بی جے پی لیڈران ہی پارٹی اور وزیر اعظم کا 2019کا سفر مشکل بنا رہے ہیں

سید اجمل حسین

وزیر اعظم نریندر مودی کے مسند وزارت عظمیٰ تک رسائی کا سفر ریاست اترپردیش میں ہندوؤں کے مقدس شہر ورانسی سے شروع ہو کربراستہ ریاستی دارالخلافہ لکھنؤ قومی دارالسلطنت دہلی مکمل ہوا تھا۔اور اپنے اس کامیاب سفر کی تاریخ دوہرانے اور اس سفر کی یادیں تازہ کرنے کے لیے وزیر اعظم2019میں یہی سفر ایک بار پھر اسی راستے سے کرنا چاہتے ہیں۔لیکن اس بار اس سفر کی راہیں آسان نہیں ہیں ۔2014میںراستہ صاف اور ہموار تھا لیکن کبھی ستاروں سے آراستہ اسی راستے کو انہی کی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کے لیڈروں نے اپنی لن ترانیوں ، متنازعہ بیانات اور دل آزار جملوں سے ایسی پتھریلی رہگذربنا دیا ہے کہ دہلی تک کے سفر میں کوئی کہکشاں نظر نہیں آرہی کہ جس کے سہارے سفر کا انجام بخیر ہو سکے۔

کیونکہ یہ وہ ریاست ہے جس نے جہاں ایک طرف مرکزی زمام اقتدار بی جے پی کو سونپنے میں کلیدی کردار ادا کیا وہیں ریاست میں بھی غیر معمولی کامیابی سے ہمکنار کر کے اتنی سیٹیں دے دیں کہ اگر اس کے سوا سو اراکین بھی پارٹی سے نکال باہر کیے جائیں تب بھی ایوان میں اس کی اکثریت پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ امیت شاہ نے اترپردیش میں دیگر پسماندہ ذاتوں(او بی سی) کی طاقت اور نتائج میں زبردست الٹ پھیر کرنے میں ان کے کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے2017کے اترپردیش اسمبلی انتخابات سے بہت پہلے ریاستی بی جے پی صدر کے عہدے پر لکشمی کانت باجپئی کی جگہ او بی سی کی نمائندگی کرنے والے کیشو پرساد موریہ کو پسند کیا تھا۔لیکن جب پارٹی نے403رکنی اسمبلی کی325سیٹوں پر قبضہ کر لیا تووزارت اعلیٰ کے عہدے کے لیے موریہ کو نظر انداز کر دیا گیا۔جبکہ اس کے لیے انہوں نے زبردست کوشش کی تھی۔

بی جے پی اور آر ایس ایس نے ادتیہ نات یوگی کی ہندوتو امیج کو موریہ کے او بی سی ہونے کے فائدے سے زیادہ اہمیت دی۔اور اس وقت صورت حال یہ ہے کہ امیت شاہ کی موریہ کو نظر انداز کر کے یوگی کو وزیر اعلیٰ مقرر کرنا ہی یو پی کی سیاست میں ایسے دریچے کھل گئے جن سے کامیابی اور ممکنہ فتح کی کرنوں کے بجائے یقینی زوال جھانکنے لگا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سماج وادی پارٹی ،بہوجن سماج پارٹی نے یو پی میں اورکانگریس و راشٹریہ جنتا دل نے بہار میں مشکل کو نہایت آسان کر دکھایا اوراگر موریہ کو وزارت اعلیٰ کے عہدے پر مقرر کردیا گیا ہوتا تو ان میں سے ایک بھی سیٹ بی جے پی کے قبضہ سے نہ نکلتی اور امیت شاہ کا یہ دعویٰ درست ثابت ہو جاتا کہ حزب اختلاف متحد ہو جائے تب بھی کہیں بھی بی جے پی کا بال بھی بیکا نہیں ہو سکتا۔اب چونکہ او بی سی کا داؤ کھیلنے سے بی جے پی چوک گئی ہے اور اب او بی سی ووٹوں کو واپس اپنی طرف کھینچنے کے لیے یوگی کو ہٹا کر موریہ کو نائب وزارت اعلیٰ سے ترقی دے کر وزیر اعلیٰ بنایا بھی نہیں جا سکتا اور اگر بالفرض محال بنا بھی دیا گیا تو یہ چال اب کامیاب ہو بھی نہیں سکتی کیونکہ او بی سی طبقہ پہلے ہی کہہ چکا ہے کہاگر بی جے پی نے ریاست کا وزیر اعلیٰ کسی اعلیٰ ذات کے ٹھاکر کو بنانے کے بجائے او بی سی لیڈر کو بنایا ہوتا تو نہ ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی پتلی حالت ہوتی اور نہ ہی 2019میں بھی یو پی سے 70سے زائد بی جے پی امیدواروں کی جیت کے امکانات متاثر ہوتے۔

