سردار موٹا سنگھ کو یو کے کا پہلے سکھ جج ہونے کا اعزاز حاصل تھا

سبھاش چوپڑا
برطانیہ کی ہائی کورٹ کے پہلے نسلی اقلیتی جج سردار موٹا سنگھ ، جن کا 13نومبر کو انتقال ہو ا ہے، کسی کی مدد کے بغیر اپنی ذاتی جدوجہد سے کامیابی حاصل کرنے والے شخص تھے۔وہ جس وقت کینیا کے دارالخلافہ نیروبی میں تھے تو صرف16سال کی عمر میں ان کے والد سردار دلیپ سنگھ انتقال کر گئے۔
جس کے بعد وہ انگلینڈ چلے گئے جہاں انہوں نے شبینہ کالج سے قانون کی ڈگری حاصل کی اور کینیا واپس آکر وکالت شروع کردی۔ بعد ازاں وہ برطانیہ ہجرت کر گئے جہاں انہوںنے اپنی قابلیت سے اس قدر ترقی کی کہ بہت جلد انہیں پہلے سکھ کوئینز کونسل جج ہونے کا اعزاز حاصل ہو گیا۔ یہ وہ اعزاز ہوتا ہے جس سے کسی بیرسٹر کو اس کے قانونی پیشہ میں مہارت اس کی صلاحیتوں اور قابلیت کے اعتراف میں سرفراز کیاجاتا ہے۔

وہ ایک نہایت پارسا، صوفی صفت اور موسیقی و اردو شعرو سخن کی دلدادہ شخصیت تھی۔وہ ایسی نہایت بردبار، کم سخن اور نہایت رحم دل شخصیت تھی جو روحانیت اور انصاف کا مرکب تھی۔اور کسی بھی فیصلہ کے لیے عدالت جانے سے پہلے دعا کے لیے گوردوارہ جایا کرتے تھے۔

وہ لندن سے شائع ہونے والے انگریزی جریدے ایشین افئیرز کے پبلشر اجیت ست بھانبڑا کے، جو سر موٹا کو بھجی(بڑے بھائی) کے طور پر مخاطب کیا کرتے تھے، دیرینہ دوست تھے۔ سر موٹا سنگھ جی ست بھانبڑا کو ان کے پبلشنگ کیریر میں قانونی معاملات پر مفت مشورے دیا کرتے تھے۔حالیہ برسوں میں وہ ایشین افیئر ز کے سسٹر پبلیکیشن ڈیموکریسی فورم وائس چیرمین کے طور پر بھی کام کرتے رہے۔سر موٹا سنگھ جی کے، جن کی انتقال کے وقت86سال عمر تھی، لواحقین میں بیوی، دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔

Read all Latest personalities news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from personalities and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Mota singh in Urdu | In Category: شخصیات‎ Personalities Urdu News

Leave a Reply