آسیب زدہ سیاست کااگلاشکارکون؟

سمیع اللہ ملک،لندن
پچھلے تین مہینوں سے زائدپاناماکے غیرروایتی آسیب نے ملکی سیاست کواپنے قبضے میں ایسے جکڑرکھاہے کہ ایک قدم آگے کوجاتاہے تودوقدم پیچھے کواٹھتے نظرآتے ہیں۔ماہ جولائی پھر اسی 70اور90 کی دہائی کی سیاست کااشارہ دینے والاہے۔اپریل سے اٹھنے والا پانامالیکس کامعاملہ سلجھنے کی بجائے الجھتاہی جارہاہے۔وزیراعظم کے قوم سے یکے بعد دیگرے دوخطابات اورپارلیمنٹ میں تقریرکے بعدبھی بگاڑکی رفتارنے ذراسست ہونے کاتاثردیالیکن پھرمعاملہ تیزی پکڑگیا۔اس دوران میاں صاحب بغرضِ علاج48دنوں کیلئے برطانیہ چلے گئے مگران کی غیرموجودگی میں ٹی اوآرزکوحتمی شکل دینے والی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی آٹھ مرتبہ کی بیٹھک کے بعدبھی عملاً ناکام نظرآتی ہے۔اپوزیشن جماعتیں حکومت پربے لچک رویہ کاالزام لگاکراس کمیٹی سے کنارہ کش ہونے کی عندیہ دے رہی ہے ۔کمیٹی کے اجلاسوں میں دونوں جانب سے اپنے اپنے مو¿قف کے حق میں دلائل رکھنا درست مگرکمیٹی سے باہربعض وفاقی وزاراءکے تلخ بیانات اورلہجہ بھی معاملات کوخوش اسلوبی سے طے نہ کرنے کاسبب بن رہاہے۔اب نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ ٹی اوآرکمیٹی کے بارے میں پی ٹی آئی کلی طورپرمایوسی کااظہارکرکے 20جولائی کوسڑکوں پرآنے کے پروگرام کااعلان کرنے والی ہے جبکہ پی پی پی بھی جن اقدامات کی طرف مائل ہے وہ مایوسی کا اظہار ہے لیکن اب وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈاردوبارہ اس معاملے پرگفت وشنیدکیلئے پی پی پی سے مذاکرات میں کسی پیش رفت کیلئے کوشاں ہیں۔
اسی پانامالیکس کوبنیادبناتے ہوئے پہلے پی ٹی آئی کی سابق صوبائی سیکرٹری اورمیاں نوازشریف کے مقابل قومی اسمبلی کی نشست پرشکست کھانے والی ڈاکٹریاسمین شاہدنے لولے لنگڑے الیکشن کمیشن میں وزیراعظم کے خلاف ایک ریفرنس دائرکیااوربعدازاں پی پی کے سیکرٹری جنرل لطیف کھوسہ نے بھی ایساہی ایک ریفرنس وزیراعظم کے خلاف الیکشن کمیشن میں فائل کردیاہے۔لطیف کھوسہ کے توسط سے فائل کئے گئے اس ریفرنس میں بنیادی طورپرآئین کے آرٹیکلز62اور63کاسہارالیاگیاہے کہ میاں نوازشریف نے 1985سے لے کر2013کے درمیان جب بھی الیکشن میں حصہ لیا،اوراپنے اثاثوں کے بارے میں نیامو¿قف پیش کیا،گویاایک الیکشن کمیشن کیلئے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی میں پہلے والے اعدادوشمارسے ہٹ کراعدادوشمارپیش کئے گئے ۔ان کایہ بھی کہناہے کہ وزیراعظم کے اثاثوں کے حوالے سے بعدازاں ان کی پارٹی یاخاندان میں سے جس کسی نے بھی کوئی مو¿قف اختیارکیاوہ باہم متصادم ہے۔اس لیے میاں نوازشریف دیانت کے معیارپرپورے نہیں اترسکے لہنداان کے خلاف آئین کی مذکورہ بالادونوں دفعات کے تحت کاروائی عمل میں لائی جائے اورانہیں وزارتِ عظمیٰ کے ا علیٰ ترین منصب اورقومی اسمبلی کی نشست سے الگ کیاجائے۔
