قادر خان کی زندگی کا ایک پوشیدہ مگر قابل رشک پہلو

سہیل انجم

کبھی کبھی ہم لوگ کسی کو کیا سمجھتے ہیں اور وہ کیا نکلتا ہے۔ اور خاص طور پر مرنے کے بعد پتا چلتا ہے کہ ارے ہم جس شخص کو بہت برا یا بہت خراب سمجھتے رہے ہیں وہ تو بڑا اچھا آدمی تھا۔ بظاہر اس میں خوبیاں کم تھیں لیکن بباطن وہ خوبیوں سے لبریز تھا۔ عام طور پر فلمی دنیا میں کام کرنے والوں کے بارے میں لوگوں کی رائیں اچھی نہیں ہوتیں۔ اس کے اسباب بھی ہیں۔ لیکن کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو اس برائی میں رہ کر بھی بھلائی کے کام کرتے رہتے ہیں۔ موجودہ دور میں بھی ایسے کئی اداکار ہیں جو انسانی ہمدردی کے بے انتہا کام کرتے ہیں اور جو غریب غربا کی پرورش کرتے ہیں۔ بالی ووڈ کے سب سے اچھے گلوکار محمد رفیع کے بارے میں بھی یہی مشہور ہے۔ ایک بار فلمی شاعر اور ڈائلاگ رائٹر جاوید اختر نے محمد رفیع کے انتقال کے بعد ایک ٹیلی ویژن چینل کے لیے ان پر ایک پروگرام کیا تھا۔ انھوں نے بتایا تھا کہ محمد رفیع کے انتقال کے کچھ دنوں کے بعد دور دراز کے علاقوں سے کچھ لوگ ممبئی ان کے گھر آئے اور جب ان کو معلوم ہوا کہ محمد رفیع اس دنیا میں نہیں رہے تو انھوں نے ایسا راز کھولا جو کسی کو نہیں معلوم تھا۔ ان لوگوں نے بتایا کہ وہ بہت غریب لوگ ہیں۔ کئی برسوں سے رفیع صاحب ہر مہینے کے پہلے ہفتے میں ایک مقررہ رقم ان لوگوں کے نام بھیجتے تھے جس سے ان لوگوں کا گزارہ چلتا تھا۔

بالی ووڈ کے ایک بہت بڑے فنکار، کہانی نویس، ڈائلاگ رائٹر، کامیڈین اور اداکار قادر خان کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ ان کی زندگی میں تو ہمیں یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ وہ ایک انتہائی مذہبی آدمی تھے۔ توحید پر ان کا پختہ ایمان تھا۔ ان کی شخصیت میں اسلامی اقدار کا رچاو¿ تھا۔ ایک واٹس ایپ گروپ پر ان کا ایک ویڈیو دیکھنے کو ملا جس میں وہ اللہ رب العزت کے اوصاف بیان کر رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ عبادت صرف اللہ کی ذات کے لیے مخصوص ہے۔ انھوں نے کسی بہت بڑے اسلامی اسکالر کی مانند توحید پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اگر کسی نے اللہ کے بجائے کسی اور کی عبادت کی یا اس نے اللہ کی صفات میں کسی اور کو شریک کیا تو اس نے شرک کیا اور اللہ تعالی شرک کبھی معاف نہیں کرے گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ کسی انسان کو کسی دوسرے انسان کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانا چاہیے۔ اسے اگر کچھ چاہیے تو صرف اللہ سے مانگنا چاہیے کسی انسان سے نہیں۔

