عرب سائنسداں ابن الہیثم نے الحاکم کے دور خلافت میں پاگل ہونے کا ڈھونگ کرکے جان بچائی تھی

یوں تو سائنسی تاریخ عرب مسلم سائنسدانوں، فلسفیوں،محققین اور مختلف علوم پر زبردست عبور رکھنے والے دانشوروں سے اٹی پڑی ہے لیکن جو حیثیت اور اہمیت عراق نژاد سائنسداں ابن الہثیم کو حاصل ہے وہ کسی اور کو حاصل نہیںہے۔ بتلینوس، ا فلاطون، ارسطو ، سقراط،زینون الرواقیہ،پٹولمی ، بانیتیوس، ایمیڈوکلیز،ارشمیدس ،اسحاق نیوٹن،کارل مارکس،پلاتو اورابوابن سینا جیسی قبل مسیح اور عیسوی دور میںدنیائے فلسفہ، سائنس و تحقیق ،اجرام فلکی و علم مائعات و ریاضی کی عظیم اور جلیل المرتبت شخصیات میں ان کو کئی امور میں ان تمام شخصیات سے کہیں زیادہ آگے سمجھا جاتا ہے۔

ابو الہثیم عراق کے شہر بصرہ میں خلافت عباسیہ کے دور میں 965عیسوی میں پیدا ہوئے۔اس دور میں مسلم معاشرے میںجذبہ حصول تعلیم اور سیکھنے و جدت کاری کے ماحول نے ابتدائے عمر سے ہی ان میں حصول تعلیم کا زبردست ذوق و شوق پیدا کر دیا۔انہوں نے اپنے پیشرو سائنسدانوں میں بہت سو ں کے افکار و نظریات کو قبول نہیں کیا اور ایسا نہیں کہ اسے بلا تحقیق یا ثبوت ہی مسترد کر دیا بلکہ اس کے ایسے ثبوت پیش کیے کہ ایک دنیا کو ابن الہثیم کے افکار و نظریات کو تسلیم کرنا پڑا۔وہ بصرہ کے گورنر بھی رہ چکے ہیں۔ لیکن اس دوران بھی انہوں نے سائنس اور دیگر موضوعا ت پر تجربات جاری رکھے۔ریاضی، طبیعیات، طب، اِلٰہیّات، منطق، شاعری، موسیقی اور علم الکلام ان کے پسندیدہ موضوعات تھے۔اور انہوں نے اپنے تمام مشاہدات و تحقیقی کام کو قلمبند بھی کیا تاکہ رہتی دنیا تک وہ ہر نسل اور ہر دور کے کام آتا رہے۔بصرہ میں ان کے دور میئر شپ میں پڑوسی ملک مصر میں خلافت عباسیہ کی حریف خلافت فاطمیہ کے خلیفہ الحاکم نے یہ سنا کہ مصر کے مئیر کا کہنا ہے کہ اگر دریائے نیل عراق میں ہوتا تو میں ایسا کام کرتا جس سے دریامیں پانی کی زیادتی اور کمی دونوں صورتوں میں فائدہ ہوتا۔اور نیل کے پانی کو 12مہینے آبپاشی کے لیے دستیاب کرا سکتے تھے۔

الحاکم نے جو تضادات کا مرکب تھا، انہیں تحفے تحائف و کافی مال و اسباب بھیج کرمصر آنے کی دعوت دی۔ ابن الہثیم نے اسے قبول کر لیا اور مصر چلے آئے۔جہاں الحاکم نے انہیں دریائے نیل کا معائنہ کر کے ان کی تجویز کو عملی جامہ پہنانے کو کہا۔ لیکن جب انہوں نے معائنہ کیا تو انہیں اندازہوا کہ اس دور کی تکنالوجی ایسی نہیں ہے کہ ان کی تجویز پر عمل آوری ہو سکے ۔صورت حال بڑی پیچیدہ ہو گئی۔ الحاکم کے بارے میں معلوم تھا کہ وہ نہایت مغلوب الغضب ہے اورکبھی کبھی خلاف مرضی کوئی بات ہونے پر اس پرجنون طاری ہوجاتاہے۔ یہ سوچ کو ابن الہثیم تھرا اٹھے اور انہوں نے الحاکم سے بھی بڑا پاگل ہونے کی اداکاری کرنے میں ہی عافیت جانی۔اس ترکیب سے وہ گردن زدنی سے بچ گئے۔لیکن قا ہرہ میں ہی انہیں خانہ نظر بند کر دیا گیا۔10سال بعد الحاکم کے انتقال کے ساتھ ہی ان کی یہ خانہ نظر بندی ختم ہوئی۔لیکن اس عظیم سائنسداں کے لیے یہ دس سال نعمت غیر مترقبہ اور آنے والی نسل خاص طور پر سائنس کی دنیا سے تعلق رکھنے والوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوئے ۔کیونکہ اس دوران انہوںنے بڑے غور و فکر اور تحقیق کے بعد بصارت کے حوالے سے ایک نئی بات پیش کر کے اپنے پیش رو یانانی سائنسدانوں کی تحقیق کو باطل کر دیا۔ انہوں نے اس دوران اپنی تصنیف “کتاب المناظر” س میں افلاطون اور کئی دوسرے ماہرین کے اس خیال کو غلط ثابت کیا کہ آنکھ سے روشنی نکل کر اشیا پر پڑتی ہے۔

