بجلی کا قمقمہ ہو یا کوئی بلب ، تھامس ایڈیسن کی ہی دین ہے

آج آبادی کے بے تحاشہ بڑھنے کے باعث جس طرح لوگ کھلے گھروں کو بند کمروں کی شکل دے کر دن کی روشنی کے لیے بلب ،ٹیوب لائٹس ، مرکری اور بجلی بچانے والے سی ایف ایل کا بے دھڑک استعمال کر ہے ہیں اور بچہ بچہ یہ جانتا ہے کہ ان لائٹوں اور بلبوں کو کیسے جلایا بجھایا جاتا ہے۔لیکن ا سپر کبھی کوئی دھیان تک نہیں دیتا کہ یہ جو ہم مصنوعی روشنی سے استفادہ کر رہے ہیں اس کا موجد کون تھا یہ آسمان سے براہ راست اتاری گئی نعمت ہے یا خدائی تخلیق بنی نوع انساں کی ایجاد ہے۔ یہی نہیں بلکہ جس وقت کسی بھی تقریب میں خواہ وہ مذہبی اجتماع ہو یا سیاسی جلسہ یا محفل رقص و نغمہ لاؤڈ اسپیکر کا استعمال ناگزیر ہے۔اور جابجا انہیں نصب کر دیا جاتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ میلوں دور تک آواز پہنچائی جا سکے۔ تب اس وقت بھی کبھی کوئی غور کرنے کی زحمت نہیں کرتا کہ کسی شخص کی آواز کو میلوں دور تک پہنچانے کے لیے استعمال کیا جانے والا یہ آلہ آخر کہاں سے آیا۔ کس نے بنایا اور کب بنایا۔

مووی کیمرہ جس نے آج موبائیل کے اندر اپنی جگہ بنا لی ہے اور جدھر نگاہ ڈالو کوئی نہ کوئی تصویر کشی یا ویڈیو بناتا نظر آجاتا ہے لیکن کسی کو اس سے کوئی مطلب نہیں کہ جس شے کو وہ اپنی سیاحت و تفریح کو یادگار بنانے کے لیے جس شے کا استعمال کر رہے ہیں وہ کس کی دین ہے۔ انہیں یہ تو معلوم ہے کہ کہ یہ شے کس کمپنی کی بنائی ہوئی ہے۔ اور وہ اس کمپنی کو ہی اس کا خالق اور موجد سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ ان بے شمار ایجادات میں سے چند ہیں جنہیں تھامس ایڈیسن نام کے ایک ایسے امریکی نے ایجاد کیا تھا جس نے ٹرینوں ، بسوں اور سڑکوں پر گھوم گھوم کر کتابیں، چاکلیٹس ،کینڈی،سبزیاں اور اخبارات فروخت کر کے بچپن سے جوانی تک کا سفر طے کیا تھا۔اور ترقی کرتے کرتے ایک تاجر بن گیا۔لیکن سائنس سے دلچسپی نے اسے ایک تاجر سے سائنسداں اور موجد بنا دیا۔ ایڈیسن ریاست اوہایو کے ایک گاؤں میلان میں پیدا ہوا۔ والدین بہت غریب تھے۔

ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔ وہ اپنے باپ سیموئل اوگدین ایڈیسن جونیئر اور نینسی میتھیوز ایلیٹ کی ساتویں اور آخری اولاد تھا۔ اس نےبہت کم مدت تک اسکول میں تعلیم حاصل کی اور گھر پر ماں سے ہی پڑھتا رہا۔ایڈیسن کو بچپن میں ہی بہرے پن کا مرض ہو گیا تھا لیکن اس نے اسے اپنی کمزوری نہیں بننے دیا ۔کینڈی سبزیاں اور اخبارات بیچ کر اس نے کچھ پیسہ پس انداز کر لیا اور ایک چھوٹا سا پرنٹنگ پریس لگا لیا اور اپنے اخبار کی خود طباعت کرنے لگا۔ اور دیگر اخبارات کے ساتھ گرانڈ ٹرنک ہیرالڈ نام کا اخبار بھی شائع کیا۔ اس نے ایک کیمیاوی تجربہ گاہ بھی بنا رکھی تھی۔ بعد ازاں تار برقی کا کام سیکھ کر ڈاک خانے میں ملازم ہو گیا۔ یہاں اس نے آٹومیٹک ٹیلگراف کے لیے ٹرانسمیٹر ریسور ایجاد کیا۔ اس اثنا میں اور بھی کئی ایجادیں کیں جن سے اسے خاصی آمدنی ہوئی۔ اس روپے سے نیوجرسی میں ایک تجربہ گاہ اور ورکشاپ قائم کر لی۔25دسمبر1871کو24سال کی عمر میں ایڈیسن کی ایک16سالہ دوشیزہ میری اسٹیلویل سے، جس سے وہ دو ماہ پہلے ہی ملا تھا، شادی ہو گئی۔یہ اس کی ایک دکان پر ملازمت کرتی تھی۔اس سے ایڈیسن کے تین بچے میرین ایسلے، تھامس الوا اور ولیم لیزلے تولد ہوئے۔

