لاپتہ پاکستانی افسر نیپال کے ایک خفیہ مشن پر تھا

جیمز کرکٹن
گذشتہ ایک ہفتہ سے پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں ایک پاکستانی فوجی افسر لیفٹننٹ کرنل محمد حبیب ظاہر کی گمشدگی کا زبردست چرچا ہے۔او رپورٹوں کے مطابق ظاہر ایر عربیہ کی پرواز سے 6اپریل کو کٹھمنڈو پہنچے تھے اور پھر وہاں سے بھیراواہ کے لیے ایر بدھا فلائٹ سے میں سوار ہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے آخری بار 6اپریل کو نیپال کے لومبینی سے اپنے گھر والوں سے بات کی تھی اس کے بعد سے رابطہ منقطع ہے۔ ان کے بیٹے لیفٹننٹ کرنل حبیب ظاہر نے پاکستان ابلاغی ذرائع کو جو تفصیل بتائی اس کے مطابق اقوام متحدہ کے کسی ادارے میں ملازمت کے لیے انہیںانٹرویودینے نیپال جاناتھا۔انہیں یہ ملازمت کی پیش کش انٹرنیٹ کے توسط سے کی گئی تھی۔ پاک ابلاغی ذرائع نے پاکستانی فوج کے حوالے سے بتایا کہ کرنل ظاہر اکتوبر2014میں فوج سے سبکدوش ہوئے تھے اور سر دست فیصل آباد میں رفان ملز میں بر سر ملازمت تھے۔پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ہندوستانی بحریہ کے ایک افسر کلبھوشن جادھو کے بدلے میں، جو اس وقت پاکستان کی قید میں ہے اور جسے حال ہی میں فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی ہے، ہندوستانی انٹیلی جنس ایجنسی آر اے ڈبلیو(را) نے ریٹائرڈ افسر کو اغوا کیا ہے۔ اس ثبوت سے، جو پاکستانی حکام نے جمع کر کے میڈیا کو افشا کیا ، کہ کرنل ظاہر کو جس ویب سائٹ سے ای میل کے توسط سے ملازمت کی پیش کش کی گئی تھی وہ ہندوستانی ویب سائٹ تھی ، را کے ذریعہ اغوا کیے جانے کے قیاس کومزید تقویت ملتی ہے ۔یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس افسر کی گمشدگی کے بعد اس ویب سائٹ اور کمپنی کا اکاو¿نٹ پر اسرار طور پر بند کر دیا گیا۔
گتھیاں نہ سلجھ پانے اور کئی سوالات کے جنم لینے کے باعث میں نے اپنے کچھ ان دوستوں اور واقف کاروں سے جن کے پاکستانی فوج میں رابطے ہیں، ملاقات کا فیصلہ کیا۔ اور جو کچھ مجھے معلوم ہوا وہ مجھے حیرت میں ڈالنے کے لیے کافی تھا۔ مجھے علم ہوا کہ لیفٹننٹ کرنل محمد حبیب ظاہر ،جن کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ وہ 2014میں پاکستانی فوج سے ریٹائر ہو گئے تھے،ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے لیے کام کرتے رہے تھے۔
کرنل ظاہر کے قریبی دوستوں میں سے ایک سے مجھے جو اطلاعات ملیں ان کے مطابق ظاہر کو ایک نہایت اہم مشن پر دو ہفتوں سے زائد مدت کے لیے نیپال میں تعینات کیا گیا تھا ۔ اورانہیں پاکستان سے باہر جانے کی اجازت دینے کے لیے 31مارچ2017کو آئی ایس آئی کے اسلام آباد ڈائریکٹوریٹ کے لیفٹننٹ کرنل عاطف انور ڈار کے دستخط سے باقاعدہ ایک نو آبجیکشن سرٹی فیکٹ جاری کیا گیا تھا ۔لیکن نیپال پہنچنے کے کچھ ہی دن بعد آئی ایس آئی کا اس سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ مشن کی ناکامی اور ظاہر کی ممکنہ گرفتاری کے خدشہ سے گھبرا کر آئی ایس آئی نے اس سے لاتعلقی ظاہر کر دی۔
در حقیقت اس قسم کے نو آبجیکشن سرٹی فیکٹ کے جاری کیے جانے سے اس افسر کا پاکستان کی آئی ایس آئی سے رابطہ ثابت ہوتا ہے ۔اور پاکستانی ابلاغی ذرائع کے اس دعوے کی نفی اور تردید ہوجاتی ہے کہ لیفٹننٹ کرنل ظاہر ملازمت کی تلاش یا اس کا انٹرویو دینے نیپال گئے تھے جہاں وہ ہندوستانی کے بچھائے جال میں پھنس گئے۔
اس کیس سے یہ بھی کھل کر واضح ہو جاتا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اپنے بیرونی مشن کے لیے ریٹائرڈ فوجی افسروں کا کس بھدے طریقہ سے استعمال کرتی ہے ۔جس سے یہ معاملہ مکمل طور پر قابل تردید ہو جاتا ہے کہ اس افسر کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جہاں ایک جانب حتمی طور پر نہیں کہاجا سکتا کہ آیا کرنل ظاہر کا جلد یا بدیر اتہ پتہ مل جائے گا وہیں دوسری طرف اس گھناو¿نے واقعہ سے آئی ایس آئی بے نقاب ہو جاتی ہے کہ وہ کس طرح کام کرتی ہے اور اس افسر اور اس افسر کی طرح ہی دیگر افسروں کو استعمال کرو اور پھینکو سامان سمجھ کر استعمال کرتی ہے اورمطلب نکل گیا تو پہچانتے نہیں کے مصداق جب ان کی ضرورت نہیں رہتی اور جتنا استعمال کرنا تھا کر لیا جاتا ہے توان سے پلہ جھاڑ لیتی ۔
(جیمز کرکٹن لندن مقیم بلاگر ہیں اور انہیں ایشیا خاص طور پر جنوب ایشیا اور مشرقی ایشیا کے سیاسی و دیگر حالات پر دسترس حاصل ہے۔ ان کا اصل فوکس سیاسی تحقیق پر رہتاہے)

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Pakistan army officer missing in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News

Leave a Reply