انہوں نے ثابت کیا کہ روشنی ہماری آنکھ میں داخل ہوتی ہے تو ہم دیکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی بات ثابت کرنے کے لیے ریاضی کا سہارا لیا جو اس سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔ابن الہیثم نے روشنی، انعکاس اور انعطاف کے عمل اور شعاؤں کے مشاہدے سے کہا کہ زمین کی فضا کی بلندی ایک سو کلومیٹر ہے۔ان کی یہ تصنیف کتاب بصریات کی دنیا میں ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ ابن الہیثم نے بطلیموس کے نظریات قبول نہیں کیے، بلکہ انہوں نے بطلیموس کے روشنی کے حوالے سے بہت سارے نظریات کی مخالفت کی اور انہیں رد کر دیا، ان کی روشنی کے حوالے سے دریافتیں جدید سائنس کی بنیاد بنیں، مثال کے طور پر بطلیموس کا نظریہ تھا کہ دیکھنا تب ہی ممکن ہوتا ہے جب شعاع آنکھ سے کسی جسم سے ٹکراتی ہے، بعد کے سائنسدانوں نے اس نظریہ کو من وعن قبول کیا، مگر ابن الہیثم نے کتاب المناظر میں اس نظریہ کی دھجیاں بکھیر دیں۔ . انہوں نے ثابت کیا کہ معاملہ اس کے بالکل بر عکس ہے اور شعاع آنکھ سے نہیں بلکہ کسی جسم سے دیکھنے والے کی آنکھ سے ٹکراتی ہے۔ابن الہیثم نے روشنی کا انعکاس اور روشنی کا انعطاف یعنی مڑنا دریافت کیا، انہوں نے نظر کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے عدسوں کا استعمال کیا۔ . ان کی سب سے اہم دریافتوں میں آنکھ کی مکمل تشریح بھی ہے۔

انہوں نے آنکھ کے ہر حصہ کے کام کو پوری تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے جس میں آج کی جدید سائنس بھی رتی برابر تبدیلی نہیں کرسکی۔ابن الہیثم نے آنکھ کا ایک دھوکا یا وہم بھی دریافت کیا جس میں مخصوص حالات میں نزدیک کی چیز دور اور دور کی چیز نزدیک نظر آتی ہے۔اس نے نظر کی کرنوں کا قدیم مفروضہ غلط ثابت کر کے ثابت کیا کہ جب روشنی کسی جسم پر پڑتی ہے تو کچھ کرنیں پلٹ کر فضا میں پھیل جاتی ہیں۔ ان میں شے بعض شعاعیں دیکھنے والے کی آنکھ میں داخل ہو جاتی ہیں جس سے وہ شے نظر آتی ہے۔روشنی کے بارے میں ابو علی حسن ابن الہیثم کا کہنا ہے کہ: ”نور ہمیشہ خط مستقیم (سیدھا راستہ) میں سفر کرتا ہے، اس کے لیے ذریعے یا واسطے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، بلکہ یہ بغیر سہارے کے سفر کرتا ہے۔ روشنی ہی کے سلسلے میں ابن الہیثم نے ایک اور تجربہ کیا اور اس تجربے کی بنیاد پر دوسرے سائنسدانوں نے فوٹو کیمرا کا ایجاد کیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ”اگر کسی تاریک کمرے میں دیوار کے اوپر والے حصے سے ایک باریک سوراخ کے ذریعہ سورج کی روشنی گزاری جائے تو اس کے بالمقابل اگر پردہ لگا دیا جائے تو اس پر جن جن اشیاء کا عکس پڑے گا، وہ الٹا ہوگا۔ ‘کشش ثقل کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے اس کی تھیوری سب سے پہلے ابن ہیثم نے ہی پیش کی تھی۔ جبکہ عام خیال یہ ہے کہ کشش ثقل کا انکشاف اسحاق نیوٹن نے کیا تھا۔لیکن یہ بات بہرحال اپنی جگہ مسلم ہے کہ جس طرح سیاروں کے مدارکی ابن الہیثم نے جو وضاحت کی تھی ہیثم کے بعد آنے والے متعدد ماہرین فلکیات و نجوم اور یونانی سائنسدانوں نے اسی کو بنیاد بنا کر کام کیا۔گلیلیو نے اپنی دوربین انہی کے کام سے استفادہ کرتے ہوئے بنائی۔اور اگر یہ کہاجائے کہ عصر حاضر کے سائنسداں بشمول نیوٹن، گیلیلیو،کاپرنیکس اور کیپلر ہزار سال پہلے کے ایک عرب سائنسداں کے کس قدر مقروض ہیں تو بے جا نہ ہوگا۔ کیونکہ تاریخ گوہ ہے ان سب سائنسدانوں نے ابن الہیثم کے کارناموں سے بھرپور استفادہ کیا ۔آج ان میں سے مقروض یا قرض دہندہ میں سے کوئی بھی اس دنیا میں نہیں ہے۔

(اردو تہذیب)

Read all Latest personalities news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from personalities and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: ibn al haytham arab astronomer and mathematician in Urdu | In Category: شخصیات‎  ( personalities ) Urdu News

Leave a Reply