گلوبل برٹین اور انڈیا:ایک نئے ’خصوصی تعلقات‘؟

لندن: ہنری جیکس سوسائٹی (ایچ جے ایس) کے اشتراک سے ڈیموکریسی فورم کے زیر اہتمام ماہرین اقتصادیات،دانشوروں اورسلامتی و تجارتی ماہرین کا ایک اجتماع ہوا جس میں ہند برطانیہ تعلقات خاص طور پر یورپی یونین سے یو کے کے یقینی انخلاءکی روشنی میں مباحثہ کیا گیا۔

غیر ملکی اور دولت مشترکہ دفتر میں جنوب ایشیا اور افغانستان کے امور کے ڈائریکٹر گریتھ بیلے نے مذاکرے کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ یو کے ہندوستان تعلقات تجارت اور سرمایہ کاری سے آگے بڑھ چکے ہیں۔کیونکہ دونوں ہی ممالک اچھائی کے لیے، مثلاً 2030تک شدید مفلسی کے قلع قمع اور پائیدار توانائی تک رسائی کے حوالے سے عالمی طاقت بننے میں شراکت دارہیں۔انہوں نے دونوں ملکوںکو آئندہ درپیش زبردست مشترکہ چیلنجوں اور نقل مکانی جیسے معاملات میں تعاون کے وسیع راستوںپر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

ٹی ڈی ایف کے صدر لارڈ بروس نے ہندوستان سے قریبی تعلقات قائم کرنے کے لیے تجویز رکھی کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ برطانیہ ہندوستان پر اس کے پڑوسیوں کی تھوپی گئی مجبوریوں کا کے پڑوسیوں کی اس پرڈھائے جانے والے ستم کا اعتراف کرے اور اس بات کو بھی سمجھے کہ ہندوستان جو اب اپنی بلندی پر ہے اس امر کی خواہش رکھتا ہے کہ اسے ایک عالمی طاقت سمجھا جائے۔

ہنری جیکسن سوسائٹی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایلن مینڈوزا نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودیان تمام رکاوٹوں کو جن کا لارڈ بروس نے ذکر کیا ہے،جہاں تک ممکن ہو سکتا ہے توڑنے کی اپنی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔ انہوں نے دفاع اور سلامتی سمیت تعلقات میں کئی بڑی رکاوٹوں پر اظہار خیال کیا لیک حالانکہانہوں نے بہت سے مواقع مثلاً سفارت کاری، تجارت اور دہشت گردی کے خاتمہ میں تعاون کی نشاندہی کی۔

پہلے اجلاس کی صدارت ایشیا اسٹڈیز ، ایچ جے ایس، کے ڈائریٹر ڈاکٹر جان ہیمنگز نے کی ۔انہوں نے ٹی ڈی ایف اور ایچ جے ایس کے درمیان کئی معنوں میں مثلاً تکثیریت ،قانون کی حکمرانی اور پریس کی آزادی جیسی قدروں کے توسط سے خارجہ پالیسی کو دیکھنے کے انداز میں نظریاتی یکسانیت پر روشنی ڈالی۔اس کے بعد انہوں نے چیتھم ہاؤس کے ڈاکٹر چمپا پٹیل کا تعارف کرایا جنہوںنے یہ کہتے ہوئے خصوصی نوعیت کے ہند۔ یوکے تعلقات پر سوال اٹھائے کہ جہاں ایک طرف اتنے امکانات ہیں تو دوسری جانب ان کے درمیان ناہمواری بھی ہے۔ایک طرف تجارتی معاملات ہیں جو تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہیں اور دوسری جانب ویزا جاری کرنا اور انسداد دہشت گردی قانون سازی جیسے معاملات ہیں جنہیں نہایت با صلاحیت اور ہنر مند ہندوستانی ملازمین کو ملک سے نکالنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔محترمہ چمپا نے انتباہ دیا کہ جب تک برطانیہ ان متضاد امور و معاملات کی خلیج نہیں پاٹے گا اس پرہندوستان کے ساتھ خصوصی تعلقات سے محروم ہوجانے کا خطرہ منڈلاتا رہے گا ۔

