ڈیموکریسی فورم سمینار: پاکستانی فوج نے پاکستان کو” ناکام ملک “ کے زمرے میں پہنچا دیا

لندن: گذشتہ دنوں لندن کے ایک ممتاز تھنک ٹینک دی ڈیموکریسی فورم (ٹی ڈی ایف) کے زیر اہتمام’فوج کی اقتصادی وسیاسی طاقت:اسکے جمہوریت پر اثرات “ عنوان سے سینٹ جیمز کورٹ ہوٹل ،لندن میں ایک سمینار منعقد ہوا ۔ سمینار کی صدارت سینیئر صحافی ہمفری ہاکسلی نے کی اور ٹی ڈی ایف کے صدر لارڈ بروس نے اس سے خطاب کیا۔ اور پرویز ہود بھائی، عائشہ صدیقہ، میرا میک ڈونالڈ، ڈاکٹر حامد حسین، ڈاکٹر روسینہ خان اور ڈاکٹ ڈیوڈ بینر جیسے عالمی تھنکرز پر مشتمل پینل مباحثہ کا حصہ تھے۔ مباحثہ کا آغاز کرتے ہوئےلارڈ بروس نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ دنیا بھر میں جمہوری اداروں کو مفلوج اور معطل کرنے میں فوج کی کثرت سے اور کبھی ناپاک ارادوں سے شمولیت اوراس کا رول شرط لازم محسوس ہوتا ہے۔
ڈیموکریسی انڈکس کے مطابق سمینار میں بحث کے لیے منتخب کیے گئے چار ممالک پاکستان، میانمار، ترکی اور مصر میں کوئی بھی ملک انڈکس کے2017کے بین الاقوامی سروے میں دس میں سے پانچ سے زیادہ نمبرنہیں پا سکا۔ اس سروے میں تکثیریت، شہری آزادی اور سیاسی ثقافت سمیت کئی معاملات دیکھے گئے تھے۔
زہرہ اینڈ زیڈ زیڈ احمد فاؤنڈیشن کے اہم رکن و فورمین کرسچن کالج کے پروفیسر ڈاکٹر ہود بھائی نے، جن کی بھرپور توجہ پاکستان پر مرکوز ہے، اپنی تقریر کا آغاز میڈیا میں شائع ان دو مضامین سے کیا جو واضح طور پر اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستانی فوج کی غیر فوجی حکومت پر کس قد ر سخت گرفت اور کتنا زیادہ اثر و رسوخ ہے۔
پہلے مضمون میں اس بات کا حوالہ دیا گیا ہے کہ کس طرح رخصت پذیر سینیٹ کے اراکین کو ،جنہوں نے 2010میں پارلیمنٹ میں منظور کیے گئے نیوکلیر کمانڈ اتھارٹی ایکٹ پیش کرنے کی درخواست کی تھی،قانون کے خدوخال کو اس بنیاد پر نہیں دکھایا گیا کہ یہ قومی سلامتی سے متعلق ہے۔
ڈاکٹر ہود بھائی کے مطابق اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ پاکستانی فوج ہمیشہ کہتی رہی ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات میں صرف انہی پر اعتماد کیا جاسکتا ہے جو معتبر اور بھروسہ کے قابل ہوں۔
دوسرے مضمون میں پاکستانی مالی حلقوں میں پھیلی وہ تشویش ہے جو فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ذریعہ پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالنے سے نمٹنے کی راہیں تلاش کرنے لیے ہے۔اگرچہ فوج کی ترجمان انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کا یہ کہنا ہے کہ اس معاملہ کو سلجھانے کی ذمہ داری فوج کی نہیں ہے لیکن ڈاکٹر ہود بھائی کی رائے میں تمام پاکستانی اس بات سے واقف ہیں کہ اس معاملہ کے سلجھنے کا تمام تر انحصار لشکر طیبہ اورا س سے وابستہ اداروں کی مدد کرنے کے حوالے سے فوج کی پالیسی بدلنے پر ہے۔
پاکستانی فوج اور دہشت گرد گروپوں کے درمیان نہایت گہرے روابط کا ذکر کرے ہوئے ہود بھائی نے جنوری2002میں امریکی دباؤ میں سابق پاکستانی صدر اور فوجی سربراہ ریٹائرڈجنرل پرویز مشرف کے ذریعہ لشکر طیبہ پر پابندی عائد کرنے کی مثال دی جنہوں نے نومبر2017 میں لشکر طیبہ اور جماعت الدعویٰ سے فوج کے روبط کا اعتراف کیا تھا اور دونوں کو پاکستان کے بہترین اداروں سے تعبیر کیا تھا۔
