکاروں کی اپنے بنیادی کاموں میں عدم دلچسپی اور ذاتی مصروفیات، پاکستانیوں کی محلفوں میں فرمائش کرکے دعوتیں اڑانا یہاں آسٹریلیا میں کوئی نہیں بات نہیں۔ اسِ سے پہلے بھی آسٹریلیا میں تعئنات پاکستانی سفارتکاروں کی یہاں تعئناتی کسی پرکشش اور پر لطف زندگی سے کم نہیں۔ یہ لوگ پاکستان کے سرکاری خزانے پر ایک بہت بڑا بوجھ ہیں جبکہ ان کی کارکردگی پاکستان کے لئے بیرونِ ملک کیا ہے کم سے کم آسٹریلیا میں ایک عام پاکستانی کو نہیں معلوم!یہ لوگ آسٹریلیا میں شہر کے مہنگے ترین علاقے میں مہنگا ترین مکان کرائے پر لیتےہیں۔ جبکہ دوسرے پاکستان جیسے ممالک کے سفیر تکار عام اور مناسب مکانوں میں رہتے ہیں، اپنا گاڑی خود چلاتے ہیں، اپنا کھانا خود پکاتے ہیں۔ پاکستانی سفیر اور کونسل جنرل اپنے ڈرائیو اور باورچی بھی پاکستان سے لاتے ہیں۔ اور افسر شاہی کا یہ عالم ہے کہ ان ڈرائیورز کو پاکستانی تقریبات میں شرکت کے دوران گھنٹوں باہر بھوکے کھڑا رکھتے ہیں اور خود تقریب میں اعلی پکوان بھرپور مہمان نوازی کے ساتھ اڑا تے ہیں۔ اور یہ موجودہ سفیر صاحبہ ،جن کے پاس حلال ایکسپو میں چھ ماہ پہلے دعوت دینے کے باوجود ہفتہ وار تعطیل کے دنِ بھی وقت نہیں ، مقامی میڈیا اور عام پاکستانیوں سے ملنے کا وقت نہیں مگر فیس بک پر اپنا پیج پر پابندی سے وقت لگانے کا وقت ہے۔ پچھلے دنوں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے ا?سٹریلیا کا ایک لمبا دورہ کیا جس میں کئی سارئے میچیز کھیلے گئے۔ نائیلہ چوہان صاحبہ نے بھرپور طریقہ سے پاکستانی کھلاڑیوں کے سات مختلف تقریبات میں وقت گزارا انکے ساتھ فوٹو بنائے اور ان کو فیس بک پیج کی زینت بھی بنایا، اور اپنےمداحوں سے داد بھی شکریہ کے ساتھ حاصل کی۔
ا?سٹریلیا ، پاکستان کے لئے ایک اہم ترین ملک ہے۔ سب سے پہلے پاکستان نے اپنا سفارتخانہ اسی ملک میں قائم کیا تھا۔ بھارت اور دوسرے ممالک کے سفارتکاروں کے انکے ممالک کے لئے صنعت و حرفت، سیاحت، تعلیم اور دوسرے شعبوں میں کام نظر آتے ہیں۔ مگر پاکستانی سفارتکاروں کے کام صرف اور صرف پاکستانیوں کی تقریبات میں مہمان خصوصی بن کر محفلوں کے مزے لوٹنا ہے۔ لحاظہ پاکستان کی حکومت کو چائیے کہ اسِ کا سخت نوٹس لیا جائے اس سے پہلے کہ یہ محترمہ مزید شرمندگی کا باعث بنیں انکی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے اور ان سے پوچھا جائے کہ وہ کیا وجوہات تھیں کہ جن کی بناہ پر ایک ایسے بین الاقوامی پروگرام میں جس میں سعودی عرب، متحدہ عرب، ملائشیا، انڈونیشیا ،تھائی لینڈ اور برونائی کے سفارتکارو ں نے شرکت کی جس میں 20 سے زیادہ بین الاقوامی شخصیات نے مختلف ممالک سے آکر شرکت کی اس میں نائیلہ چوہان نے آنا مناسب نہیں سمجھا؟ اگر وہ نہیں آسکتی تھیں تو پھر وہ کیا وجہ تھی کہ انہوں نے اپنے کسی بھی نائب کو بھی بھیجنا مناسب نہیں سمجھا؟
رابطے کے لیے:shassan@tribune-intl.com

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Pakistan high commisioner did not come to see halal expo australia in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News

Leave a Reply