کیاپاکستان کی پارلیمنٹ میں موجودحضرات،سابق ارکان پارلیمنٹ یاآنے کیلئے پرتولنے والے قائدین آئین کی انہی دودفعات کے تحت اپنے جائزے اوراحتساب کیلئے خودکو پیش کرناخوشی خوشی قبول کرسکتے ہیں اورکیاوہ اس امرکے متحمل ہوسکتے ہیں۔یقینااس کاجواب ہاں میں قریب قریب ناممکن ہے لیکن پھربھی پی پی کی قیادت نے یہ رسک لیاہے تو اس کے سواکچھ اورمقصودنہیں ہوسکتاکہ حکومت کودباو¿ میں لایا جائے۔اسی اعلیٰ اورارفع مقصدکی خاطرپی ٹی آئی کی ڈاکٹریاسمین نے اپنی قیادت کے حکم کی تعمیل کی ہے اورتقریباً ایک ماہ کی تیاری کے بعد اپنے وکلاءکی مددسے انہوں نے بھی الیکشن کمیشن سے یہ جانتے بوجھتے استدعاکی ہے کہ انہیں اوران کی پارٹی کوپوری طرح اندازہ ہے کہ الیکشن کمیشن جس کا اپنا بنیادی ڈھانچہ بھی مکمل نہیں ہے اورجس کے ہاں اس سے کم اہمیت کے یاادنیٰ معاملات التواءمیں ہیں،وہ وزیراعظم کی نااہلی کافیصلہ کیونکرکرسکے گا،اگرچہ ابھی یہ مسئلہ بحث طلب ہے کہ الیکشن مکمل ہونے کی صورت میں بھی الیکشن کمیشن سے براہِ راست اس مقصدکیلئے رجوع کیاجاسکتاہے یاالیکشن کمیشن اس بارے میںفیصلے کامجازہے بھی یانہیں لیکن چونکہ مقصدوزیراعظم کی اس راستے میں نااہلی ممکن بنانے سے زیادہ حکومت کوسیاسی اعتبارسے دباو¿میں لاناہے اس لئے اپوزیشن کی دونوں بڑی اورنسبتاًزیادہ متحرک جماعتوں سے مل کریہ راستہ اختیارکرلیاہے کہ وہ سڑکوں پرآنے کیلئے بے چین ہیں۔
حکومت کودباو¿میں لانے کیلئے اپوزیشن کی جماعتیں اس سے بھی اگلے اقدامات کرنے کیلئے پرتول رہی ہیں بلکہ پورازورلگانے کی کوشش میں جماعت اسلامی راولپنڈی میں ایک پیدل مارچ کااعلان کرچکی ہے،اس سے پہلے ٹرین مارچ اورکرپشن کے خلاف اس کی لمبی مہم جاری تھی ۔پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اپنی جماعت کوماہ جولائی میں سڑکوں پر لانے کیلئے تیاری کی ہدا یت اور20جولائی کواپنااگلالائحہ عمل جاری کرنے کااعلان بھی کرچکے ہیں۔پنجاب اسمبلی میںقائدحزبِ اختلاف محمودالرشیدکوانہوں نے ماہِ رمضان کے آغازسے پہلے ہی ایک ملاقات میں کہہ دیاتھاکہ اپنی جماعت کے تمام ارکانِ اسمبلی کوبتادیں جوبھی اہم کام کرنے ہوں جولائی سے پہلے پہلے کرلیں۔اپنی جماعت کوبھی اسی نوعیت کی ہدایات دینے کے علاوہ بے بانگ دہل سڑکوں پرآنے کی بات کرتے رہتے ہیں،یہاں تک کہ پیپلزپارٹی کے بلاول زرداری جس کے والد”زرداری،کرپشن کی سب سے بڑی بیماری“کہہ کرمخاطب کرتے تھے،اب اس کے ساتھ ایک ہی کنٹینرپرچڑھنے کوتیار نظرآتے ہیں۔پی ٹی آئی کے ذرائع کاکہناہے کہ اگرچہ احتجاجی ریلیوں کارخ اس باربھی اسلام آباد ہوگالیکن احتجاج کامرکزلاہورکوبنایاجائے گاتاکہ مسلم لیگ (نواز)کے گڑھ میں اسے چیلنج کیا جائے اورحکومتی اعصاب کوشل کیاجاسکے۔
