کیا عمران خان پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ کرکے کرکٹ اور ہاکی کا زریں دور واپس لاسکیں گے

سید اجمل حسین

کرکٹ ورلڈ کپ ٹرافی کو پاکستانی کرکٹ بورڈ کی زینت بنانے والے عمران خان نیازی کے بارے میں کھیلوں اورخاص طور پر کرکٹ کے حوالے سے اگر یہ کہا جائے کہ وہ اندھیرے گھر کا اجالا بن کر نمودار ہوئے ہیں تو غلط نہ ہوگا۔لیکن یہ صحیح بھی اسی وقت سمجھا جائے گا جب عمران خان دہشت گردی کے باعث پاکستان پر لگے بدنامی کے داغ کو دھو نے اور عالمی سیاسی افق پر اس کی ساکھ بحال کرنے کے ساتھ ساتھ کھیلوں کی دنیا میں بھی پاکستان کو قعرمذلت سے باہر نکالنے کی کوششیں شروع کر دیں۔

آج پاکستان کی صورت حال یہ ہے کہ وہاں دہشت گرد تنظیمیں اور ان کی دہشت گردانہ کارروائیاں اس طرح آئے روز خبروں میں شہ سرخیوں کی شکل میں رہتی ہیں جیسا کسی دور میں کھیلوں کی دنیا خاص طور پر کرکٹ، ہاکی اور اسکواش کے حوالے سے قومی و بین الاقوامی اخبارات کے کھیل صفحات پرجلی حروف سے پاکستان کا ذکر کیا جاتا تھا۔

لیکن یہ اب یاد ماضی بن کر رہ گیا اور اب کرکٹ میچ میں رنز بنانے، ہاکی مقابلے میں گول کرنے یا اسکواش میں پوائنٹس کے بجائے دہشت گردانہ حملے میں ہلاکتوں کی تعداد کا ذکر کیا جاتا ہے۔ حالانکہ بات زیادہ پرانی نہیں ہے جب پاکستان مشتاق محمد ، ظہیر عباس، ماجد خان ، جاوید میاں داد،سرفراز نواز، وسیم اکرم، انضمام الحق، وقار یونس، ثقلین مشتاق، مشتاق احمد، عبدالقادراور عمران خان کی کرکٹ کے باعث،شہناز شیخ،سمیع اللہ، کلیم اللہ،حسن سردار،سلیم شیروانی،منظور حسین،صفدر عباس، اصلاح الدین،اختر رسول،شکیل عباسی، سہیل عباس،محمد شہباز،حنیف خان،قمر ضیائ، منظور الحسن،قاسم ضیاءاور محمد ثقلین کی ہاکی کے باعث اور جہانگیر خان کے اسکواش کے باعث پہچانا جاتا تھا۔

ان کھلاڑیوں کی جارحیت کے باعث ایک دنیا ان کی عاشق تھی۔ان کے جارحانہ کھیل اور حریف کو چاروں خانے چت کرنے کی ان کی امنگ لوگوں کے دل موہ لیتی تھی اور ہر ملک کا کرکٹ و ہاکی کا شوقین پاکستانی کھلاڑیوں کا کھیل دیکھنے کے ساتھ ساتھ ان کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب رہا کرتا تھا۔ پاکستان نیک نام تھا۔لیکن آج معاملہ اس کے برعکس ہے۔ نام آج بھی پاکستان کا خوب لیا جاتا ہے۔

جس طرح پہلے بچہ بچہ پاکستان کو کھیلوں میں جارحیت سے پہچانتا تھا اور کرکٹ و ہاکی میں جارحانہ انداز سے وہ جتنا مقبول و ہر دلعزیز تھاآج دہشت گرد تنظیموں کی جارحیت کے باعث دنیا میں بدنام اور قابل نفرت سمجھا جاتاہے۔اب کرکٹ ،ہاکی کھلاڑیوں یا کھیلوں کو فروغ دینے والے اداروں حبیب بینک، واپڈا، کراچی پورٹ ٹرسٹ ،پی آئی اے ، پاکستان کسٹمز اور پاکستان ریلویزسے پاکستان کی شناخت نہیں ہوتی بلکہ القاعدہ،لشکر عمر ،لشکر طیبہ، جیش محمد ، سپاہ صحابہ طالبان ، جماعت الدعویٰ،حقانی نیٹ ورک جیسی دہشت گرد تنظیموں اور حافظ سعید، مسعود اظہر مشتاق احمد زرگر، عمر شیخ، ہارون اکبر خان، مطیع الرحمٰن ارائن اور محمد طیب جیسے دہشت گردوں سے پہچانا جاتا ہے۔

لیکن انہیں دیکھنے کو کوئی بےتاب نہیں ہے ۔ہاں انہیں دنیا بھر میں پاکستان کو شرمسار کرنے اور دنیا کے کسی بھی حصہ میںبے جھجک دہشت گردانہ حملے کردینے کے باعث ہر شخص ان سے نفرت ضرور کرتا ہے۔پاکستانی کھلاڑیوں سے اگر دنیا میں ووستی کا پیغام جاتا تھا تو آج دہشت گردی کے توسط سے دشمنی اور نفرت کا وہ پیغام جاتا ہے جس سے پاکستان تنہا پڑتا جا رہا ہے۔لیکن اب اندھیرے میں اجالے کی ایک کرن عمران خان کی شکل میں نمودار تو ہوئی ہے ۔لیکن دیکھنا یہ کرن دنیا کو محبت بھری روشنی اور اجالے سے مبدل ہوگی یا پھیلنے سے پہلے ہی سکڑ جائے گی۔

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Can imran khan bring back paks golden days of cricket and hockey in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News

Leave a Reply