حکمت عملی ہی جواب ہے

رحیم اللہ یوسف زئی

صدر امریکہ کے اس الزام کے بعد ،کہ پاکستان پڑوسی ملک افغانستان میں امریکی قیادت والے نا ٹو اور افغان سلامتی دستوں کے فوجیوں پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کو پناہ دے رہا ہے ،پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو ہونے والے نقصان کی تلافی کے کوششیں جاری ہیں۔ان کوششوں کی قیادت افغانستان میں طالبان قیادت والی بغاوت پر قابو پانے کی جدوجہد کرنے والے امریکی سینٹرل کمان کے کمانڈر جنرل جوزف ووٹیل نے تعلقات میں مزید خرابی نہ آنے دینے کے لیے پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو فون کیا۔ ان کا لہجہ 21اگست کو صدر ٹرمپ کی اس تلخ نوائی کے بر عکس، جس میں انہوں نے افغانستا ن اور جنوبی ایشیا کے لیے نئی امریکی پالیسی کا اعلان کرتے وقت اپنی تقریر میں پاکستان کی تضحیک کرنے کے بعد یکم جنوری کو پاکستا ن کو مبینہ طور پر دہشت گردوں کی حمایت کرنے پر اسے جھوٹا اور دھوکے باز کہا تھا، بڑا دوستانہ اورپاکستان کے تئیں بڑا مثبت تھا ۔ووٹیل نے جنرل باجوہ کو یقین دہانی کرائی کہ امریکہ پاکستان کے اندر کوئی یکطرفہ کارروائی نہیں کرے گا حالانکہ ماضیٰ قریب میں مختلف امریکی حکام نے ایساہونے کا امکا ن ظاہر کیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں موجودہ پیچیدگی عارضی تھی اور انہیں امید ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر کام کریں گے۔
پاکستانی حکام نے یہ دعویٰ کرنے کا موقع ضائع کر دیا کہ یہ سب اس کے اس سخت موقف کا شاخسانہ ہی ہے کہ امریکہ اپنے سابقہ حلیف کو اسلحہ نہ دینے کے فیصلہ پر نظر انی کرنے پر مجبور ہو گیا۔ اوراس کے بجائے اب اختلافات دور کرنے دہشت گردی کے خلاف تعاون بحال کرنے پر تبادلہ خیال شروع ہو گیا۔
اس سے قبل پاکستان نے اپنے خلاف الزامات کا جواب دینے کے لیے امریکی حکام کے سخت لہجے پر جیسے کو تیسا رویہ اختیار کرنے کی کوشش کی تھی۔کشیدگی کے سائے میں ابھی تک پاکستان کا جو سب سے زیادہ سخت ردعمل اس وقت دیکھنے میں آیا جب پاکستان نے پاکستانی علاقہ میں کوئی بھی یکطرفہ کارروائی کرنے کے خلاف امریکیوں کو انتباہ دیا۔یہ انتباہ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے دیا تھا، جنہوں نے امریکہ کے اس الزام کو خارج کر دیا کہ پاکستان ان مسلح دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی نہیں کر ہا ہے جو پاکستان کی سرزمین پر سرگرم ہیں اور افغانستان میں امریکہ اور اس کے حلیفوں کے خلاف جنگ کر رہے ہیں۔ پاکستان سے مزید کچھنے کے لیے تسلسل سے کیے جانے والے مطالبہ پر نہایت سخت الفاظوں میںانہوں نے کہا کہ پاکستان بہت کچھ کر چکا ہے اور اب مزید کچھ نہیں کر سکتا۔
یہ جنرل باجوہ کے اس حالیہ بیان کی باز گشت تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلا ف جنگ میں پاکستان ایک زبردست کردار ادا کر چکا ہے ۔انہوں نے امریکہ کو یاد دہانی کرائی کہ وہ پاکستان کی مدد کے بغیر خطہ میں القاعدہ کو شکست نہیں دے سکتا تھا۔ فوجی ترجمان کا یہ بیان اس میڈیا رپورٹ کے بعد آیا جس میں پاکستانی فضائیہ کے سربراہ ایر مارشل سہیل ا مان کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ اگر حکومت نے حکم دیا تو ان کے جنگی طیارے کسی بھی ڈرون کو جو پاکستانی حدود میں بلا اجازت داخل ہوں گے مار گرائیں گے۔یہ امریکہ کو انتباہ تھا کہ وہ پاکستان میں ڈررون حملے بند کر دے یہ بات دیگر ہے کہ ان دھمکیوں کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا جبکہ اس دھمکی کے بعد افغانستان کے متصل پاکستانی قبائلی علاقوں میں تین ڈڑون حملے ہو گئے۔یہ یقینی تھا کہ پاکستان ایسا کوئی انتہائی قدم نہیں اٹھائے گا کیونکہ کوئی بھی ڈرون طیارہ مارگرائے جانے سے امریکہ نہایت درجہ اشتعال میں آسکتا تھا اور پاکستان کے خالف مزید سخت اقدامات بشمول اپنی مضبوط فضائی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے مزید فضائی حملے کرنے کے ساتھ ساتھ اسے دہشت گردی پھیلانے والا بد قماش ملک قرار دے سکتا ہے۔