پی پی جس نے تقریباًپونے تین سال پورے مفاہمتی جذبے کے ساتھ نوازشریف کاساتھ دیامگراب مفاہمتی سیاست کے مقابلے میں نسبتاًجارحانہ موڈمیں ہے۔اس کے اہم رہنما اب عام طورپریہ کہتے سنے جاتے ہیںکہ وزیراعظم کے جانے کامطلب قطعاًجمہوریت کاجانانہیں ہے،اس لئے اگرپانامالیکس کی وجہ سے وزیراعظم کی چھٹی ہوتی ہے تویہ غلط نہ ہوگا۔کرپشن کے الزامات میں سرتاپاڈوبی رہنے والی پیپلزپارٹی کیلئے اس سے اچھاموقع شائدہی کوئی ہے کہ پانامالیکس کے کھاتے میں نوازحکومت کے درپے ہوکرکرپشن کلچر کو اکیلی اپنی شناخت ہونے کاازالہ کرے،ماضی کی اپنی سب سے بڑی شاخ پنجاب پیپلزپارٹی کے تن مردہ میں جان ڈالنے کاامکان پیداکرنے کیلئے مسلم لیگ کی حکومت کوچیلنج کرے اوراپنی نئی قیادت یعنی بلاول زرداری کی ایک قومی رہنماءکے طورپرلانچنگ کاموقع فراہم کرسکے،شائداسی وجہ سے پیپلزپارٹی نے پی ٹی آئی کے معاملات سے آنکھیں بندکر رکھی ہیںاوراپنی حکومت مخالف سیاسی عزائم کی تکمیل کیلئے پیپلزپارٹی کے خلاف لگائے جانے والے کرپشن الزامات کے بارے میں پی ٹی آئی نے بھی اپنی زبان بندکررکھی ہے۔ پی پی کا
مسلم لیگی حکومت سے جارحانہ موڈ میں ڈیل کرنااوروہ بھی ایسے وقت جب وزیراعظم کوعلالت سے ہونے والے اضمحلال سے زیادہ ان کی حکومت ضعف اورکمزوری کاشکارہورہی ہے جوپیپلزپارٹی کیلئے سنہری موقع سے کم نہیں ہے۔انتشارکایہی منظرملکی خارجہ پالیسی کی سطح پردیکھنے کوملتارہتاہے اورملک کے اندرونی معاملات کے حوالے سے بھی ۔
پانامالیکس کے بعدحکومت کی پوزیشن جہاں سیاست اورپارلیمنٹ میں متاثرہوئی اورعوامی سطح پراس کی ساکھ پرمنفی اثرپڑنے کاخطرہ پیداہواہے خصوصاًمیڈیامیں پانامالیکس کے ایشوزکے زیربحث آتے رہنے اورمہنگائی کے جن کے ہاتھوں عوام کے بے بس ہوتے چلے جانے نے بھی حکومت کیلئے عوامی محبت میں کمی کی ہے۔حالات کے اس بگاڑمیں عوام کو دالوں کی بجائے مرغی کھانے کے مضحکہ خیزمشورے دیکراسحاق ڈارایسے غیرسیاسی حکومتی زعماءنے بھی اپناخوب حصہ ڈالاہے۔حکومتی وزاراءکے آپس کے تعلقات کی مسلسل خرابی ، بطور سیاسی جماعت مسلم لیگ نوازکاغیرفعال ہوکررہ جانااورعوام کے ساتھ وزاراءاوراسمبلی کامیل جول کمترہوکررہ جانے سے اورترقیاتی منصوبوں کے ایک اندازکے غالب رہنے سے بھی عوامی سوچ پراثراندازہونے میں اپوزیشن کی آسانی بڑھتی رہی ہے۔