میری 29سال کی عمر میں دماغی ٹیومر یا مورفین کی زیادہ خوراک لے لینے کے باعث انتقال کر گئی۔ تاہم ابھی تک یہ صیغہ راز ہی ہے کہ اس کی موت کا اصل سبب کیا تھا۔بیوی کے انتقال کرجانے کے بعد ایڈیسن نے لایبارٹری کو ہی اپنا سب کچھ بنا لیا اور کئی کئی دن وہ لیب سے باہر نہیںآتا تھا۔اور نت نئی اجیجادات کرتا رہتا تھا۔اس کی ایجادات میں فونو گراف(جس نے آگے چل کر گرامو فون کی شکل اختیار کی) بجلی کا قمقمہ، میگا فون، سینما مشین، وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ 1915 میں اسے نوبل پرائز ملا۔ایڈیسن بہت کثرت سے ایجادات کرنے والا سائنسداں تھا۔ امریکہ میں ان کے نام سے 1093پیٹنٹس ہیں۔ کم و بیش اتنے ہی پیٹنٹس برطانیہ، فرانس اور جرمنی میں ہیں ۔

24فروری1886کو اس نے تنہائی سے عاجز آکر اکرون میں20سالہ مینا ملر سے دوسری شادی کر لی اس وقت اس کی عمر 39سال تھی۔وہ بھی ایک موجد چاؤتاقا انسٹی ٹیوٹ کے شریک بانی لوئس ملر کی بیٹی تھی۔اس شادی سے بھی ایڈیسن کی تین اولادیں میدلین، چارلس اور تھیوڈور ملر ہوئیں۔ ان میں سے آخری اور سب سے چھوٹا بیٹاتھامس ملر ایڈیسن بھی ماہر ماحولیات اور موجد بنا۔ وہ کیلی برون انڈسٹریز کے بانی تھے۔ان کی بھی80ایجادات امریکہ میں پیٹنٹ ہیں۔دوسرا بیٹا چارلس ایڈیسن 1941سے1944تک نیو جرسی کا گورنر رہا۔پہلی بیوی سے بھی تیسرے بیٹے ولیم لیزلی ایڈیسن نے بھی کئی ایجادات کیں۔

مینا ملر کا بھی تھامس ایڈیسن کی زندگی میں ہی24اگست1947کو انتقال ہو گیا۔ایڈیسن کو اپنی کسی ایجاد کی پہلی سب سے بڑی مالی کامیابی اس وقت ملی جب اس کا کواڈرپلیکس ٹیلی گراف کی ویسٹرن یونین نے 10ہزار ڈالر کی پیش کش کی جسے ایڈیسن نے جھٹ سے قبول کر لیا کیونکہ وہ اس کے عوض5000ڈالر مانگنا بھی بہت بڑی رقم سمجھ رہا تھا۔اس دس ہزار ڈالر کی قدر آج 2لاکھ 16ہزار 300ڈالر ہے۔غرضیکہ اپنی بے شما رایجادات اور چہار سو روشنی بکھیرنے والے برقی قمقموں کا موجد18اکتوبر 1931کو ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہو کر روشنی عالم آب و گل سے محروم ہو کر عالم ارواح میں جا پہنچا ۔اور ویسٹ اورینج نیو جرسی کے لیوی لن میں ”گلین مونٹ“ کے نام سے واقع اس مکان کے عقب میں دفن کیے گئے جو مکان انہوں نے مینا ملر کو شادی کے موقع پر ہدیہ کیا تھا۔

لیکن افسوس ایڈیسن یہ الزام اپنے سر پر لے کر گئے کہ وہ ملحد تھے۔جبکہ وہ نیو یارک ٹائمز میگزین کو اپنے ایک انٹرویو میں وہ اس کی تردید کر چکے تھے۔اور کہا تھا کہ جس مضمون کی بنیاد پر انہیں ملحد اور بے دین کہا جارہا ہے اس آرٹیکل کو تنقیدی زاویہ سے پڑھا گیا جس کی وجہ سے یہ نتیجہ اخذ کر لیا گیا کہ ایڈیسن خدا کے وجود کا منکر ہے۔

(اردو تہذیب اسپیشل)

Read all Latest personalities news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from personalities and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: American inventor thomas alva edison in Urdu | In Category: شخصیات‎ Personalities Urdu News

Leave a Reply