”پردہ جو عقل پہ مردوں کی پڑگیا“ اکبر الہٰ آبادی کی 172ویں سالگرہ پر خصوصی تحریر

اردو دنیا اور برصغیر کے شعراءکی طویل فہرست کے ٹاپ ٹین میں شمار کیے جانے والے اکبر الہٰ آباد ی سے معروف شاعر اتگرپردیش کے شہر الہٰ آباد کے ، جس کانام بدل کر اب پریاگ راج کر دیا گیا ہے، ایک گاو¿ں میں16نومبر1846کو پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سیداکبر حسین رضوی اور تخلص اکبر تھا ۔ ابتدائی تعلیم سرکاری مدارس میں پائی اور محکمہ تعمیرات میں ملازم ہو گئے۔

1869 میں مختاری کا امتحان پاس کرکے نائب تحصیلدار ہوئے۔ 1870 میں ہائی کورٹ کی مسل خوانی کی جگہ ملی۔ 1872 میں وکالت کا امتحان پاس کیا۔ 1880 تک وکالت کرتے رہے۔ پھر مجسٹریٹ کے طور پر تقرر ہوا ۔

1894 میں عدالت خفیفہ کے جج ہو گئے۔ 1898 میں خان بہادر کا خطاب ملا ۔ انہوں نے جنگ آزادی ہند 1857 ، پہلی جنگ عظیم اور گاندھی کی امن تحریک کا ابتدائی حصہ دیکھا تھا۔ابتدا میں حیدرعلی آتش سے اصلاح لی۔

پھر اپنا الگ رنگ پیدا کیا۔ ان کی شہرت ظرافت آمیز اور طنزیہ اشعار پر مبنی ہے۔ مشرقیت کے دلدادہ اور مغربی تہذیب کی کورانہ تقلید کے سخت خلاف تھے۔ مغرب زدہ طبقے کو طنز و مزاح کی چٹکیاں لے کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرتے تھے۔ کلام میں مس، سید، اونٹ، کالج، گانے، کلیسا، برہمن، جمن، بدھو میاں مخصوص اصطلاحیں اور علامتیں ہیں۔

مخزن لاہور نے انھیں لسان العصر خطاب دیا۔ مب دور جدید سے وہبہت نالاں تھے یہی وجہ ہے کہ بے پردگی کا شکوہ کہیں پر نگاہ ہے کہیںپر نشانہ کے مترادف کچھ اس طرح کیا کہ ان کو بے پردہ گھومنے کی اجازت دینے والے باپ، بھائی اور شوہر کو بھی ہدف تنقید بنا ڈالا۔وہ شعریہ متھا۔

بے پردہ نظر ائیں مجھے چند بیبیاں اکبر، زمیں میں غیرتِ قومی سے گڑگیا
پوچھا جوان سے آپ کا پردہ کدھر گیا کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا

یوںتو اکبر کے کلام کو متعدد گلو کاروں نے اپنی آواز دی لیکن پاکستانی شہرہ آفاق گلوکار غلام نبی کی آواز میں ”ہنگامہ ہے کیوں برپا “ نے غزل گوئی کی دنیا میں واقعتاً ہنگامہ برپا کر دیا۔ان کے مجموعہ کلام سے کچھ غزلیں ملاحظہ فرمائیں۔
۔۔۔۔۔
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے

نا تجربہ کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیں
اس رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے

اس مے سے نہیں مطلب دل جس سے ہے بیگانہ
مقصود ہے اس مے سے دل ہی میں جو کھنچتی ہے

اے شوق وہی مے پی اے ہوش ذرا سو جا
مہمان نظر اس دم ایک برق تجلی ہے

واں دل میں کہ صدمے دو یاں جی میں کہ سب سہہ لو
ان کا بھی عجب دل ہے میرا بھی عجب جی ہے

ہر ذرہ چمکتا ہے انوار الٰہی سے
ہر سانس یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خدا بھی ہے

سورج میں لگے دھبا فطرت کے کرشمے ہیں
بت ہم کو کہیں کافر اللہ کی مرضی ہے

تعلیم کا شور ایسا تہذیب کا غل اتنا
برکت جو نہیں ہوتی نیت کی خرابی ہے

سچ کہتے ہیں شیخ اکبر ہے طاعت حق لازم
ہاں ترک مے و شاہد یہ ان کی بزرگی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے
ارمان مرے دل کے نکلنے نہیں دیتے

خاطر سے تری یاد کو ٹلنے نہیں دیتے
سچ ہے کہ ہمیں دل کو سنبھلنے نہیں دیتے

کس ناز سے کہتے ہیں وہ جھنجھلا کے شب وصل
تم تو ہمیں کروٹ بھی بدلنے نہیں دیتے

پروانوں نے فانوس کو دیکھا تو یہ بولے
کیوں ہم کو جلاتے ہو کہ جلنے نہیں دیتے

حیران ہوں کس طرح کروں عرض تمنا
دشمن کو تو پہلو سے وہ ٹلنے نہیں دیتے

دل وہ ہے کہ فریاد سے لبریز ہے ہر وقت
ہم وہ ہیں کہ کچھ منہ سے نکلنے نہیں دیتے

گرمءمحبت میں وہ ہیں آہ سے مانع
پنکھا نفس سرد کا جھلنے نہیں دیتے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دل مرا جس سے بہلتا کوئی ایسا نہ ملا
بت کے بندے ملے اللہ کا بندا نہ ملا

بزم یاراں سے پھری باد بہاری مایوس
ایک سر بھی اسے آمادہ سودا نہ ملا

گل کے خواہاں تو نظر آئے بہت عطر فروش
طالب زمزم بلبل شیدا نہ ملا

واہ کیا راہ دکھائی ہے ہمیں مرشد نے
کر دیا کعبے کو گم اور کلیسا نہ ملا

رنگ چہرے کا تو کالج نے بھی رکھا قائم
رنگ باطن میں مگر باپ سے بیٹا نہ ملا

سید اٹھے جو گزٹ لے کے تو لاکھوں لائے
شیخ قرآن دکھاتے پھرے پیسا نہ ملا

ہوشیاروں میں تو اک اک سے سوا ہیں اکبر
مجھ کو دیوانوں میں لیکن کوئی تجھ سا نہ ملا

Read all Latest personalities news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from personalities and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Akbar allahbadi 172th birthday in Urdu | In Category: شخصیات‎ Personalities Urdu News
What do you think? Write Your Comment