بلھے شاہ :261عرس 26اگست سے

پنجابی صوفی شاعر بابا بلھے شاہ جن کا 261واں عرس 26اگست بروز اتوار شروع ہورہا ہے، اصل نام عبداللہ شاہ ہے اور وہ اس دور میں تولد ہوئے تھے جسے مغل سلطنت کا دور عروج ہی نہیں بلکہ سنہری اور نہایت آب و تاب والا دور کہا جاتا ہے ۔ آپؒ 1680 میں مغلیہ سلطنت کے عروج میں اوچ گیلانیاں میں پیدا ہو ئے۔

کچھ عرصہ اوچ گیلانیاں میں رہنے کے بعد قصور کے قریب پانڈومیں منتقل ہو گئے۔ ابتدائی تعلیم یہیں حاصل کی۔ قرآن ناظرہ کے علاوہ گلستان بوستان بھی پڑھی اور منطق، نحو، معانی، کنز قدوری،شرح وقایہ، سبقاءاور بحراطبواة بھی پڑھا۔ شطاریہ خیالات سے بھی مستفید ہو ئے۔ آپؒکا انتقال 1757 میں قصور میں ہوا اور یہیں تدفین عمل میں آئی ۔

مرشد کی حیثیت سے شاہ عنایت کے ساتھ ان کا جنون آمیز رشتہ ان کی مابعد الطبیعیات سے پیدا ہوا تھا۔ وہ پکے وحدت الو جودی تھے، اس لیے ہر شے کو مظہر خدا جانتے تھے۔ مرشد کے لیے انسان کامل کا درجہ رکھتے تھے۔ مصلحت اندیشی اور مطابقت پذیری کبھی بھی ان کی ذات کا حصہ نہ بن سکی۔ ظاہر پسندی پر تنقید و طنز ہمہ وقت ان کی شاعری کا پسندیدہ جزو رہی۔

ان کی شاعری میں شرع اور عشق ہمیشہ متصادم نظر آتے ہیں اور ان کی ہمدردیاں ہمیشہ عشق کے ساتھ ہوتی ہیں۔ ان کے کام میں عشق ایک ایسی زبردست قوت بن کر سامنے آتا ہے جس کے آگے شرع بند نہیں باندھ سکتی ۔بلھے شاہ مغلیہ سلطنت کے عالمگیری عہد کی روح کے خلاف رد عمل کانمایاں ترین مظہر ہیں۔

ان کا تعلق صوفیاء کے قادریہ مکتب فکر سے تھا۔ ان کی ذہنی نشوونما میں قادریہ کے علاوہ شطاریہ فکر نے بھی نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ اسی لیے ان کی شاعری کے باغیانہ فکر کی بعض بنیادی خصوصیات شطاریوں سے مستعار ہیں۔ ایک بزرگ شیخ عنایت اللہ قصوری، محمد علی رضا شطاری کے مرید تھے۔ صوفیانہ مسائل پر گہری نظر رکھتے تھے اور قادریہ سلسلے سے بھی بیعت تھے اس لیے ان کی ذات میں یہ دونوں سلسلے مل کر ایک نئی ترکیب کا موجب بنے۔

بلھے شاہ انہی شاہ عنایت کے مرید تھے۔اپنی شاعری میں وہ مذہبی ضابطوں پر ہی تنقید نہیں کرتے بلکہ ترکِ دنیا کی مذمت بھی کرتے ہیں اور محض علم کے جمع کر نے کو وبالِ جان قرار دیتے ہیں۔ علم کی مخالفت اصل میں ” علم بغیر عمل“ کی مخالفت ہے۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ بلھے شاہ کی شاعری عالمگیری عقیدہ پرستی کے خلاف رد عمل ہے۔ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ چونکہ لاقانونیت، خانہ جنگی، انتشار اور افغان طالع آزماو¿ں کی وحشیانہ مہموں میں بسر ہوا تھا، اس لیے اس کا گہرا اثر ان کے افکار پر بھی پڑا۔

ان کی شاعری میں صلح کل، انسان دوستی اور عالم گیر محبت کا جود رس ملتا ہے ،وہ اسی معروضی صورت حال کے خلاف رد عمل ہے۔ان کے کلام کا ایک نمونہ پیش خدمت ہے:
پڑھ پڑھ کتاباں علم دیاں توں نام رکھ لیا قاضی
ہتھ وچ پھڑ کے تلوار نام رکھ لیا غازی
مکے مدینے گھوم آیا تے نام رکھ لیا حاجی
او بھلیا حاصل کی کیتا؟ جے توں رب نا کیتا راضی

بلھے شاہ ؒ کے عرس کے پیش نظر جو کہ اتوار سے شروع ہو رہا ہے ،ضلع انتظامیہ نے 27اگست بروز دو شنبہ مقامی تعطیل کا اعلان کر دیا۔3روزہ عرس کے دوران مریدوں اور دیگر عقیدتمندوں کے لیے مفت کھانے (لنگر)،،نعت خوانی اور پنجابی شاعری سمیت جملہ امور کی ذمہ داری مذہبی امور سے متعلق کمیٹی ادا کرتی ہے۔ کمیٹی کے سربراہحاجی محمد صفدر کے مطابق عقیدتمندوں کے مفت قیام و طعام کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

پولس نے بھی عرس کے لیے نہایت سخت حفاظتی بندوبست کیا ہے۔ دریں اثنا ضلع انتظامیہ نے احتیاطی تدابیر کے طور پرعرس کے دوران جھولے، اونٹ گھوڑوں کی سواری اور جادوئی کرتب وغیرہ جیسی تفریح طبع سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔اس موقع پر پورے تین روز تک ان کے مزار پر عقیدت مند ان کی صوفیانہ شاعری گا کر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

Read all Latest personalities news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from personalities and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Bulleh shah an islamic philosopher and sufi poet in Urdu | In Category: شخصیات‎ Personalities Urdu News

Leave a Reply