کمارا سوامی کی قیاد ت والی کرناٹک کی مخلوط حکومت کی زندگی کتنے دن کی

اگرچہ کرناٹک میں سب سے پہلے تو اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو قطعی اکثریت حاصل نہ کرنے دینے کے بعد حکومت سازی کے لیے مدعو کیے جانے والے یدیو رپا کو ایوان میں اکثریت ثابت کرنے سے پہلے ہی مستعفی ہو جانے پر مجبور کر کے کانگریس نے بی جے پی کی جیت کے رتھ کو روکنے کے لیے فی الحال لگام کھینچ تو لی ہے لیکن اس لگام پر کانگریس کتنی دیر تک قابو رکھتی ہے یہ اسی سال چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش ، راجستھان اور میزورم میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے معلوم ہو جائے گا۔

یوں کہنے کو کرناٹک میں کانگریس نے اسمبلی میں سب سے چھو ٹی پارٹی کے طور پر سامنے آنے والی صوبائی پارٹی جنتادل سیکولر(جے ڈی ایس) کے ساتھ مل کر جے ڈی ایس کے ہی وزیر اعلیٰ کی قیادت میںحکومت سازی کر تو لی ہے لیکن اتحاد کو حاصل قطعی اکثریت کے باوجود جس آزمائش سے یدیو رپا گذرے ہیں اسی آزمائش کا سامنا ایچ ڈی کمارا سوامی کوبھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

یدیو رپا کے سامنے تو یہ سوال اس لیے بھی کھڑا تھا کہ انہوں نے بطور وزیر اعلیٰ اپنی میعاد کبھی پوری نہیںکی۔اور دوسری جانب کمارا سوامی اس لیے اس آمائش سے گذر سکتے ہیں کیونکہ کرناٹک میں کوئی مخلوط حکومت بھی اپنی میعاد پوری نہیں کر سکی۔اور گذشتہ46سال کے دوان اگر کسی بلا شرکت غیرے حکومت نے اپنی پانچ سالہ میعاد پوری کی ہے تو وہ 1972سے1977تک دیوراج ارس اور پھر 2013سے2018تک سدارمیہ کی قیادت والی حکومت نے کی ہے ۔ اور حسن اتفاق سے یہ دونوں حکومتیں کانگریس کی تھیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں 2014کے عام انتخابات میں بی جے پی کی عظیم الشان کامیابی اور پھر ”کانگریس مکت بھارت“ (کانگریس سے پاک ہندوستان) مشن کو کامیاب بنانے کے لیے یکے بعد دیگرے صوبے فتح کرتے ہوئے جب پہلی بار بہار میں بی جے پی کی فتح کا رتھ کانگریس، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اور جنتا دل یونائیٹڈ(جے ڈی یو) نے متحد ہو کر روکا ضرور لیکن اسی میں سے ایک فریق راتوں رات بی جے پی کے پالے میں چلا گیا اور یوں بی جے پی مخالف پہلا اتحاد چوراہے پر پاش پاش ہو گیا۔اور بی جے پی کے زیر نگیں صوبوں کی تعدادمیں ایک کا اور اضافہ ہو گیا۔

بہار میں جس طرح مشترکہ دشمن کے خلاف دو دشمن آر جے ڈی اور جے ڈی یو مجبوراً متحد ہو گئے تھے ٹھیک اسی طرح یدیو رپا کے خلاف دو دشمن کانگریس اور جے ڈی ایس ایک ہو گئے۔ حالانکہ یہ وہی پارٹیاں ہیں جنہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ایکدوسرے کو پانی پی پی کر کوسا تھا اور ایک دوسرے کی غلط کاریو اور بدعنوانیوں کا پٹارہ کھول کر بیٹھ گئی تھیں۔

اس لیے اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ کمارا سوامی بھی زیادہ دن چل پائیں گے۔ یدیو رپا کے یوں تو دو دشمن تھے لیکن وہ متحد ہو کر ہی طاقتور تھے ۔اگر تنہا ہوتے تو یدیو رپا کو بال بھی بیکا نہ کر سکے ہوتے۔لیکن کمارا سوامی تنہا پڑ سکتے ہیں کیونکہ بی جے پی تو ہے ہی ان کی دشمن اور اگر کہیں کسی معاملہ پر جس سے کانگریس کے مفادات پر ضرب لگ رہی ہو کانگریس نے ساتھ چھوڑا جیسا کہ ماضی میں لوک سبھا میں مرار جی ڈیسائی، چودھری چرن سنگھ،چندر شیکھر،دیوے گوڑا اور اندر کمار گجرال کے ساتھ وہ کر چکی ہے تو کمارا سوامی کا حشر بھی یدیو رپا ہی جیسا ہو سکتا ہے۔

اس خدشہ کا اظہار خو د کمارا سوامی بھی وزیر اعلیٰ کے طور رپ حلف لینے کے بعدمیڈیا سے یہ کہہ کر کر چکے ہیں کہ وہ کانگریس کے رحم و کرم پر ہیں۔ ویسے بھی کانگریس کو کمارا سوامی کا ساتھ دینے سے فائدہ بھی کیا ہونا ہے۔ اس نے تو کمارا سو امی کو محض اس لیے حمایت دی کیونکہ اسے ہر حال میں اس بی جے پی کو جو اس کو قدم قدم پر شکست دینے کے ساتھ ساتھ ذلیل و رسوا بھی کر رہی ہے انتقاماً حکومت سازی سے روکنا تھا ۔ اب چونکہ اس کا منشا پورا ہو گیا ہے تووہ کسی بھی اسی طرح طوطا چشمی کر سکتی ہے جیسی مرارجی ڈیسائی سے حساب بیباق کرنے کے لیے اس نے چودھری چرن سنگھ کو استعمال کر نے کے بعدا ن سے کیاتھا۔اس لیے جے ڈی ایس کو بہت زیادہ خوش فہمی میں رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔

ہاں اس سے کانگریس نے ایک سبق ضرور لیا ہے کہ بھلے ہی کہیں بھی اس کی حکومت نہ بنے ۔لیکن بی جے پی کو روکنے کا فارمولہ ضرور ہاتھ لگ گیا اور وہ یہ کہ آئندہ عام انتخابات میں وہ مغربی بنگال میں تر نمول کانگریس سے، اترپردیش میں سماج وادی و بہوجن سماج پارٹی سے، آندھرا پردیش میں تلنگانہ راشٹریہ سمیتی سے ،تمل ناڈو میں ڈی ایم کے سے،بہار میں آر جے ڈی سے،ہریانہ میں راشٹریہ لوک دل سے اورمہاراشٹر میں این سی پی سے قبل از انتخابات سیٹوں کا معاہدہ کر ے گی۔

(اردو تہذیب کا سیاسی تجزیہ)

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: How long coalition govt to survive under kumaraswamy in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News

Leave a Reply