دیسی لڑکی کے کردار میں خود کو بہتر محسوس کرتی ہوں:سونا کشی

نئی دہلی:بالی وڈ اداکارہ سوناکشی سنہا کو اپنا کریئر شروع کرنے میں تو کسی بڑی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا لیکن ان کا کہنا ہے کہ ایکٹر ہونے کی قیمت بھی ادا کرنی پڑتی ہے۔

bollywood actress sonakshi sinha story
اداکارہ سوناکشی کا خیال ہے کہ اداکار ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ اپنے ہنر کے ذریعے بہت بڑی آبادی تک کوئی بھی بات پہنچا سکتے ہیں۔ لوگ آپ کی بات سنتے اور آپ کی باتوں پر غور بھی کرتے ہیں۔ آپ اپنی اس حیثیت کو لوگوں تک اچھی باتیں پہنچانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں لیکن اس پیشے کے نقصانات بھی ہیں۔
bollywood actress sonakshi sinha story
سوناکشی کا کہنا ہے کہ بطور ایک اداکارہ وہ مسلسل لوگوں کی نظروں میں رہتی ہیں اور یہ اس پیشے کا سب سے بڑا نقصان ہے۔ عوام اداکاروں پر ہر وقت نظر رکھتی ہے اور یوں ان کی آزادی چھن رہی ہوتی ہے۔
bollywood actress sonakshi sinha story
ان کا کہنا تھا کہ اداکار ہمیشہ اپنی مرضی سے کام نہیں کر سکتے کیوں کہ لوگ ان پر مسلسل نظر رکھتے ہیں۔ اگرچہ یہ ان کی نجی زندگی میں مداخلت ہے لیکن لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے ہیں۔
bollywood actress sonakshi sinha story
سوناکشی کا کہنا تھا کہ آج بالی وڈ میں ان کا جو مقام ہے اس کے لیے ان کے والد شترو گھن سنہا کو ان پر بہت فخر ہے۔سوناکشی نے کہا کہ وہ دیسی لڑکی کے کردار میں خود کو بہتر محسوس کرتی ہیں۔ وہ خود دل سے ایک دیسی لڑکی ہیں اور انھیں دیسی کپڑے پہننا اور پنجابی گانوں پر رقص کرنا بہت پسند ہے۔
bollywood actress sonakshi sinha story
اگرچہ سوناکشی نے کچھ کردار تیز طرار لڑکیوں کے بھی کیے ہیں تاہم وہ کہتی ہیں کہ انھیں زیادہ مزا ’لٹیرا‘ اور ’دبنگ‘ جیسی فلموں کر کے آتا ہے۔سوناکشی سنہا کی اس ہفتے نئی فلم ریلیز ہوئی ہے جس کا نام ہے ‘ہیپی پھر بھاگ جائے گی۔’ یہ ایک مزاحیہ فلم ہے اور سوناکشی کا خیال ہے کہ وہ خود اصل زندگی میں اس کردار جیسی ہی ہیں۔

(تصاویر: انسٹا گرام)

ایسے ہی پرکشش فوٹو گیلری دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Read all Latest photogallery news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from photogallery and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Bollywood actress sonakshi sinha story in Urdu | In Category: فوٹو گیلری Photogallery Urdu News

Leave a Reply