سوانحی خاکہ:مجروح سلطان پوری

ڈاکٹر خلیق انجم

ایک دفعہ میں نے مجروح صاحب سے ان کا سنِ ولادت دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ یقین کے ساتھ تو کچھ نہیں کہہ سکتے، لیکن کچھ شواہد ایسے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ 1915 یا 1916 میں اتر پردیش کے ضلع سلطان پور میں قصبہ کجہڑی میں پیدا ہوئے تھے، لیکن مجروح کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادے نے انگریزی میں مجروح کا جو مختصر سوانحی خاکہ مرتب کیا ہے، اس کے مطابق وہ پہلی اکتوبر 1919 کو پیدا ہوئے تھے۔

مجروح کا پورا نام اسرار حسن خاں تھا۔ چونکہ مجروح انجمن ترقی اردو مہاراشٹر کے صدر تھے، اس لیے میں جب ممبئی جاتا تو اکثر ان کی خدمت میں حاضر ہوتا۔ ایک دفعہ کوئی واقعہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ میری رگوں میں راجپوتی خون ہے۔ اسی لیے بہت جلد غصہ آجاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مجروح نسلاً راجپوت تھے۔

مجروح کے والد محمد حسن خاں صاحب غالبا پولس میں ملازم تھے۔ مجروح اپنے والدین کی اکیلی اولاد تھے، اسی لیے خاصے لاڈ و پیار سے پالے گئے۔ ان کے والد کی مالی حالت بہت اچھی نہیں تو بری بھی نہیں تھی۔ جب مجروح کو اسکول بھیجنے کا وقت آیا تو خلافت تحریک شباب پر تھی۔ ان کے والد نے انگریز دشمنی میں طے کیا کہ وہ اپنے بیٹے کو انگریزی نہیں پڑھائیں گے۔ چنانچہ ان کو ایک مقامی مکتب میں داخل کر دیا گیا، جہاں انہوں نے عربی، فارسی اور اردو پڑھی۔ درسِ نظامیہ کے مکمل ہونے میں صرف دو سال رہ گئے تھے کہ ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس کی وجہ سے مجروح نے تعلیم ترک کر دی۔ ہوا یہ کہ مجروح نے کسی لڑکے سے مذاق کیا۔ اس لڑکے نے مولوی صاحب سے شکایت کردی۔ بات بہت معمولی تھی، لیکن مولوی صاحب نے کچھ پوچھے گچھے بغیر بیدا ٹھا کر مجروح کی پٹائی شروع کر دی۔ پہلے تو مجروح برداشت کرتے رہے، جب پٹائی حد سے بڑھ گئی تو انہوں نے ایک ہاتھ سے بید پکڑی اور دوسرے ہاتھ سے مولوی صاحب کی گردن۔ ظاہر ہے کہ اس حرکت کے بعد وہ اسکول میں کیسے رہ سکتے تھے۔ انہیں نکال دیا گیا یا شاید وہ خود مدرسہ چھوڑ کر آگئے۔ کچھ عرصے بے کار رہے اور پھر 1933 میں لکھنو کے طبیہ کالج میں داخلہ لے لیا۔

مجروح بہت ذہین طالب علم تھے اور طالب علمی ہی کے زمانے میں طب پر انہوں نے ایسی قدرت حاصل کرلی تھی کہ جھوائی ٹولے کے بڑے طبیب شفا المسلمین حکیم عبدالمعید جب کسی علاج کے سلسلے میں باہر تشریف لے جاتے تو مجروح کو اپنی کرسی پر بٹھا کر جاتے۔ 1938 میں کالج سے سند حاصل کرنے کے بعد مجروح فیض آباد کے قصبہ ٹانڈہ چلے گئے اور وہاں انہوں نے اپنا مطب قائم کر لیا۔ مجروح نے خود مجھے مسکراتے ہوئے بتایا تھا کہ ٹانڈہ میں ایک بہت خوبصورت لڑکی سے ان کو عشق ہوگیا تھا، جس کا بعض لوگوں کو علم ہوگیا۔ اس لیے وہ لڑکی کی رسوائی کے ڈر سے ٹانڈہ چھوڑ کر سلطان پور آگئے۔ حکیم ابن کا ایک مختصر سا مقالہ چراغ کے مجروح نمبر میں شائع ہوا تھا، جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ مجروح کو ابتدا ہی سے علم موسیقی سے لگاو تھا اور دلچسپی تھی۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ لکھنو کے میوزک کالج میں انہوں نے داخلہ لے لیا تھا۔ میرے نزدیک طالب علمی کے زمانے میں اس طرح کا شوق نامناسب تھا (ظاہر ہے یہ وہ زمانہ تھا جب مجروح طبیہ کالج کے طالب علم تھے)، اسی لیے میں نے ان کے والد محترم کو بذریعہ خط مطلع کر دیا۔ ان کے والد نے اس پر اپنی شدید ناگواری کا اظہار کیا اور میوزک کالج جانے سے منع کردیا۔ مجروح نے وہاں جانا بند کر دیا اور یہ سلسلہ ختم ہوگیا۔

