گھریلو نوکرانی سے معروف سائنسداں بن گئی

اسماء طارق ،گجرات

مانیہ سکوڈوسکا ایک شرمیلی لڑکی جسے دنیا مادام کیوری کے نام سے جانتی ہے کی کہانی جو حالات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے اور جینے کا ہنر سکھاتی ہے ۔دنیا کی نامور ترین خاتون سائنس دان جس کو کسی زمانے میں سردی سے بچنے کیلئے رات کو اپنے اوپر کتابوں کا ڈھیر رکھنا پڑتا۔

میں کتاب پڑھ رہی تھی کہ اچانک میرے دھیان کاغذ پر لکھے ایک نام پر گیا جس نے میرے ذہن کو اپنے حصار میں لے لیا اور مجھے تخیل کی دنیا میں کئی سال پیچھے لے گیا۔جہاں مادام کیوری جس کا شمار دنیا کی ان چند خواتین میں ہوتا ہے جو تاریخ میں زندہ جاوید ہوگئیں ، پہلی مرتبہ جسے سائنس میں خدمات کے عوض دو مرتبہ نوبل پرائز دیا گیا ایک مرتبہ 1903 میں فزکس میں نمایاں کام سرانجام دینے پر اور پھر 1911 میں کیمسٹری میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر۔

خقیقتا اگر جوانی میں پولینڈ کا خوشحال گھرانا اس کی بے عزتی نہ کرتا تو وہ نہ سائنس دان بنتی اور نہ ہی ریڈیم دریافت کر سکتی . واقعہ دراصل یہ ہے کہ وہ جب انیس سال کی تھی تو ایک امیر گھرانے میں ملازمت کرتی تھی مگر اس گھر کے لڑکے کو وہ پسند آ جاتی ہے اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے مگر اس کے گھر والے کیوری کو انتہائی بے عزت کرکے گھرسے نکال دیتے ہیں کہ جس لڑکی کا کوئی مقام نہ ہو وہ اس سے کیسے اپنے بیٹے کی شادی کر سکتے ہیں.

بے عزتی کاٹھیڑ کھا کر مادام کیوری حیرانگی کے عالم میں ایسے غرق ہوئی وہ ہر چیز بھول گئی اب اس پر صرف کچھ کرگزرنے کی دھن سوار تھی۔وہ 1891 میں پیرس چلی گئی اور وہاں یونیورسٹی میں سائنس میں داخلہ لے لیا، وہ تعلیم میں اتنی غرق تھی کہ کسی کو اپنا دوست نہ بناسکی ، جن دنوں وہ فزکس اور ریاضی کے مطالعے میں مصروفتھی تو وہ افلاس کی شدید شکارتھی وہ اکثر بھوک کے مارے بیہوش ہوجایا کرتی تھی اور سردی سے بچاؤ کے لیے وہ اپنے اوپر کتابوں کا ڈھیر رکھتی تھی وہ تین شلنگ روزانہ کے حساب سے خرچ کرتی تھی۔لیکن ہمیں اس طالبہ کے حالات پر افسوس کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ایسی طالبہ جسے دس سال بعد دنیا کی مشہور ترین عورت کہلوانا تھا اپنے مطالعہ میں مستغرق رہنے کے باعث بھوک کے خیال سے آزاد رہتی تھی کیونکہ بھوک اس کی داخلی آگ کو ٹھنڈا کرنے میں یکسر ناکام تھی اور نہ ہی اسے ارادے و عزم سے متزلزل کر سکتی تھی۔

تین سال بعد اس نے پیرس میں ایک شخص سے شادی کرلی جو اس کی طرح سائنس کا دیوانہ تھا اسکا نا م پاٹری کیوریتھا جو محضپینتیس سال کا ہونے کے باوجود سائنس کی دنیا میں بےحد مشہور تھا۔جس روز انہوں نے شادی کی تھی ان پاس صرف دو بائیسکل تھے جس پر وہ دیہات کی طرف ہنی مون منانے چلے گئے وہ ڈبل روٹی پنیر اور پھل کھاتے اور رات کو ایسی سراؤں پر سوتے جہاں موم بتیوں کی روشنی سے دیواروں پر عجیب و غریب سائے رینگتے معلوم ہوتے۔

تین سال بعد مادام کیوری ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کی تیاری کررہی تھی تو اس نے اس راز کو پرکھنے کا فیصلہ کر لیا کہ یورینیم دھات سے روشنی کیوں نکلتی ہے .یہ کیمیا کے سربستہ عظیمرازوں میں سے ایک سربستہ راز کا سفر عظیم تھا۔

سینکڑوں دھاتوں پر تجربات کرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچی کہ شعاعیں کوئی بے نام عنصر فضا میں بکھیرتی ہیں اور اس نئے عنصر کو دریافت کرنے کے لیے اس کا شوہر بھی اس کے ساتھ تجربات میں شامل ہو گیا۔ کئی ماہ کے تجربات کے بعد انہوں نے ایک ایسا عنصر دریافت کیا جسکی روشنی یورینیم سے بیس گنا زیادہ تھی ایک دھات جسکی شعاعوں کو صرف سکہ ہی روک سکتا تھا انہوں نے اسے “ریڈیم”کا نام دیا ، جیسا کہ سائنسدانوں نے،جو اس سے پہلے ایسی دھات کا وجود ہی نہیں مانتے تھے اس کے پختہ ثبوت مانگے ، اگلے چار سال 1898سے 1902 تک وہ اس کی موجودگی کے ثبوت تلاش کرتے رہے، انہوں نے آٹھ ٹن لوہے کو ابال کر اسے عمل تقطیر کے ذریعے سے حاصل کیا وہ انتہائی بوسیدہ احاطہ میں انتہائی خستہ حالی میں کام کرتے تھے اور یہی بھٹی سے نکلنے والا دھواں مادام کیوری کی آنکھوں اور حلق کے لیے مہلک ثابت ہوا۔ اس دریافت کے بعد وہ وہ روئے زمین کی نامور خاتون بن گئی۔

1902 میں مادام کیوری اور اس کے شوہر نے دولت ترک کر کے سائنس کی بے لوث خدمت کا فیصلہ کیا اس وقت یہ بات دریافت ہوچکی تھی کہ ریڈیم کینسر کے علاج میں مفید ثابت ہوئی ہے اور وہ کسی بھی تجارتی کمپنی کو ا س کا فارمولہ بھیج کر مالامال ہوسکتی تھی مگر اس سے اس کے عوض ایک پائی بھی وصول نہ کی اور کہ ریڈیم ایک مہلک بیماری کے علاج کے لئے ثابت ہوئی ہے اور مجھے اس سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے کیونکہ یہ سائنس کے اصولوں کے خلاف ہے۔اگرچہ مادام کیوری اب اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن انسانیت کے لیے ان کی خدمات نے انہیں ا مر کردیا ،صدیاں بیت جائیں زمانے گزر جائیں مگر ان کا نام ہمیشہ سنہرے حروف میں دمکتارہے گا ۔

Read all Latest personalities news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from personalities and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Marie curie the story behind the discovery in Urdu | In Category: شخصیات‎ Personalities Urdu News
What do you think? Write Your Comment