حکومت کایہ ضعف ہرسطح پرجھلک رہاہے۔ملک کے اندرگورننس کے مسائل ہیں،کہیں ادارہ جاتی شیرازہ بکھرانظرآتاہے،کہیں حکومت کی اپنی پالیسی کے تحت ہی اداروں کوکمزوررکھا گیاہے۔الیکشن کمیشن ،اوگرانامکمل پڑے ہیں۔ایف آئی اے کے سربراہ کی اپنے وزیرکے ساتھ ”نہیں“کی بحثیں شروع ہو جاتی ہیں۔اس میں سب سے اہم مثال سول حکومت اورفوج کے اہم ادارے کی ہے کہ تین سال کاعرصہ گزرنے کوہے لیکن معاملات ایسے ہی رہے جیسے ایک بے جوڑشادی ہو ۔فریقین عملاً صفائیاں پیش کرتے رہے اوردوسروں کویہی بتانے کی کوشش کرتے رہے کہ وہ دونوں ایک ہی صفحے پرہیںلیکن سوفیصدایسانہیں ہے۔ایسے میں مسلم لیگ نوازحالیہ دنوں میں کرائے گئے سرویزنے مسلم لیگ کویہ اعتماددے دیا ہے کہ اگلاالیکشن بھی مسلم لیگ کاہی ہوگا۔اس منظرنامے میں حکومت کے مخالفین سڑکوں پرآنے کوبے چین نظرآتے ہیں ۔یہ درست ہے کہ حکومت کے مخالفین ابھی باہم شیروشکر نہیں ہیںلیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے درمیان مشترکہ ایجنڈاتشکیل پانے کاعمل تیزترہورہاہے۔
وزیراعظم کے علاج کیلئے لندن جانے سے ایک رائے یہ بنی کہ حکومت کوکچھ ہمدردی کاماحول میسرآگیا،اپوزیشن جماعتوں کوبیماری کی وجہ سے کچھ دنوں کیلئے اپنالہجہ نرم کرناپڑالیکن یہ رائے بھی اپنی جگہ نظراندازکیے جانے کی نہیںکہ وزیراعظم کے بیرونِ ملک ہونے کی وجہ سے بعض نئے مسائل بھی سراٹھانے کے قابل ہوگئے۔وزیراعظم کی مٹھی میں بندسمجھی جانے والی جماعت کے وفاقی وزراءکی سطح پردراڑیں اس دوران مزیدبڑھی ہیں،حتیٰ کہ ارکان ِ پارلیمنٹ نے وفاقی وزاراءاوروزیراعظم کے سب سے زیادہ معتمدوزیرخزانہ کے بارے میں کھل کرایک گروپ سابن کرابھرا،جسے اب آکرمریم نوازنے دلاسہ دیاہے لیکن یہ دلاسہ کتنابھی مو¿ثرہو،دیہی پس منظررکھنے والے ارکانِ قومی اسمبلی نے غیررسمی طوپرحکومتی پالیسیوں کے خلاف غم وغصے کااظہارکردیاہے ۔یوں جیسے جیسے ملک میں سیاسی تناو¿ بڑھانے میں اپوزیشن اپناکرداراداکررہی ہے،یہ سوال بھی اٹھناشروع ہوگیاتھاکہ عید
کے بعدمیاں نوازشریف آئیںگے یاتبدیلی؟
میاں صاحب جب اڑتالیس دنوں کے بعد ملک میں واپس لوٹے ہیں تو مسائل اورچیلنج کی لمبی قطارنے ان کااستقبال کیااوراان مسائل میں ایک اہم مسئلہ خودشریف خاندان کے اندر پہلی محبت وہم آہنگی میں کمی کی علامات پربھی باتیں ہونے لگی ہیں۔یہ پہلاموقع ہے کہ میاں نوازشریف کی طرف سے وفاقی حکومت کے معاملات میں اسحاق ڈاراوراپنی صاحبزادی مریم کوزیادہ اہمیت دینے کااہتمام نظرآیاہے۔اس کوشش میں یہ محسوس ہوتاہے کہ ایک غیرمرئی طریقے سے میاں نوزشریف نے اپنے انتہائی محنتی بھائی شہبازشریف کو اپنے دائرے تک محدودرکھنے کی کوشش کی ہے،خصوصاً اپنے بھتیجے حمزہ شہبازکو۔ حمزہ کے مقابلے میں مریم کوغیراعلانیہ سیاسی جانشین کے طورپراگرخودنوازشریف نے کوشش نہیں کی تو کم ازکم ان کے معتمدساتھیوں اورمشیران نے اس کابندوبست ضرورکیاہے ۔اس سے میاں نوازشریف کی سیاسی پوزیشن اپنے خاندان میں ہی متاثرہوسکتی ہے خصوصاً ایسے ماحول میں جب نواز شریف کی صحت کے بارے میں ابھی بہت سے خدشات موجودرہیں،شہبازشریف کاکردارصوبے تک محدودہونے سے بھی پارٹی پرگرفت میں مسائل کااندیشہ ہے ۔