ایک گفتگو کے دوران مجروح نے دماغ پر زور دے کر بتایا تھا کہ انہوں نے 1935 یا 1936 میں شاعری شروع کی تھی۔ مجروح کی شاعری کے آغاز کے بارے میں مجروح کے لڑکپن کے دوست حکیم ابن نے چراغ ممبئی میں لکھا ہے : مجروح کی طبیعت کو شاعری سے لگاو اور کافی مناسبت تھی۔ سلطان پور میں ہی پہلی غزل کہی اور وہیں کے ایک آل انڈیا مشاعرے میں سنائی۔ اس مشاعرے میں مولانا آسی الدنی شریک تھے۔ مولانانے اپنی ایک غزل مولانا کی خدمت بغرضِ اصلاح روانہ کی، مولانا نے مجروح کے خیالات کو باقی رکھنے اور کسی صحیح مشورے کے بجائے ان کے اشعار ہی سرے سے کاٹ دیے اور اپنے اشعار لکھ دیے۔ مجروح نے مولانا کو لکھا کہ مقصدِ اصلاح یہ ہے کہ اگر قواعد یا زبان یا بحر کی کوئی لغزش ہو تو مجھے آپ اس طرف متوجہ کریں، یہ نہیں کہ اپنے اشعار کا اضافہ کر دیں۔ مولانا نے جواب دیا کہ اس قسم کی اصلاح کے لیے میرے پاس وقت نہیں، چنانچہ یہ سلسلہ بند ہوگیا۔ اس کے بعد مجروح نے اپنا کلام کسی استاد کو نہیں دکھایا اور خود محنت کرکے فنِ شاعری اور زبان و بیان پر وہ قدرت حاصل کی جو ان کے معاصرین میں بہت کم لوگوں کو نصیب تھی۔ ان کی ذہنی تربیت میں پروفیسر رشید احمد صدیقی اور جگر مراد آبادی کا بہت ہاتھ تھا۔ اگرچہ ان دونوں سے مجروح کا رشتہ استاد اور شاگرد کا نہیں تھا۔ رشید احمد صدیقی صاحب سے تو معاملہ یہ تھا کہ رشید صاحب نے مجروح میں ایک بڑے شاعر کو دیکھ لیا تھا، اس لیے وہ چاہتے تھے کہ مجروح عربی، فارسی اور اردو کے کلاسیکی ادب کا بہت اچھا مطالعہ کریں۔ مجروح کو یونیورسٹی میں تو داخلہ مل نہیں سکتا تھا، اس لیے پروفیسر رشید احمد صدیقی نے تین سال تک انہیں اپنے گھر پر رکھا، جہاں مجروح نے کلاسیکی ادب کا بہت اچھا مطالعہ کیا۔

یہ بات 1945 کی ہے۔ مجروح ایک مشاعرے میں شرکت کے لیے جگر صاحب کے ساتھ ممبئی گئے۔ وہاں مشاعرے میں جب انہوں نے اپنا کلام سنایا تو فلموں کے صفِ اول کے ڈائریکٹر کاردار مجروح کی شاعری سے بہت متاثر ہوئے۔ ان دنوں کاردار شاہ جہاں نام سے ایک فلم بنا رہے تھے۔ نوشاد میوزک ڈائریکٹر تھے۔ کاردار نے مجروح کو پانچ ہزار روپے مہینے کی ملازمت کی پیش کش کی۔ مجروح اتنی بڑی تنخواہ کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے، اسی لیے انہوں نے فوراً منظور کر لیا۔ انہوں نے اس فلم کے گانے لکھے، نوشاد نے موسیقی دی اور سہگل پر یہ گانے فلمائے گئے۔ ان گانوں کو اتنی مقبولیت حاصل ہوئی کہ آج بھی لوگ ان پر سر دھنتے ہیں۔ مجروح نے فلمی زندگی کے پچپن برسوں میں تقریبا ساڑھے تین سو گانے اردو میں اور تین بھوجپوری میں لکھے۔ ان کے پچانوے فیصد گانوں کی مقبولیت حاصل ہوئی۔

انجمن ترقی اردو (ہند) نے مجروح کے کلام کا پہلا مجموعہ 1953 میں غزل کے نام سے شائع کیا تھا۔ بعد میں اس مجموعہ کلام کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے اور کئی ایڈیشنوں میں بعد کے کلام کا اضافہ بھی ہوا۔

1949 میں بقول جناب معین احسن جذبی (چراغ، ممبئی)، جب کمیونسٹ پارٹی نے ریلوے اسٹرائک کا نعرہ دیا تو سارے ہندوستان میں جگہ جگہ کمیونسٹ گرفتار ہونے لگا۔ چونکہ مجروح کمیونسٹ پارٹی کے باقاعدہ ممبر تھے اور انہوں نے مزدوروں کے حق میں شعر کہے تھے، اس لیے انہیں بھی گرفتار کر لیا گیا اور وہ ایک سال تک جیل میں رہے۔اپنی شاعری اور فلمی گانوں کی وجہ سے انہیں دنیا کے ان تمام چالیس پینتالیس ممالک میں شہرت حاصل ہوئی جہاں اردو بولنے اور سمجھنے والے ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کے علاوہ روس، امریکہ، کنیڈا، انگلینڈ، موریشس اور خلیجی ممالک میں ان کے اعزاز میں جلسے ہوئے اور انہیں انعامات سے نوازا گیا۔

عرصے سے مجروح کے پھیپھڑوں میں تکلیف تھی، جب یہ تکلیف بہت بڑھ گئی تو ممبئی کے لیلاوتی اسپتال میں داخل کر دیا گیا، جہاں 24 مئی، 2000 کی شب ان کا انتقال ہوگیا۔

Read all Latest personalities news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from personalities and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Majrooh sultanpuri biography in Urdu | In Category: شخصیات‎ Personalities Urdu News

Leave a Reply