افغانستان پر ٹرمپ ایڈمنسٹریشن کی بدلتی حکومت عملی اور اس کے اثرات

لندن:ڈیموکریسی فورم کے حالیہ سمپوزیم میں ٹرمپ ایڈمنسٹرین کی افغانستان کے حوالے سے بدلتی حکمت عملی اور اس کے افغانستان اور اس کے پڑوسیوں پر پڑنے والے اثرات پر بحث کی گئی۔ افغانستان میں امریکہ کی نظر ثانی شدہ خارجہ پالیسی کی روشنی میں ڈیموکریسی فورم نے اس مرکزی سوال پر” کیا یہ نیانظریہ خطہ میں سرحد پار سے دہشت گردی روک دے گا“ ماہرین کے ایک پینل کو اظہار خیال کرنے کے لیے مدعو کیا۔
اپنے خیرمقدمی کلمات میں ڈیموکریسی فورم کے صدر لارڈ بروس نے افغانستان میں طویل عرصہ سے امریکی فوج کی تعیناتی کا ذکر کیا۔ یہ انتباہ کہ پاکستان نے دہشت گردوں کو مسلسل پناہ دے کر بہت کچھ کھویا ہے اور ہندوستان کو امریکہ کا کلیدی دفاعی و اقتصادی شریک بتا کر صدر ٹرمپ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ان کی ہمدردی کس سے ہے۔
لارڈ بروس نے مزیدکہا کہ تمام متاثرہ ممالک کو برطانوی تاریخ سے سیکھنا چاہیے۔ برطانیہ نے یورپ کو کسی ایک ملک کی چودھراہٹ سے بچانے کے لیے 18ویں اور19ویں صدی میں فوجی اتحاد کیا اور امریکہ کو بھی جنوب ایشیا میں ایسا ہی کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔ افغانستان کو عدم استحکام سے بچانے اور ہندوستان،پاکستان اور چین کے درمیان کشیدگی دور کرنےکے لیے امریکہ کو سخت محنت کرنا ہوگی۔
افغان نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے سابق افغان سفیر متعین کناڈ ا اور فرانس عمر صفدر نے ، جوافغانستان کے چیف ایکزیکٹیو کے ایک سابق سینیئر مشیر ہیں، کہا کہ زیادہ تر افغانوں کا اس سوال کا جواب ’اثبات ‘ میںہوگا حالانکہ کئی محاذوں پر مصروفیت اس امر کو یقینی بنانے کی متقاضی ہوگی کہ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو اس طرح روکاجائے کہ تمام متعلقہ فریق مطمئن ہوجائیں۔ عمر صمد نے مزیدکہا کہ افغانوں کی اکثریت کو اس امر کی توقع نہیں ہے کہ ملک میں بغاوت کو مکمل اور فوری طور پر روکا جاسکتا ہے۔لیکن وہ اس امر کی توقع ضرور رکھتے ہیں کہ دہشت گردی کو پنپنے اور فعال رکھنے والی پالیسیوں میں بتدریج تبدیلی ہوگی۔
عمر صمد نے کہاکہ1980کے عشرے میں افغانستان سے سوویت یونین کی واپسی سے افغانستان کو مغربی حمایت حاص نہیں رہی ۔ اور القاعدہ جیسی غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں نے اس خلا کوپر کر دیا اور علاقائی دشمنیاں رنگ لائیں اور طبقاتی جنگ شروع ہو گئی۔ اور خفیہ طاقت کی شکل میں طالبان کا وجود عمل میںآیا اور اس کو فروغ حاصل ہونا شروع ہو گیا ۔طالبان کا مقصد مدارس سے متاثرہ سماجی طور طریقے رائج کر کے افغان عوام کو تسخیر کرنا تھا۔
1990کے عشرے میں ملک ایک تباہ حال ملک بن گیا اور پاکستان کی فوج کے تعاون اور پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ذریعہ تسلیم کیے جانے والے طالبان کے پرچم تلے انتہا پسندوں گروہوں کا ایک غول ملک پر حاوی ہو گیا۔ 9/11کے بعد طالبان کی معزولی کے بعد فنڈ کی فراوانی کے بعدفند کی ناکافی فراہمی ، مختصر میعادی فوجی اضافہ اور قبل از وقت دی جانے والی ڈیڈلائنز سے افغان مشن پر کاری ضرب لگی۔
عمر صمد نے کہا کہ مقصد محض فوجی حل کے بجائے سیاسی امن معاہدہ بنایا جائے لیکن ابھی تک کوئی درست اور قابل قبول حل تلاش نہیںکیا جا سکا ہے۔سرحد پار نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک میںواقع دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور پناہ گاہوں اور ایران میں موجود عناصر کا، جو افغانستان کے خفیہ نظام میں سرایت کر گئے ہیں، قلع قمع کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ نئی امریکی پالیسی سے کافی پر امید ہیں اور باوجود اس کے کہ یہ پالیسی عمل آوری اور اس کے بعد کے نتائج کے حوالے سے اگر مگر کی کیفیت سے دوچار ہے اس کے زیادہ امید افزاءامکانات دکھائی دے رہے ہیں۔
صمد نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کو سرعام حتمی تاریخوںکے اعلان سے بچتے ہوئے لچکدار اور حالات کے مطابق رہنا چاہیے۔