لندن اسکول آف اکنامکس کے پروفیسر سمنترا بوس نے کہا کہ ایسے وقت میں جب برطانیہ بیریکزٹ کی جانب بڑھ رہا ہے ملک میں غیر یقینی کیفیت انوکھی نہیں ہے کیونکہ ہندوستان اور دنیا بھر کے لیے بھی یہ ایک مسئلہ ہے۔ انہوں نے اسٹوڈنٹس ویزے کے لیے سخت شرائط، کثیر جہتی ویزے کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ اور یو کے میں ہندستانی بھگوڑوں کی موجودگی کوایسی تین کلیدی رکاوٹوں سے تعبیر کیا جو یو کے ۔ہندوستان تعلقات پر اثر انداز ہورہی ہیں۔اور کہا کہ ہند یوکے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اورمیل ملاپ کے لیے موثر اور سودمند راہیں تلاش کرنے کے لیے کے لیے ان رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضروت ہے ۔

دوسرے پینل کے صدر ایچ جے ایس میں گلوبل برٹین کے ڈائریکٹر جیمز روجرز نے آر یو ایس آئی کے ادتیہ نکھل دوے کا خیرمقدم کیا جنہوں نے برطانیہ اور ہندوستان کے درمیان فوجی و دفاعی تعاون اور ہندوستان کے دیگر ممالک مثلاً اسرائیل اور فرانس سے دفاعی تعلقات اور دفاعی تعاون کے مواقع پر سیر حاصل بحث کی۔ اگرچہ دہشت گردی خاص طور پر سرحد پار پاکستان سے نکلنے والی دہشت گردی کے نقطہ نظر سے برطانیہ اور ہندوستان کی سلامتی صف بندیوں سمیت تعلقات میں غلط تصورت اور غلط اقدام کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر دوے نے خیال ظاہر کیا کہ بنیادیں لازمی طور پر بہت مضبوط ہیں اور طویل مدتی معاہدے ہمیشہ ہوتے رہیں گے۔

بی بی سی کے ہمفری ہاکسلی کا ’ ’برطانیہ اور ہند ۔چین گٹھ جوڑ“پر فوکس رہا۔ جسے وہ جمہوریت اور آمریت کے حوالے سے ابھرتی ہوئی بڑی تصویر سمجھتے ہیں۔انہوں نے ہند پیسیفک سلامتی ڈھانچہ میں بعد بریکزٹ برطانیہ کے رول،ہندوستان اور چین جیسے بڑے ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدوں کی ضرورت اورایشیا میں چین کی اقتصادی قوت کے ساتھ الجھنا بند کرنے پر اظہار خیال کیا۔مسٹر ہاکسلے نے ہندوستان کے واحد معتبر اسلحہ سپلائر روس کے رول کا بھی حوالہ دیا۔
کنگز کالج لند ن میں ایک سینیر لیکچرر ڈاکٹر والٹر لیڈونگ نے ہند بحرالکاہل میں سمندری چیلنجوں اور مبنی بر قوانین احکام کا معاملہ اٹھایا اور بتایا کہ چین کے ابھرنے اور امریکہ کی فوجی واپسی سے خطہ میں کس طرح چیلنجوں کا سامنا ہے ۔