ان حالات کو دیکھ کر ہی وزیر اعظم مودی کی تشویش بڑھ گئی ہے۔اسی لیے بی جے پی کا سوشل میڈیا زبردست فعال ہو گیا ہے اور اب اس نے ہندؤوں کو مسلمانوں کا خوف دلانا شروع کر دیا ہے ۔ کیونکہ ترقی اور رزگار و اچھے دنوں کے دلفریب نعروں میں اب عوام نہیں بہکنے والے کیونکہ گذشتہ چار سال کے دوران نہ تو وزیر اعظم کے کسی وعدے کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی اور نہ ہی وزیر اعظم کے منصوبوں اور اسکیموں سے عام لوگ استفادہ کر سکے جس سے معاشرہ میںمایوسی پھیل گئی ہے جس کے اثرات یقیناً 2019کے عام انتخابات پر مرتب ہوں گے۔ جو بی جے پی کے خلاف ہی جائیں گے۔ اب چونکہ راتوں رات کچھ نہیں ہوسکتا ۔نہ یو پی کا وزیر اعلیٰ بدلا جا سکتا ہے اور نہ ہی ترقیاتی منصوبوں اور اسکیموں کو عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے۔

ایسے میں اب سارا دارومدار ہندو اکثریت کو صرف مسلمانوں سے ہی نہیں بلکہ تمام اقلیتوں بشمول سکھ و عیسائیوں کا ہوا دکھا کر خوفزدہ کر کے اپنی طرف راغب کرنے پر ہے۔پاکستان اورچین کے ساتھ جنگ کا ڈراوا ہو، کشمیر کی صورت حال اوروہاں سرگرم دہشت گرد اور ایل او سی پر دراندازی ہو یا چھتیس گڑھ و آندھرا پردیش کے نکسلیوں کا معاملہ ہو اب ووٹرز ان گمراہ کن نعروں اور موضوعات سے جھانسہ میں آنے و الے نہیں۔ کیونکہ وزیر اعظم نے2014کے پارلیمانی انتخابات کے دوران ہر عمر کے لوگوں خواہ وہ مرد ہو یا عورتیں ،بچے ہوں یا بچیاں اور نوجان ہوں یا دوشیزائیں سبھی کے دل میں امیدوں کے جو دیے روشن کیے تھے خود انہی کے زیر سایہ پرورش پانے والے پارٹی رہنما اس میں تیل نہ ڈال سکے اور ان دیوں نے اب ٹمٹمانا شروع کر دیا ہے اور انہیں جگانے کے لیے اب جو بھی کوششیں کی جائیںگی بار آور ثابت نہیں ہوں گی اور محض بجھتے چراغ کی لو کا بھڑکنا ثابت ہوں گی۔ کیونکہ ج 2019آتے آتے ان چراغوں کا تیل بالکل ہی ختم ہو جائے گا۔ اور کیوں نہ ہو۔حالات ہیں ہی ایسے۔پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بتدریج اضافہ مہنگائی میں اضافہ کا باعث بن رہا ہے ۔

ملازمتوں کے لالے ایسے پڑ گئے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی 10-12ہزار روپے کی ملازمت کرنے پر مجبور ہیں چند سو اسامیاں ہوتی ہیں اور لاکھوں امیدوار ہوتے ہیں۔یوں تو ابھی تک بی جے پی کو رام مندر، لوو جہاد،گھر واپسی اور گائے کشی جیسے ایشوز پر فائدہ ملتا رہا ہے لیکن حالیہ انتخابات میںان موضوعات کا کوئی اثر ہوتا نہیں دکھائی دیا۔جس سے اس خیال کو اور تقویت ملتی ہے کہ آخری ہتھیار کے طور پر او بی سی طبقہ کو منانے کی ہی نہیں بلکہ اس کے ووٹ کو ہر حال میں اپنے حق میں کرنے کے لیے مودی۔ امیت جوڑی کو اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانے کے ساتھ ساتھ اپنے ترکش کے تمام تیر آزمانے ہوں گے۔

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Lok sabha election 2019 looks difficult for bjp pm himself in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News

Leave a Reply