افغان حکومت کو اچھی حکومت چلانے کے لیے اصلاحات، اقدمات،سیکورٹی سروسز کے لیے مناسب اور عمدہ ٹریننگ و جنگی سزو سامان، سفارتی پیش رفت اور خفیہ اطلاعات کے تبادلے کی ضرورت ہے۔ماضی کی کوششوں کے برعکس فوجی تعطل دور کرنے، دہشت گردوں منشیات کے دھندے پر ،جسے دہشت گردوں کی اعانت کے لیے استعمال کیاجاتا ہے،قابو پانے اور سیاسی مذاکرات کے لیے گنجائش حاصل کرنے کے لیے ضروری دباؤ ڈالنے کی نئی پالیسی وضع کرنی چاہیے۔تشدد کے خاتمہ کو قریب الوقع نہیں ہو سکتا لیکن افغانستان میں امن کی راہ کھولنے کے لیے متبادل طریقہ کی ضرورت ہے۔
بی بی سی ورلڈ سروس کے ڈاکٹر داؤد عزمی نے علاقائی چیلنجز اور امریکہ افغانستان جنوب ایشیا حکمت عملی کے مواقعوں کا جائزہ لیا اور کہاکہ پاکستان پر دباؤ اور صدر ٹرمپ کاپاکستان کی سر عام مذمت کرنا اس حکمت عملی کا ایک جزو ہے۔عامی نے کہا کہ نئی امریکی پالیسی کو سب سے بڑا چیلنج علاقائی دشمنیوں اور محاذ آرائی سے ہے۔ کئی پڑوسی ممالک خاص طور پر روس ،ایران ، چین اور پاکستان امریکی فوج کی افغانستان میں طویل موجودگی کی مخالفت کر رہے ہیں۔علاواہ ازیں الزام تراشی کا کھیل شروع ہو گیا ہے۔ امریکہ روس اور پاکستان پر طالبان سے پینگیں بڑھانے کا الزا م لگا رہا ہے تو جواباً روس امریکہ پر داعش کی پشت پناہی اور حمایت کرنے کاالزام عائد کر رہا ہے۔
عزمی نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سخت تنقید کرنے اور اپنا پیغام پہنچانے کے لیے حالیہ سرکاری دوروں کے باوجود پاکستان کے رویہ میں کچھ تبدیلی نظر آئی ہے۔منشیات اور 2016سے داعش کا ابھرنا جنوب اور وسطی ایشیا کے تمام ممالک کا یکساں مسئلہ ہے۔اس کے باوجود ان مین باہم اعتماد کا فقدان ہے۔ایران کے تئیں امریکی مخاصمت اور روس سے کشیدگیوں سے منفی اثرات پڑ رہے ہیں نیز افغانستان میں عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے ۔ عزمی نے یہ کہتے ہوئے اپنی بات مکمل کی کہ حکومت امریکہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج تمام علاقائی ممالک کو ہم آہنگ کرنے کا ہے۔
مون ٹریری ، کیلفورنیا کے نول پوسٹ گریجویٹ اسکول میں ایسو سی ایٹ پروفیسر تھامس ایچ جانسن نے کہا کہ اس سوال کا کہ کیانئی افغان پالیسی خطہ میں سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی روک دے گی، جواب نفی میں ہے۔صدر ٹرمپ کی حکمت عملی سیاسی حقیقت یا اصولی طور پر بے لنگر جہاز کیطرح ہے جس کی عرشہ کی سیٹوںکو افغان ٹائیٹینک میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
جانسن کے خیال میں افغانستان میں جنگ ایک دلدل بن چکی ہے ۔ امریکہ نے عالمی جنگ کے بعد مارشل پلان سے زیادہ اخراجات افغانستان کو امداد دینے میں کر دیے۔اس کے باوجود ملک کے مسائل بشمول لڑکھڑاتا بنیادی ڈھانچہ اور 40فیصد بے روز گاری جوں کے توںہیں۔
ٹرمپ کی نام نہاد افغان پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے جانسن پاکستان اور ہندوستان کے تئیں صدرکے مطمح نظر کے زیادہ حامی نظر آئے ۔اور کہا کہ افغانستان میں پاکستان جیسے غیر معتبر اتحادی کا مقابلہ کرنے کے لیے ہندوستان مفید رول ادا کر سکتا ہے۔جانسن نے پاکستان کی امداد میں تخفیف کرنے اور اس پر دباؤ ڈالنے کی وکالت کرنے کے ساتھ ساتھ ممبئی حملوں کے کلیدی ملزم حافظ سعید کی رہائی پر بھی خوف و اندیشوں کا اظہار کیا۔
جانسن نے کہا کہ امریکہ کے پاس پاکستان کو راہ راست پر لانے کے لیے کئی طریقے ہیں ۔ افغانستان کا مسئلہ پاکستان کے بغیراگر حل نہیں ہوسکتا تو ہندوستان کے بغیر بھی حل نہیں کیاجاسکتا۔
جانسن نے تھوڑا زیادہ مثبت خیال کے ساتھ اپنی بات ختم کی کہ طالبان میںرابطہ کا فقدان ہے لیکن مجموعی صورت حال بڑی اور اہم اسڑیٹجی تبدیلیوں کے بغیر تاریک ہی رہے گی۔

Read all Latest politics news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from politics and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: An afghan solution in Urdu | In Category: سیاسیات Politics Urdu News
Tags: , ,

Leave a Reply