کیا اپوزیشن اتحاد بھی 2019 میں بی جے پی کا بال بیکا نہیں کر سکے گا؟

سید اجمل حسین

کرناٹک میں سہا برس بعد ریاست میں اپنی5سالہ میعاد پوری کرنے والی پہلی حکومت ہونے کا اعزاز پانے اور جنوبی ہند میں بی جے پی کی کوئی پذیرائی نہ ہونے کے باوجود جس طرح کانگریس کو اقتدار میں واپسی کے لیے اپنے سے کہیں کم عمر ایک علاقائی پارٹی جنتا دل سیکولر (جے ڈی ایس) سے اتحاد کرنا پڑا اور اپنے اراکین کی تعداد جے ´دی ایس سے دوگنی ہوتے ہوئے بھی وزیر اعلیٰ کا عہدہ اسے دینا پڑا اس سے تو یہی لگتا ہے کہ بی جے پی صدر امیت شاہ کا یہ بیان درست ثابت ہوگا کہ حزب اختلاف کی جماعتیں کتنا ہی مضبوط محاذ کیوں نہ بنا لیں 2019میں لوک سبھا انتخابات پر بی جے پی کے امکانات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور یہ کہ حزب اختلاف کا محاذ اس کا بال بھی بیکا نہیں کر سکے گا۔

دیکھا جائے تو2019کے عام انتخابات سے پہلے کرناٹک اسمبلی انتخابات کوارٹر فائنل تھے جس میں کانگریس کو بی جے پی نے ون ٹو ون مقابلہ میں شکست سے اس طرح دوچار کیا کہ اگر کانگریس نے نتیجہ آتے ہی جے ڈی ایس سے ہاتھ نہ ملا لیا ہوتا تو وہ اپوزیشن بنچوں پر بیٹھی نظر آرہی ہوتی۔ لیکن جے ڈی ایس سے بعد از انتخابات اتحاد اور پھر مخلوط حکومت تشکیل دینا اس امر کی غمازی کر رہا ہے کہ میزورم، راجستھان ،چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش کے اسمبلی انتخابات سیمی فائنل ہوں گے اور یہ وہ صوبے ہیں جہاں کانگریس کو نہ قبل از انتخابات سیٹوں پر سمجھوتے کےلیے کوئی علاقائی پارٹی ملے گی اور نہ ہی متفرق پارٹیوں کے اتنے اراکین جیت کر آسکیں گے کہ کرناٹک کی طرح حکومت سازی کا دعویٰ پیش کرنے کے لیے وہ پنی حمایت دے کرمطلوبہ تعداد پوری کرسکیں۔

اس کے باوجود کانگریس نے تو کیا خود عوام نے اس کا تصورر بھی نہیں کیا ہوگا کہ ایک روز کانگریس اتنی کمزور و ناتواں ہو جائے گی کہ قومی سطح پر کسی دور کی سب سے بڑی اور طاقتورپارٹی کا درجہ رکھنے والی کانگریس کو اسمبلی نتخابات میں ہی نہیں بلکہ پارلیمانی انتخابات میں بھی ون ٹو ون فارمولے میں اب شاید ہر ریاست میں اپنے برسہا برس پرانے وجود کے باوجود جمعہ جمعہ 8روز کی علاقائی پارٹی کی دم بن کر الیکشن لڑنا ہوگا۔اور صوبائی مخلوط حکومت بنے یا مرکز میں مخلوط حکومت بنے وہ اپنا وزیر اعظم یا اسپیکر بنوانا یا اپنی شرائط منوانا تو دور کی بات کچھ وزارتیں لینے کے لیے بھی علاقائی پارٹیوں کا منھ تکاکرے گی ۔

لیکن کانگریس کے سوائے بہار کی راشٹریہ جنتا دل(آر جے ڈی) کے ہندوستان کے کسی صوبہ کی علاقائی پارٹی سے بے لوث رشے نہیں ہیں ۔آر جے ڈی کے سربراہ ایک وقت یوپی اے کی سربراہ و کانگریس کی سینیئڑ لیڈر محترمہ سونیا گاندھی کے احترام میں سر تسلیم خم کر سکتے ہیں لیکن باقی ریاستوں کی علاقائی پارٹیاں کانگریس سے کسی بھی قسم کا انٹتخابی سمجھوتہ کرنے سے پہلے ہی اپنی شرطیں منوائیں گی۔کیونکہ یہ وہ علاقائی پارٹیاں ہیں جن کا اپنا ووٹ بینک اس قدر ہے کہ انہیںا اقتدار یا کامیابی حاصل کرنے کے لیے کسی ہم خیال یا دشمن کی دشمن پارٹی سے سیٹوں پر سمجھوتے کی ضرورت نہیں ہے۔

ایسے میں کانگریس نے اگر تنہا انتخابات لڑنے کو ترجیح دی تو” خود و ڈووبیں گے صنم “کے مصداق ووٹوں کے کئی خانوں میں تقسیم ہوجانے سے بی جے پی کی راہ ہموار ہو جائے گی۔مجموعی اعتبار سے دیکھا جائے تو مریندر مودی اور امیت شاہ کی قیادت میں بی جے پی نہ صرف کانگریس کی قیمت پر اپنے پیر پھیلا رہی ہے بلکہ آہستہ آہستہ ان ریاستوں اور علاقوں میں بھی طاقتور اور مضبوط ہو رہی ہے جہاں کبھی کوئی اس کا نام لیوا تک نہیں تھا ۔ہاں اگر مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا تمام غیر بی جے پی پارٹیوں کا محاذ اور بی جے پی پلس کے درمیان ون ٹو ون کا فارمولہ اختیار کر لیا گیا تو انفرادی لڑائی کے بجائے اجتماعیت بمقابلہ اجتماعیت ہو جائے گا اور اس میں علاقائی پارٹیوں کی مقبولیت کی چاشنی اسے اس قدر میٹھا کر دے گی کہ بی جے پی پلس کو منھ کی کھانا پڑے گی۔

کیونکہ بی جے پی کی حلیف کئی علاقائی پارٹیوں نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے نفاذ کے علاوہ کسی نہ کسی معاملہ پر بی جے پی کو آنکھیں دکھانا شروع کر دی ہیں۔اگر نریندر مودی نے فی الحال ناراض حلیف پارٹیوں کو قبل از ا عام نتخابات منالیا تو ممتا بنرجی کا ون ٹو ون فارمولہ بھی شاید بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل نہ کر سکے۔

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Bjp will retain power despite opposition alliance in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News

Leave a Reply