اس کے بعد ہم نے یو ٹیوب پر ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو دنگ رہ جانا پڑا۔ انھوں نے پاکستان کےPRIME TV کو کئی قسطوں میں انٹرویو دیا ہے اوراپنے بارے میں اور اسلام کے بارے میں بتایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک غریب گھر میں پیدا ہوئے تھے۔ ان سے پہلے ان کے تین بھائی آٹھ آٹھ سال کی عمر تک پہنچ کر فوت ہو گئے تھے۔ یہ چوتھے نمبر پر پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش کے بعد ان کی والدہ نے کہا کہ یہ سرزمین میرے بچوں کے لیے سازگار نہیں ہے لہٰذا وہ کابل سے ممبئی چلی آئیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے والد ایک مولانا تھے۔ ان کا نام مولوی عبد الرحمن تھا۔ ان لوگوں نے بقول ان کے ممبئی کے سب سے گندے علاقے کماٹی پورہ میں قیام کیا۔ وہیں انھوں نے اپنی تعلیم جاری رکھی۔ حالانکہ مفلوک الحالی کی وجہ سے اس کی گنجائش نہیں تھی۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے والد بچوں کو عربی پڑھاتے تھے۔ جس سے بمشکل گزارہ ہوتا تھا۔ اس موقع پر انھوں نے علما کے تئیں اپنی عقیدت کا اظہار کیا اور کہا کہ ”لوگوں کو علما کی قدر نہیں ہے۔ لوگ طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آج مولوی صاحب نے حلوہ مانگا ہے۔ آج ان کے پیٹ کو حلوے کی ضرورت ہے۔ کیا کبھی کسی نے کسی مولوی کے گھر میں جھانک کر دیکھا کہ وہ اپنے بچوں کا پیٹ کیسے پالتا ہے۔ لوگوں کو اس کی توفیق ہی نہیں ہوتی“۔ بہر حال انھوں نے یہ بھی بتایا کہ جب وہ فلمی دنیا میں چلے گئے تو ایک روز انھوں نے اپنے والد سے پوچھا کہ ابا آپ نے مجھے فلمی دنیا میں جانے سے روکا کیوں نہیں۔ تو ان کے ابا نے کہا کہ میں کہتا تو تم رک جاتے۔ قادر خان نے کہا کہ ہاں آپ کہتے تو میں رک جاتا۔ اس پر ان کے والد نے کہا کہ تم مجبوری میں رکتے۔ اگر کوئی شخص کسی کے کہنے پر برائی سے رکتا ہے تو اللہ کے نزدیک اس کی اتنی قدر نہیں ہے جتنی اس کی ہے کہ انسان از خود برائی سے رک جائے۔ قادر خان بتاتے ہیں کہ بعد میں ان کے والد ہالینڈ چلے گئے جہاں وہ اسلامی تعلیم دیتے رہے۔ ان کے ہاتھ پر بے شمار لوگ مسلمان ہوئے۔

بہر حال قادر خان نے فلموں کے لیے کہانی لکھنی شروع کر دی۔ ایک روز ڈائرکٹر من موہن دیسائی نے ان سے پوچھا کہ تمھیں ایک کہانی کے کتنے پیسے ملتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پچیس ہزار روپے۔ اس پر انھوں نے اظہار حیرت کرتے ہوئے کہا کہ پچیس ہزار؟۔ تم کہانی کار ہو یا حجام۔ میں تمھیں ایک لاکھ روپے دوں گا۔ خیر انھوں نے وہاں کام کرنا شروع کر دیا لیکن بقول ان کے انھوں نے پڑھائی کا سلسلہ بند نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ حیدرآباد میں رہ کر پانچ سال تک میں نے کہانیاں لکھیں اور یہ بات کسی کو نہیں معلوم کہ میں نے خاموشی کے ساتھ اپنی پڑھائی بھی جاری رکھی اور عثمانیہ یونیورسٹی سے عربی سے ایم اے کر لیا۔
وہ بتاتے ہیں کہ اس کے بعد انھوں نے ایک نوجوان عالم کو بلایا اور ان سے اسلامی کتابیں منگائیں تو انھیں پتا چلا کہ اسلامی کتابیں کالج اور اسکول کے اسٹینڈرڈ کی نہیں ہیں۔ پھر میں نے اسلامی کتابوں کی گائڈ لکھنی شروع کی تاکہ اگر کوئی لڑکا از خود اسلام کے بارے میں جاننا چاہے تو اس کے لیے کتابیں فراہم رہیں۔ انھیں اس بات کا بڑا قلق تھا کہ لوگ قرآن کو سمجھتے نہیں۔ اسی لیے وہ چاہتے تھے کہ اپنی زندگی کی آخری سانس تک وہ لوگوں کو قرآن پڑھائیں۔ انھوں نے قرآن پڑھانے کا ایک فارمولہ بنایا کہ پہلے بیس اسٹوڈنٹس کا ایک بیچ ہوگا۔ اس کو تعلیم دی جائے گی۔ وہ دوسرے بیس طلبا کو تعلیم دے گیااور اس طرح قرآن پڑھنے والوں کا سلسلہ بڑھتا چلا جائے گا۔ ان کے مطابق اگر ایسا ہو جائے تو چند سالوں میں پوری دنیا میں ہمارے دین کا بول بالا ہو جائے گا۔ بعد میں وہ اپنے بچوں کے ساتھ کناڈا چلے گئے جہاں ان کے بیٹے رہتے ہیں اور شاید وہاں انھوں نے یہ سلسلہ شروع کیا تھا۔ تاہم اس کی ہم تصدیق نہیں کر سکے ہیں۔