تاہم ہود بھائی کے خیال میں ایف اے ٹی ایف پاکستان میں حقیقی طاقت کے مرکز راولپنڈی کو متاثر کرے گا کیونکہ پاکستان کی قومی اقتصادیات میں فوج کے زبردست مالی مفادات ہیں اور پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال دینے سے فوج کے مفادات پر کاری ضرب لگے گی اور اگر بلیک لسٹ کر دیا گیا تو شاید پاکستانی فوج کی تجوری میں تباہی مچ جائے گی۔
رائٹر کی سابق صحافی اور مصنفہ میرا میکڈونالڈ نے اپنی دو تصانیف ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سیاچن جنگ پر ”ہائیٹس آف میڈنیس“ (پاگل پن کی انتہا)اور دونوں ملکوں کی فوجی طاقت کے موازنہ میں”ڈفیٹ از این آرفن: ہاؤ پاکستان لوسٹ دی گریٹ ساؤتھ ایشین وار“ (شکست یتیم ہے: پاکستان عظیم جنوب ایشیائی جنگ کیسے ہارا“)کے لیے کی گئی تحقیق کی جانب توجہ دلائی۔
انہوں نے کہا کہ 1998کے جوہری تجربات سے دونوں ملکوں میں برابری پیدا ہوجانا چاہیے تھی۔کیونکہ پاکستان کو ہندوستانی حملے کے حوالے سے خود کو غیر محفوظ نہیں سمجھنا چاہیے۔تاہم 1998کے جوہری تجربے کے بعد ہندوستان تو ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے عالمی طاقت کی شکل میں ابھرا جبکہ پاکستان اندرون ملک جمہوریت کے کمزور ہوجانے سے زوال پذیر ہو گیا۔ میک ڈونلاڈ نے دلیل دی کہ سفارت کاری کے امتزاج سے ہندوستانی جمہوریت نے ہندوستان کی کامیابی میں معاونت کی جبکہ پاکستان میں فوج کی جارہ دای اور غلبہ نے نہ صرف جمہوریت کو کمزور کیا بلکہ ملک کو ایک ناکام ملک میں بدلنے کے خطرے سے دوچار کر دیا۔
اس استفسار پر کہ آخر جمہوریت کو اتنی زیادہ کیوں اہمیت دی جارہی ہے تو میک ڈونالڈ نے کہا کہ جمہوریت ملک کی قانونی حیثیت پیش کرتی ہے، تنازعات کو پرامن طور سے حل کرنے کا موقع ملتا ہے اور گھریلو استحکام پیدا ہوتا ہے جس سے بین الاقوامی مضبوطی حاصل ہوتی ہے۔
ان چار اسباب کی بنا پر ہندوستان مضبوط و مستحکم ہوا ہے اور پاکستان کمزور ہوا ہے۔کیونکہ پاکستانی فوج خود کو ملک کا سرپرست کہتی ہے۔جبکہ حقیقت میں وہ خارجہ اور دفاعی پالیسی ،جمہوری عمل سے چھیڑ چھاڑ اور اقتصادایت پر غلبہ پاکر استحکام بخشنے کے بجائے ملک کو غیر مستحکم کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس قسم کی مرکزیت ، فوجی غلبہ رکھنے والی اقتصادیات غریب اور متوسط طبقہ کے لوگوں کو مزید وسائل تک رسائی سے روکتی ہے۔جس کے باعث ٹکراؤ کی فضا پیدا ہوتی ہے اور نوجوان نسل اسلامی بنیاد پرست بن جاتی ہےیا پھر دیگر دائیں بازو کے مذہبی گروپوں میں اپنی قسمت آزماتی ہے اور اپنی طاقت بڑھاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو متحد رکھنے کے بجائے فوج صوبہ پنجاب کی موجودہ طاقت کو اور بھی زیادہ بڑھاکر بلوچستان جیسے چھوٹے صوبوں میں، جہاں کے عوام فوج اور پنجاب دونوں کی اجارہ داری سے غیر مطمئن اور بے چین ہیں، ٹکراؤ کے حالت پیدا کر رہی ہے۔
تاہم میکڈونالڈ نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی متحرک سول سوسائٹی ،جیسا کہ پشتون طویل مارچ سے ظاہر ہو گیا ہے ، فوج کے اثر و رسوخ پراپنی پر امن مخالفت جاری رکھے گی۔