ایک اور سخت اقدام جو پاکستان کر سکتا تھا وہ ا فغانستان میں امریکی قیادت والی ناٹو فورسز کے لیے سپلائی لائن کی ناکہ بندی کردینا تھا۔پاکستان کا خشکی کا راستہ بہت مختصر اور سستا تھا اور اس قسم کا اقدام امریکہ پاکستان تعلقات کے برقرار رہنے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا تھا۔
امریکہ اور پاکستان نے ایک دوسرے پر اپنی ناراضگی ظاہر کرنے والی کارروائیاںکیں۔ امریکہ نے پاکستان کو2بلین ڈالر کی فوجی امداد روک دی اور قبائلی علاقہ جات میں مقامی اور غیر ملکی دہشت گردوں کے خلاف فوجی کارروائی پر ہونے والے پاکستان کے اخراجات کی پرتی کرنے کے لیے کولیشن سپورٹ فنڈ سے پیسہ دینے سے انکار کر دیا۔گذشتہ سال صدر بننے کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ کے پاکستان کے خلاف سخت موقف کے بعد پاکستان کے اندر امریکی ڈرون حملوں میں کی تعداد میںتھوڑا اضافہ ہو گیا۔نیز یہ بھی خدشہ پیدا ہوگیا کہ امریکی ڈرون طیارے قبائلی علاقہ جات(فاٹا) کے باہر بھی حملے کر سکتے ہیں۔2004سے پاکستان کے اندر جو420ڈرون حملے ہوئے ان میں سے صرف دو خیبر پختون خوا میں اور ایک بلوچستان میں ہوا۔پاکستان کے لیے فاٹا سے باہر کوئی بھی ڈرون حملہ ایک ریڈ لائن تھا لیکن اس پر شک تھا کہامریکہ اس ریڈ لائن کو پار نہ کرنے پر متفق ہو جائے گا۔
پاکستانی پارلیمنٹ کی اتفاق رائے سے منظور قرار داد کے توسط سے کہا جاچکا ہے کہ پاکستان میں افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو کوئی محفوظ پناہ گاہ حاصل نہیں ہے۔ٹرمپ کے اس دعوے کو خارج کرتے ہوئے کہ پاکستان کو اربوں ڈالر دیے جاچکے ہیں انہیں یہ یاد دلایا گیا کہ ان کے ملک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 123بلین ڈالر کا نقصان اٹھایا ہے جبکہ اس کے70ہزار شہری مارے جا چکے ہیں۔قرار داد میں حکومت سے کہا گیا کہ وہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان تمام اعلیٰ سطحی دورے ملتوی کر دے۔اس میں افغانستان میںپاکستانی انتہا پسندوں کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کو بھی تہس نہس کرنے ، افغان پناہگزینوں کی وطن واپسی کا ٹائم ٹیبل تیار کرنے اور چونکہ ہندوستان پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہا ہے اس لیے ا فغانستان میں ہندوستان کا عمل دخل روکنے کا مطالبہ کیا گیا ۔
حکمراں اور حزب اختلاف دونوں کے ہی سیاستدانوں نے پاکستان کے خلاف ٹرمپ کے ریمارکس پر تنقید میں ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے بیک آواز کہاکہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنے میں ناکام رہا ہے اور ہندوستان کو افغانستان میں اپنا عمل دخل زیادہ سے زیادہ بڑھانے کا کہہ کر پاکستان کو دباؤ میں لینے کی کوشش کر رہا ہے۔پاکستانی سیاستدانوں نے خیال ظاہر کیا کہ امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامیوں کے لیے قربانی کا بکرا تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔پاکستان نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلے معطل کر دیے حالانکہ یہ مختصر مدت تک ہی رہا۔اور ٹرمپ انتطامیہ پر طعنہ زنی کرتے ہوئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیرخارجہ خواجہ محمد آصف نے بار بار کہا کہ امریکہ افغانستان میں جنگ ہار گیا ہے اور 16سال کی جنگ کے بعد فوجی حل پر اس کا اصرار اس ناکامی کو اور زیادہ ظاہر کر رہا ہے۔