انھوں نے مسلمانوں کی زبوں حالی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ دنیا آج کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے لیکن مسلمان کہیں جاتا ہے تو دنیا اس کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ مسلمان بہت بوکھلایا ہوا ہے۔ در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔ وہ بڑی دردمندی سے کہتے ہیں کہ ”لوگ کہتے ہیں کہ دنیا میں جتنے فسادات ہوتے ہیں جو خون خرابہ ہوتا ہے اس کے ذمہ دار صرف اور صرف مسلمان ہیں۔ چند ہزار لوگ ہیں جو یہ سب کرتے ہیں لیکن کسی میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ جا کر پوچھے کہ بھائی یہ تم کیوں کرتے ہو۔ تم جو خون خرابہ کرتے ہو اور بہت سے لوگ مرتے ہیں اور ان کے خون کے چھینٹے کروڑوں مسلمانوں کے دامن کو داغدار کر جاتے ہیں۔ مسلمان اربوں کی تعداد میں ہیں لیکن اکٹھا نہیں ہیں اور وقت کے ساحل پر ریت کے ذروں کی مانند ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہیں۔ کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جو ان ذرات کو ایک ساتھ باندھ کر چٹان بنا دے۔ قسم خدا کی اگر مسلمان ایک ہو جائیں تو ایک چٹان کھڑی ہو سکتی ہے۔ مگر کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ دنیا کا قانون اس کے ساتھ جو چاہتا ہے سلوک کرتا ہے۔ اس کے ساتھ جس کا جو دل چاہے ویسے برتاو¿ کرتا ہے“۔ وہ کہتے ہیں کہ اس حالت کو سدھارنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ مسلمان تنہائی میں بیٹھ کر خود سے سوال کرے کہ میں کون ہوں۔ میں کس خاندان سے تعلق رکھتا ہوں۔ میرا لیڈر اور سربراہ کون ہے۔ اگر مسلمان اپنے آپ سے یہ سوال کرے تو اس کا دل یہ جواب دے گا کہ تمھارا لیڈر، تمھارا سربراہ اللہ تعالی ہے۔ جس نے انسانوں کو صحیح راستہ دکھانے کے لیے اور امن و امان پھیلانے کے لیے اور بھٹکے ہوئے لوگوں کو صحیح راستے پر لانے کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر دنیا میں بھیجے۔ اس خاندان سے مسلمان کا تعلق ہے۔ لیکن آج جو ہمارے رہنما اور سربراہ بنتے ہیں اس پیغام کو عام نہیں کر رہے ہیں جو اللہ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے دنیا میں بھیجا ہے۔ ایسے خاندان سے مسلمان تعلق رکھتا ہے۔ پھر بھی ڈر رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اسی موضوع پر ایک کتاب مرتب کی ہے ”اسلامی خاندان“۔ یہ ان مسلمان بھائیوں کے لیے ہے جو اسلام کو بھلا چکے ہیں۔