ڈاکٹر جان ہیمنگز کی زیر صدارت ہی ہونے والے تیسرے اور آخری پینل میں ، جس میں اقتصادی خوشحالی کے حوالے سے ہند۔یوکے تعلقات پر بحث ہوئی،انسٹی ٹیوٹ آف اکنامک افئیرز کے جولین جیسپ نے اقتصادی و سیاسی پس منظرسے بریکزٹ تک اظہار خیال کیا اور ساتھ ہی اس پر بھی بحث کی کہ کیسے کوئی معاہدہ ہندوستان کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچہ پراجکٹوں کو فروغ دینے کے گلوبل برٹین کی قابلیت و صلاحیت کو متاثر کرے گا ۔مسٹر جیسپ نے کہا کہ سنگل مارکیٹ اور کسٹم یونین کو چھوڑ نے پر برطانیہ کو ہندوستان جیسے دوست ممالک کے ساتھ وسیع آزاد تجارتی مواقع ملیں گے ۔تاہم نقل مکانی جیسے معاملات پر تشویش برقرار رہے گی۔

ایشئین افئیرز میگزین کے ایڈیٹر ڈنکن بارٹلیٹ نے2016میں ہندوستان میں نوٹ بندش کو ’زبردست کامیابی“ سے تعبیر کیا اور کہا کہ یہ بدعنوانی سے لڑنے اور ٹیکس محصولات میں اضافہ کا باعث بناہے۔ہندوستان میں آمدنی میں عدم مساوات پر ایک اہم بحث ہو ئی ۔ بین الاقوامی تناظر میں ہندوستان پر نظر ڈالی جائے تو ہر شخصس سے متفق ہوگا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے وسیع پیمانے پر ای کامرس میں سدھار، محفوظ ٹرینیں اور مزید معتبر انشورنس سمیت تمام اصلاحی پروگرام زبردست کامیابی سے ہمکنار ہوئے ہیں ۔اور معیشت بھی دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے بہتر ہو رہی ہے۔
حزب اختلاف سے وزیر مملکت براائے بین الاقوامی تجارت اور ڈیموکریسی کے چیرمین بیری گارڈینر نے متاثر کن انداز میں اختتامی کلمات کہے جس میں انہوں نے اس ملی جلی بحث میں کئی دلچسپ پوائنٹس کی تعریف کی لیکن ساتھ ہی ہندوستان کے تئیں برطانیہ کی سوچ میں تجارت اور سیکورٹی پالیسیوں میں یکسانیت کی کمی پر مزید گہرائی سے بحث نہ ہونے پر اظہار مایوسی بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ محض ویزے اور اسی نوعیت کی باتوں تک ہند برطانیہ تعلقات کو محدود نہ کیا جانا چاہیے بلکہ ان پر قابو پانے کے لیے سلامتی کے تعاون میں حقیقی مسائل کی شناخت کرنی چاہئے۔ مسٹر گارڈینر نے مزید کہا کہ دفاع، تعلیم، سیاحت، توانائی اور آئی ٹی جیسے متعدد شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اور یہ مرکزی سطح پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج ہم کو کثیر جہتی ضابطوں پر مبنی نظام کا ، جو ہم پہلی بار دیکھ رہے ہیں، زبردست چیلنج کا سامنا ہے اورعالمی تجارت کے اصل فریم ورک ڈبلیو ٹی او کو کوئی اہمیت نہیں دی جارہی۔

سمینار میں کم و بیش 80سامعین موجود تھے جن میں خارجہ و دولت مشترکہ دفتر کے نمائندے، مفکرین و دانشوران اور سٹی آف لندن کارپوریشن، لندن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ، برٹش ساؤتھ انڈیا کونسل آف کامرس اور سیبل لائن لمیٹڈ سمیت کئی تجارتی اداروں کے نمائندے شامل تھے۔ میڈیا کے کئی اراکین اور سفارت خانوں کے نمائندوں نیز ماہرین تعلیم اور پوسٹ گریجویٹ طلبا نے بھی اس میں شرکت کی۔

بعدا ازاں پینل کے شرکاءاور سامعین ہوٹل فوئیر میں ڈرنکس سے لطف اندوز ہوئے اور پھر ٹی ڈی ایف اور ایچ جے ایس اسٹاف اور سمینار کی صدارت کرنے والوں اور مقررین کے لیے ڈنر کا اہتمام کیا گیا۔

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Global britain and india a new special relationship in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News

Leave a Reply