فوج کی اقتصادی و سیاسی طاقت: جموریت پر اس کے اثرات

لندن:ڈیموکریسی فورم کے صدر لارڈ بروس اور ٹی ڈی ایف کے چیرمین ممبر پارلیمنٹ بیری گارڈینر کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق ٹی ڈی ایف ”فوج کی اقتصادی و سیاسی طاقت: اور جمہوریت پر اس کے اثرات“ کے عنوان سے ایک سمینار کر رہا ہے۔ یہ سمینار، جس کی صدارت بی بی سی کے سابق بیجنگ بیورو چیف ،مصنف اور کالم نویس ہمفری ہاکسلی کریں گے، مورخہ 19مارچ ،بروزدوشنبہ بوقت 2بجے دوپہر تا شام ساڑھے پانچ بجے سینٹ جیمز کورٹ ہوٹل میں منعقد کیا جائے گا۔
ایشیا پر خصوصی توجہ مرکوز رکھتے ہوئے مقررین ان امور پر اظہار خیال کریں گے کہ کیا جمہوریت کبھی ذی اثر ممتاز فوجی شخصیات ، اقتدار پر قبضہ کرنے کی ان کی منشاؤں اور ان اداروں سے جن کے توسط سے وہ اپنی حکومت مستحکم کرتے ہیں ہم آہنگ ہوسکتی ہے یا مطابقت رکھ سکتی ہے۔مقررین ایسی صورت میں جب ایک سیاسی طور پر طاقتور فوج اقتصادیات میں عمل دخل شروع کر دے ،اس کے اثرات پر بھی اظہار خیال کریں گے اور یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کیا ایک آزاد اقتصادی منڈی فوج کے مدمقابل رہنے کے باعث زندہ رہ سکتی ہے۔
مباحثہ کا محور چار ممالک ہوں گے
پاکستان :جہاں کا سیاسی اندرونی منظر ،غیر فوجی حکومت ہونے کے باوجود، ملک کے سب سے زیادہ طاقتور اداروں میں سے ایک فوج سے، جس کے جنرل زبردست اثر و رسوخ اور دولت کے مالک ہیں،گہری وابستگی رکھتا ہے۔ زہرہ اور زیڈ زیڈ احمد فاؤنڈیشن سے وابستہ اور لاہور کے فورمن کرسچئین کالج کے پروفیسر پرویز ہود بھائی پاکستان میں فوج بمقابلہ جمہوریت کا تقابلی جائزہ لیں گے۔ حکومت پر براہ راست کنٹرول نہ رکھنے کے باوجود مسلح افواج کی قومی سیاست پر مضبوط گرفت اور اقتصادی شعبہ میں اس کی بڑی حصہ داری کے ساتھ وہ ہر حکومت پر فوجی غلبہ کی طویل تاریخ پر اظہار خیال کریں گے۔
صحافی میرا میک ڈونالڈ ،جو ”ہائیٹس آف میڈنیس اینڈ ڈیفیٹ از این آرفن:ہاؤ پاکستان لوسٹ دی گریٹ ساؤتھ ایشئین وار“(Defeat is an Orphan: How Pakistan Lost the Great South Asian War )کی مصنفہ ہیں،دونوں ملکوں ہندوستان ا ورپاکستان میں فوج کی طاقت کا موازنہ کرنے کے لیے اپنی ان تصنیفات کے لیے اپنی تحقیق شئیر کریں گی۔وہ یہ دلیل دیں گی کہ ہندوستانی جمہوریت ،جو سفارت کاری کو ساتھ لے کر چل رہی ہے ،ہندوستان کو ابھرتی عالمی طاقت بنانے میں اس کی معاونت کا ساماں بنی ہے۔جبکہ دوسری جانب پاکستان میں فوج کے غلبہ اور اس کی چودھراہٹ نے نہ صرف جمہوریت کو کمتر اور غیر مستحکم کیا بلکہ اس کے وجود کو ناکارہ حالت میں بدل جانے کے خطرے سے بھی دوچار کر دیا۔
میانمار ،جہاں آنگ سان سوکئی کا فوج پر برائے نام کنٹرول ہے،اس پر بھی اظہار خیال کیا جائے گا۔یونیورسٹی آف سرے کے ڈاکٹر ڈیوڈ برینر میانمار میں فوج زدہ سیاست ،ملک کی فوج کو سہارا دینے والے سیاسی و اقتصادی وسائل و ذرائع اور کس طرح یہ ایک دوسرے پر اثر انداز ہو کر ملک کو محفوظ اور جوابدہ جمہوریت بننے سے روکتے ہیں،جیسے معاملات پر اظہار خیال کریں گے۔
ترکی، اپنے فوجی انقلابات اور فوجی رہنماؤں کی ، جو اپنے سیاسی ہم منصبوں کے ممنون و مشکور نہیں ہیں، تاریخ سے آراستہ ہے۔فوجی مبصر ڈاکٹر حامد حسین 2016کی ناکام بغاوت کے بعد کی صورت حال اور ترک جمہوریت کے مستقبل پر اس بغاوت کے مضمرات پر اظہار خیال کریں گے۔
مصر کی صورت حال پر، جہاں عرب بہار کے بعد فوج غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل کر کے سیاسی و اقتصادی منظر پر سخت گرفت قائم کیے ہوئے ہے،ویسٹ منسٹر مقیم برطانوی سیاسی صحافی عادل درویش بحث کریں گے۔

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: economic political power of the military its impact on democracy in Urdu | In Category: سیاسیات  ( politics ) Urdu News

Leave a Reply