قادر خان نے اسلامی تعلیمات کے فروغ کے سلسلے میں اہم خدمات انجام دی ہیں۔ ان کے والد مولانا عبد الرحمن عربی زبان اور اسلامی لٹریچر میں پوسٹ گریجویٹ تھے۔ انھوں نے ہالینڈ جانے کے بعد وہاں اسلامی تعلیمات کے فروغ کے لیے ایک انسٹی ٹیوٹ کھولا تھا۔ انھوں نے یہ کہہ کر قادر خان سے اس میدان میں کام کرنے کو کہا کہ اسلامی تعلیمات کا موضوع کافی اہم اور دلچسپ ہے۔ قادر خان نے اپنے والد کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے ابتدائی تعلیم سے لے کر ایم اے تک کے اسلامی نصاب کا کورس تیار کرنے کے لیے ایک ٹیم بنائی۔ ان کا کہنا تھا کہ قرآن میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ انسانیت کی بھلائی کے لیے ہے اور کوئی بھی انسان اس پر عمل کرکے اپنی زندگی بہتر بنا سکتا ہے۔ ان کے مطابق قرآن دوسرے امور کے علاوہ قانون کی بھی ایک کتاب ہے۔ اس میں زندگی گزارنے کا طریقہ اور نصب العین پیش کیا گیا ہے۔

قادر خان نے اس بارے میں اےک مرکز پہلے دبئی میں اور اس کے بعد ممبئی اور پھر کناڈا میں کھولا۔ انھوں نے اسلام کو صحیح انداز میں پیش کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ انھوں نے 2003 میں دبئی میں پہلا ”کے کے انسٹی ٹیوٹ برائے اسلامی تعلیمات“ کھولا۔ ان کے مرکز میں کوئی فیس نہیں لی جاتی تھی۔ پہلے تین ماہ کی عملی تربیت دی جاتی تھی۔ اس کے بعد چھ ماہ کے کورس میں عربی، گرامر، عبادت، حدیث، تاریخ اسلام ،صحابہ کرام اور بزرگان دین کے بارے میں پڑھایا جاتا تھا۔ تیسرے مرحلے میں تفسیر اور چاروں ائمہ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی روشنی میں تربیت دی جاتی تھی۔ عربی زبان پڑھانے کے لیے چھ ماہ کا کورس مرتب کیا گیا تھا۔ ممبئی میں ان کے مرکز میں کئی ندوی علما بھی کام کر چکے ہیں۔ لیکن اب یہ نہیں معلوم کہ وہ مراکز اب بھی ہیں یا ختم کر دیے گئے۔

ٹی وی چینل کو دیے گئے قادر خان کے انٹرویو سے یہ اندازہ ہوا کہ انھوں نے اسلامیات کا بہت گہرا مطالعہ کیا تھا اور فلمی اداکاری اپنی جگہ پر، لیکن انھوں نے اپنی زندگی میں اسلامی اقدار کو اتارا تھا۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے بیٹوں کے جو بیانات آئے ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ قادر خان نے اپنی اولاد کو بھی اسلامی تعلیم سے مزین کیا ہے۔ ان کی آخری تصاویر میں ان کے چہرے پر خوبصورت داڑھی نظر آتی ہے۔ کاش انھوں نے اپنی صلاحیتوں کو اسلام کی تبلیغ میں پوری طرح استعمال کیا ہوتا تو شاید وہ کوئی اور بڑا کام کر گئے ہوتے۔ تاہم انھوں نے اسلام کی تبلیغ کے لیے جو بھی کام کیے ہیں ان کو دیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ اس سے استفادہ کر سکیں۔
ٓsanjumdelhi@gmail.com

Read all Latest ek khabar ek nazar news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from ek khabar ek nazar and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Life lessons from kader khan in Urdu | In Category: ایک خبر ایک نظر Ek khabar ek nazar Urdu News
Tags:
What do you think? Write Your Comment