یادرہے کہ وزیراعظم کی ملک میں عدم موجودگی کے دوران پاک چین اقتصادی راہداری کے بارے میں حکومتی اندازاس رفتاراورتوجہ کاحامل نہیں رہ سکاجتنی کہ ماہِ نومبرسے پہلے پہلے اس کے تکمیلی مرحلے میں اسے داخل کرناضروری ہے۔حکومت کے ناقدین اسے حکومت اورفوج کے درمیان خارجہ پالیسی کے حوالے سے سوچ میں فرق کے تناظرمیں بھی دیکھ رہے ہیں۔اس میں میاں نوازشریف سے قربت کاتاثردینے والی مودی سرکاردوستی کابھی بہت حوالے دیئے جارہے ہیں لیکن مقبوضہ کشمیرمیںبرہان وانی کی شہادت پرنوازشریف کی طرف سے بھارتی درندگی کی مذمت کرنے کے بعدبھارتی پریس بری طرح تلملااٹھاہے جس سے اپوزیشن کی طرف سے پھیلائے گئے شکوک وشبہات کے غبارے سے فی الحال ہوانکل گئی ہے۔امریکاسے خاندانی اعتبارسے قریب ترہونے کاتاثررکھنے والے وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی کی امریکامیں قربت اورمبینہ قرابت داریوں کابوجھ بھی کسی اورپرنہیں حکومت پرہی آئے گاکہ امریکی کانگرس کی ایک کمیٹی نے پاکستان کی ہرقسم کی مددروکنے کی پرزور سفارش کی ہے۔یہ ساراایندھن اچھے اشاروں کا امکان نہیں دکھاتاہے جبکہ عبدالستارایدھی کی رحلت نے بھی مسلم لیگ نواز کی طرف سے اپنے لیڈرنوازشریف کے پرجوش استقبال کی تیاریوںکے پروگرام کوبھی کافی متاثرکیاہے جس سے مسلم لیگ کواپنی سیاسی طاقت کے مظاہرے کاموقع نہ مل سکااوراپوزیشن ہرآنے والے دن میں مقابلے کی مکمل تیاریوں میں مصروف ہے لیکن یہاں ایک اہم سوال ہے کہ پاک فوج کے سربراہ جنہوں نے اس ساری صورتحال پرخاموشی اختیارکررکھی ہے ۔کراچی میں بدامنی کے حالیہ واقعات کے بعدپاک چین اقتصادی راہداری کیلئے اپنے عزم کے حوالے سے کب تک اس احتجاج اورشورکے ماحول میں چپ سادھے رکھیں گے،انہیں تونومبرسے پہلے اقتصادی راہداری مکمل کرنے کے علاوہ ملک میںامن کاخواب بھی شرمندہ¿ تعبیرکرناہے۔دہشتگردوں کے سہولت کاروں اورمالی مددگاروں پرہاتھ ڈالنے کے ساتھ ساتھ کرپشن کی بھی بیخ کنی کرناہے۔دیکھیں اب آئندہ دنوں میں کس کاچاندروشن ہوتاہے اور کون آسیب زدہ سیاست کی نذرہوتاہے۔
رابطے کے لیے :bittertruth313@gmail.com

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Who will be next victim of dirty politics in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News

Leave a Reply