اپنے مقالہ میں ڈاکٹر صدیقہ نے، جو پاکستانی فوج پر اپنی تصنیف سے کافی معروف ہوئی ہیں،پاکستان اور مصر کی کمزور جمہوریتوں میں موازنہ اور ان کی فوجوں کے رول پر جامع طور پر اظہا ر خیال کیا۔انہوںنے ”مل بس“ (ملٹری بزنس) کے اپنے تصور کے حوالے سے کہا کہ جہاں بھی ایسا کیا جاتا ہے وہ نیک نیتی پر مبنی نہیں ہوتا ۔قطع نظر اس بات کے کہ یہ کہاں تک حق بجانب ہے اس کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے کیونکہ اس میں فوجی برادری کا ذاتی مفاد مخفی ہوتا ہے۔اس کا نہ کوئی ریکارڈ ہوتا ہے اور نہ ہی یہ دفاعی بجٹ کا حصہ ہوتا ہے۔
اس لیے جب فوج تجارت میں الجھ جائے تو وسائل پیدا کرنے میں فوج بڑی سرگرمی سے حصہ لنا شروع کر دیتی ہے جس سے یہ تخصیص ختم ہو جاتی ہے کہ حکومت اور عوام کے لیے کیا بہتر ہے۔
انہوں نے مصری اور پاکستانی فوجی نظام میں اہم مماثلت اور فرق پر روشنی ڈالی۔
فوجی مبصر ڈاکٹر حامد حسین کی تقریر ترک فوج کی ناکامی پر محیط تھی۔انہوں نے فوج کے نظریہ کو کو ایک ایسے ڈاکٹر سے تعبیر کیا جو اسلام اور جمہوریت کی شادی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے بیمار بچے ، سیکولرزم ،کی دیکھ بھال کررہی ہو ۔
انہوں نے کمال اتاترک کی روایات کے گارجئین کے طور پر ترک فوج کے کردار پرروشنی ڈالی اور ترک صدر رجب طیب اردوغان کے زبردست طاقت حاصل کر نے اور ان کے اور فوج کے درمیان قوت عمل کے حوالے سے سیر حاصل اظہار خیال کیا۔
یونیورسٹی آف سرے کے ڈاکٹر برینر نے میانمار کی فوج اور ملک کی جمہوریت کی جانب قدم اور فوجی قیادت میں اقتدار کی منتقلی پر روشنی ڈالی۔انہوں نے برطانیہ سے جدو جہدآ زادی سے ابھرنے والی تتمادو(فوج) کی مختصر تاریخبیان کی اور بتایا کہ اس نے اثاثوں اور سونا جیسے وسائل اور دفاعی بنیادی ڈھانچوں پر کنٹرول کر کے اپنے مالی وسائل کیسے برقرار رکھے۔
ٹوٹنگ سے لیبر ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر خان نے جنہوں نے بنگلہ دیش کے کاکس بازار میں واقع پناہ گزیں کیمپوں میںروہنگیاؤں کی حالت زار خود اپنی آنکھوں سے دیکھی، میانمار پر اظہار خیال کیا ۔انہوںنے کہاکہ میانمار میںروہنگیاؤں پر جو مظالم کیے جارہے ہیںوہ نسل کشی سے کم نہیں ہیں۔
آخر میں ٹی ڈی ایف کے چیرمین بیری گارڈینر ایم پی نے اختتامیہ کلمات کہے اور پینل اور سمینار منعقد کرنے پر ٹی ڈی ایف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ سمینار اس امر کی بروقت یا دہانی کراتاہے کہ جمہوریت کیوں بیش قیمت ہے۔
انہوںنے حاضرین کو تلقین کی کہ وہ جمہوریت کو لاحق خطرات سمجھنے اور یہ جاننے کے لیے شفافیت اور جوابدہی کا فقدان ہمیں کتنا متاثر کر سکتا ہے، سمینار کے تجزیوں پر غور کریں ۔
سمینار میں ہنری جیکسن سوسائٹی کے اراکین، کنگز کالج لندن ،یونیورسٹی کالج آف لندن اور یونیورسٹی آف ویسٹ منسٹر کے پوسٹ گریجویٹ طلبائ، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے اراکین، غیر ملکی اور دولت مشترکہ دفتر ،احمدیہ مسلم برادری یوکے اور متعدد سفارت خانوں اور ہائی کمیشنوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔برونیس شریلا فلیتھر بھی سمینار میں موجودتھیں۔

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: expert panel looks at how military pushed pak into being failed state in Urdu | In Category: سیاسیات  ( politics ) Urdu News

Leave a Reply