پاکستان نے یہ یقین دلانے اور ثبوت دینے کے لیے کئی اقدامات کیے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سنجیدہ ہے ۔گذشتہ سال12اکتوبر کو ایک روز پہلے ہی امریکہ سے خفیہ اطلاع موصول ہونے کے دوسرے ہی روز اس کی فوج نے کناڈیائی شخص جوشوا بوائل اور ان کی امریکی نژاد اہلیہ کیلٹن کولمین اور ان کے تین بچوں پر مشتمل ایک مغربی کنبہ کو افغان سرحد سے متصل خرم قبائلی خطہ سے برآمد کر لیا۔پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا کہ یرغمالوں کو افغانستان سے پاکستان منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس جوڑے کو حقانی نیٹ ورک نے 2012میں اغوا کر لیا تھا اور انہیں ابتدا میں افغانستان میں یرغمال بنا کر کے رکھا گیا تھا۔پاکستان کے اس قدام کی صدر ٹرمپ نے بھی کافی تعریف کی ۔ حکومت پاکستان نے یہ فتویٰ جاری کرنے کے لیے 1800علمائے دین کو آمادہ کر لیا کہ خود کش بم دھماکوں کی مذمت کریں اور اس پر زور دیں کہ جہاد کا اعلان کوئی گروپ یا فرد نہیں بلکہ صرف حکومت ہی کر سکتی ہے۔فتویٰ میں خود کش بمباروں کو دہشت گرد وں سے اور ان کے سہولت کاروں کو غداروں سے تعبیر کیا گیا۔گو کہ یہ فتویٰ صرف پاکستان کے لیے تھا یہ خیال کیا جارہا تھا کہ بالواسطہ طور پر اس کا فائدہ افغانستان کو پہنچے گا کیونکہ وہاں پاکستانی انتہا پسند جنگ چھیڑے ہوئے ہیں اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ آیا وہ جو کچھ کر رہے ہیں صحیح ہے۔خود افغان طالبان کو اپنی بھرتی کے کام میں چیلنج مل سکتا ہے کیونکہ ان کے بہت سے جنگجوؤں نے پاکستانی مدرسوں میں تعلیم پائی ہے جہاں کم وبیش تمام اساتذہ پاکستانی ہیں۔ پاکستان نے طالبان کو افغان حکومت سے امن مذاکرات کرنے پر قائل کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔اس کی مساعی نے طالبان قیادت کو تعطل کے شکار امن عمل کو بحال کرنے کے پہلوؤں پر پاکستانی سیکورٹی حکام کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لیے قطر میں طالبان کے سیاسی کمیشن سے ایک وفدبھیجنے پر مجبور کر دیا۔حالانکہ طالبان حکومت افغانستان سے بات کرنے سے متواتر انکار کرتے رہے اور اس کے بجائے یہ کہہ کر امریکہ سے مذاکرات کرنے کی خواہش ظاہر کرتے رہے کہ افغانستان میں اصل اختیار اسے ہی حاصل ہے ،لیکن پاکستان نے اپنی کوششیں ترک نہیں کیں۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان رشتوں میں کڑواہٹ آجانے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا۔سرد جنگ کے دوران بھی جب وہ ایک دوسرے کے گہرے دوست اور حلیف تھے اور سابق سوویت یونین کے خلاف سیٹو اور سینٹو جیسے فوجی معاہدوں میں ساتھ ساتھ تھے، ان میں عدم اتفاق ہوتا رہا۔ماضی میں کئی بار امریکہ نے پاکستان کی امداد روکی اور اس پر پابندیاں عائد کیں۔ لیکن ان کے تعلقات نشیب و فراز کی صورت حال سے دوچار رہنے کے باوجود برقرار رہے اور دونوں ان سے مستفیض ہوتے رہے۔کسی نہ کسی سبب سے دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے اور وہ غیر دوستانہ صورت حال کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
پاکستان امریکہ تعلقات میں حالیہ دراڑکا سبب بننے والا سب سے بڑا معاملہ حقانی نیٹ ورک کا ہے۔امریکہ فی الحال اس نیٹ ورک اور افغان طالبان تحریک کو شکست دینے کے لیے ایک اور بڑی کوشش کر رہا ہے ۔اس کا خیال ہے کہ اس مقصد کی کامیابی کے لیے پاکستان مدد کر سکتا ہے لیکن ٹرمپ جس طرح امریکہ کے سابق حلیف کی تضحیک کر رہے ہیں اس سے بنتا کام بگڑ جائےگا۔

( رحیم اللہ یوسزئی کا یہ مضمون لندن سے انگریزی میں شائع ہونے والے ایک ماہانہ موقر جریدے ’ایشئین افئیرز میں شائع ہوچکا ہے۔رحیم اللہ یوسفزئی ایک پاکستانی صحافی ہیں اور افغانستان کے امور پر دسترس رکھتے ہیں۔ رحیم اللہ پہلے اور واحد رپورٹر ہیں جنہوں نے 1998میں افغانستان میں طالبا ن لیڈر ملا محمد عمر کا یک بار اور اوسامہ بن لادن کا دو بار انٹرویو لیا۔ رحیم اللہ کو ان کی کامیابیوں اور صلاحیتوں کے اعتراف میں تمغہ امتیاز اور ستارہ امتیاز سمیت کئی پر وقار ایوارڈز سے سرفراز کیا جاچکا ہے۔)

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Diplomacy is the answer in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News

Leave a Reply