ابن صفی کی 90ویں سالگرہ پر ادبی دنیا کا خراج عقیدت

 اسرار ناروی کے نام سے معروف شاعر سے ابن صفی سے جاسوسی ناولوں کے مصنف سے شہرت پانے والے ہندوستا ن کے شہر الہٰ آباد میں پیدئش سے جوانی اور پاکستان کے شہر کراچی میں بوڑھاپا آنے سے پہلے ہی موت میں آغوش میں جانے تک کی 52سالہ مسافت طے کرنے والے اسرار احمد کا آج ادبی دنیا میں 10کم صد سالہ یوم پیدائش منایا جا رہا ہے۔ یہ وہ اسرار احمد ہیں جنہوں نے ابتدائے حیات میںشاعری میں دھوم مچائی لیکن اسے پیشہ نہ بنا کر اپنے کئی ”عشاق“ کو نہ صرف ناراض کر دیا بلکہ انہوں نے اپنے اسرار ناروی کو ابن صفی کے طور پر قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔

اور اگر کوئی ابن صفی نام لے کر ان کا ذکعر بھی کرتا تھا تو تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے معلوم کیا جاتا تھا کون ابن صفی؟ ہم تو ان سے واقف نہیں ہیں۔ اور جب ان لوگوں کو باقاعدہ سمجھایا جاتا تھا کہ بھئی وہی الہٰ آاباد والا اسرار احمدتو فوراً جواب ملتا تھا ارے اسے توہم اسرارا ناروی کے نام سے جانتے ہیں۔ہمیں کیا معلوم کہ وہ اب ابن صفی ہوگیا ہے۔

خیر یہ تو برسبیل تذکرہ آگیا اصل بات تو یہ ہے کہ یہ وہ اسرار احمد ہے جس نے اردو ادب کے میں نظم کے شعبہ میں رومانی و انقلابی شعر کہہ کر بڑے برے شعراءکی محفل میں اپنے وجود کا احساس دلایا تو وہیں نثر میں افسانوں سے رومانیت اور مضامین اور مختصر کہانیوں میںطنز و مزاح اورجاسوسی ناولوں میں نہایت سنجیدہ جملوں(کرنل فریدی)سے مزاحیہ مکالموں (کیپٹن حمید اور عمران سریز میں علی عمران کی جوزف و قاسم سے نوک جھونک)کے خوبصورت اور برجستہ استعمال سے کم عمری میں ہی اس دور کے شہرہ آفاق اردو مصنفین میں نمایاں مقام حاصل کر کے اپنا نام زباں زد عام کر لیا۔

ابن صفی 26 جولائی 1928 کو الہ آباد، اتر پردیش کے ایک گاؤں نارا میں صفی اللہ اور نذیرا (نضیراء ) بی بی کے گھر پیدا ہوئے۔ اردو زبان کے شاعر نوح ناروی رشتے میں ابن صفی کے ماموں لگتے تھے۔ ابن صفی کا اصل نام اسرار احمد تھا۔تقسیم ہند کے وقت ان کے والد پاکستان چلے گئے تھے اور ٹھیک پانچ سال بعد اگست 1952میں ابن صفی اپنی والدہ اور بہن کے ہمراہ پاکستان آ گئے جہاں انہوں نے کراچی کے علاقے لالو کھیت کے سی ون میں 1953 سے 1958 تک رہائش اختیار کی اور پھر ناظم آباد منتقل ہو گئے۔انہوں نے ابتدائی تعلیم نارا کے پرائمری اسکول میں حاصل کی۔ میٹرک ڈی اے وی اسکول الہ آباد سے کیا جبکہ انٹرمیڈیٹ کی تعلیم الہٰ آباد کے ایوننگ کرسچن کالج سے مکمل کی۔ 1947 میں الہ آباد یونیورسٹی میں بی اے میں داخلہ لیا۔

اسی اثنا میں برصغیر میں تقسیم کے ہنگامے شروع ہو گئے۔ ہنگامے ٹھنڈے ہوئے تو تعلیم کا ایک سال ضائع ہوچکا تھا لہذا بی اے کی ڈگری جامعہ آگرہ سے یہ شرط پوری کرنے پر ملی کہ امیدوار کا عرصہ دو برس کا تدریسی تجربہ ہو۔الہٰ آاباد کے اسلامیہ اسکول اور بعد میں یادگار حسینی اسکول میں استاد کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے بعد ابن صفی نے خوفناک عمارت کے عنوان سے عمران سیریز کا پہلا ناول لکھا اور علی عمران کے کردار کو راتوں رات مقبولیت حاصل ہوگئی۔ابن صفی کس حد تک عباس حسینی سے دلی وابستگی رکھتے تھے، اس کا اندازہ اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے ۔”پھر جب میری صحتیابی کی خبریں اخباروں میں چھپنے لگیں تو یار لوگوں نے شوشہ چھوڑا کہ میرے اور عباس حسینی صاحب کے تعلقات خراب ہو گئے ہیں۔ اب ہندوستانمیں میری کتابیں ان کے ادارے سے شائع نہیں ہوں گی۔ ان بے چاروں کو یہ نہیں معلوم کہ ایک درجن کتابیں تو میں عباس حسینی کی مسکراہٹ پر قربان کر سکتا ہوں (بشرطیکہ کسی بات پر جھینپ کر مسکرائے ہوں)۔ 1948 میں عباس حسینی نے ماہنامہ نکہت کا آغاز کیا۔

شعبہ نثر کے نگران ابن سعید (پروفیسر مجاور حسین رضوی) تھے جبکہ ابن صفی شعبہ شاعری کے نگران مقرر ہوئے۔ رفتہ رفتہ وہ مختلف قلمی ناموں سے طنز و مزاح اور مختصر کہانیاں لکھنے لگے۔ ان قلمی ناموں میں طغرل فرغان اور سنکی سولجر جیسے اچھوتے نام شامل تھے۔ سن 1948 میں نکہت میں ان کی پہلی کہانی فرار شائع ہوئی۔واضح ہو کہ عباس حسینی کی ملکیت میں الہ آباد کے نکہت پبلیکیشنز کے تحت ہندوستان میں ابن صفی کے ناولوں کی اشاعت عمل میں آتی تھی۔

عباس حسینی نے کانپور سے ابن صفی کے کرداروں پر جعلی ناشروں کے خلاف زبردست مہم بھی چلائی تھی۔ان کی 90ویں سالگرہ کے موقع پر انہیں ان کے شایان شان انہی الفاظ سے خراج عقیدت پیش کیا جاسکتاہے کہ ابن صفی بلاشبہ اردو کا سب سے بڑا اور منفرد جاسوسی ناول نگار تھا اور اس کی تحریروں میں ایسا جادو ہے کہ 50 سال قبل لکھے گئے ناولوں کو جب آج بھی کوئی پڑھتا ہے تو وہ اس میں اتنا منہمک ہو جاتا ہے کہ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوجاتا ہے اورناول کو ایک ہی نشست میں ختم کرکے ہی چھوڑتا ہے۔

Read all Latest personalities news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from personalities and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Ibne safi the master craftsman in Urdu | In Category: شخصیات‎ Personalities Urdu News

Leave a Reply