پاکستان میں شیعہ طبقہ خوف کے عالم میں جی رہا ہے

ابو احمراجمل

یوں تو پاکستان میں شیعہ سنی کشیدگی ہمیشہ ہی رہی ہے لیکن جب سے پاکستان کے سابق فوجی حکمراں جنرل ضیاءالحق نے سرکاری طور پر ملک کو اسلامی رنگ (خالصتاً سنی) میں ڈھالنا شروع کیا تو اسی وقت سے پاکستان کے سنیوں اور شیعوں میں کشیدگی کچھ اتنی زیادہ بڑھ گئی کہ اس نے سلکی تشدد کی شکل اختیار کر لی۔اور پاکستانی سنیوں کا وہ طبقہ جو احمدیوں کی ہی طرح شیعوں کو بھی دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہے سینہ چوڑا کر کے چلنے لگا اور سیاں ہمارے کوتوال ہم کو ڈر کاہے کا کے مصداق شیعوں کے خلاف جونفرت سینہ بہ سینہ ہی رہا کرتی تھی صدر ضیاءالحق کی شیعہ مخالف پالیسیوں کے باعث اس نفرت کا کھل کر عملی طور پر اظہار کیا جانے لگا ۔
ویسے بھی اہل سنت اور اہل تشیع کے اختلاف کی تاریخ بہت پرانی ہے لیکن اس نے کبھی مسلکی تشد د کی شکل اختیار نہیںکی تھی جو آج بڑھتے بڑھتے مسلکی دہشت گردی کا رخ اختیار کرگئی ہے۔حالانکہ ہر پاکستانی کو بلا لحاظ فرقہ و مسلک شیعوں کا ممنون و شکر گذار ہونا چاہیے کہ ان کو ایک الگ اور آزاد ملک دلا کر بانی پاکستان اور قائد اعظم کا لقب پانے والا محمد علی جناح نام کا شخص ایک شیعہ ہی تھا۔ اور یہی ملک کے پہلا گورنر جنرل بھی بنا ۔یہی نہیں بلکہ قیام پاکستان کے بعد سے ذوالفقار علی بھٹو تک پاکستان کے زیادہ تر رہنما شیعہ رہے ۔ تین وزراءاعظم بشمول ذوالفقار علی بھٹو اور نصرت بھٹو شیعہ تھے۔ ملک کے دو فوجی سربراہ جنرل اسکندر مرزا اور جنرل یحییٰ خان شیعہ تھے۔1971میں جب ذوالفقار علی بھٹو بر سر اقتدار آئے تو ان کے دور میں پوری دنیا میں پاکستان کو واقعتاً ایک طاقت کے طور پر دیکھا جانے اور تسلیم کیا جانے لگا ۔لیکن اس کے باوجود پاکستان کی ایک سنی مسلم ملک کی حیثیت برقرار رہی۔
نہ شیعوں نے اپنے فرقہ کا حکمراں ہونے کا فائدہ اٹھاکر پاکستان کی سنی اکثریت کو ،جو کہ نسلی،علاقائی اور طبقاتی عصبیت میں مبتلا تھی اور جس کا فائدہ اٹھا کر شیعہ قوم اپنی جڑیں مضبوط کر کے اپنا مستقبل مامون و محفوظ کر سکتی تھی ،کبھی نشا نہ نہیں بنایا ۔ لیکن سنی رہنماؤں کو پھر بھی یہ گوارا نہیں تھاکہ شیعہ قوم کا کوئی شخص ان پر حکمرانی کرے۔ آخر کار ایک اسی سنی جنرل نے جسے اس وقت کے شیعہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے1976میں فوج کے سربراہ ہونے کا اعزاز بخشا تھا اسی کو چند ماہ بعد ہی معزول کر کے خود عنان حکومت سنبھال لی۔اور اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ایک سیاستداں کے قتل کے الزام میں مقدمہ سرعت کے ساتھ چلا کر تختہ دار پر بھی چڑھا دیا۔
بادی النظر میں یہی کہا جاسکتا تھا کہ در اصل جنرل ضیاءنے سنی انتہاپسندوں کے دباؤ میں یہ قدم اٹھایا تھا تاکہ شیعہ حکمرانی کا جڑ سے خاتمہ ہو جائے ۔لیکن کسے معلوم تھا کہ 11سال بعد 1988میںبے نظیر بھٹو کی شکل میں ایک اور شیعہ وزیر اعظم کی ملک پر حکمرانی ہوگی۔لیکن چونکہ ضیاءالحق کے دور میں مذہبی عدم رواداری کافی پھل پھول گئی تھی اس لیے بے نظیر بھٹو بھی وزیر اعظم بننے کے دوسال بعد ہی عدم رواداری کا شکار بن گئیں اور غلام اسحاق خان نے سنی انتہاپسندوں کے دباؤ میں بے نظیر پر کرپشن اور اقربا پروری کا الزام لگا کر معزول کر دیا۔
اور دوبارہ انتخابات ہوئے تو ایک بار پھر ملک میں شیعہ وزیر اعظم کے طور پر بے نظیر کی واپسی نہ ہونے دینے اور انتہا پسند سنی جماعت اسلامی جمہوری اتحاد کے بر سر اقتدار آنے کو یقینی بنانے کے لیے خفیہ ایجنسیوں نے1990کے پارلیمانی انتخابات میں دھاندلی کی اور ملک کو شیعہ وزیر اعظم سے بچا کر سنی انتہاپسندوں کو خوش کر دیا۔لیکن1993کے عام انتخابات میں بے نظیر کو اقتدار میں آنے سے کوئی نہیں روک سکا۔لیکن سنی انتہاپسند نچلے نہیں بیٹھے اور انہوں نے ایک بار پھر سازش کر کے اس وقت کے صدر فاروق لغاری کی مدد سے بے نظیر کو پھر معزول کر دیا۔بے نظیر کو جان کا خطرہ تک محسوس ہونے لگا کیونکہ سنی انتہاپسند گروہوں نے بے نظیر ایسی آخری شیعہ شخصیت نظر آرہی تھی جس قلع قمع نہ کیا گیا تو ایک بار ملک پر کوئی شیعہ وزیر اعظم لاد دیا جائے گا۔
اس لیے بے نظیر نے خود جلا وطنی میں ہی عافیت جانی اور دوبئی ہجرت کر گئیں۔ آخر2007میں وہ پھر پاکستان واپس آئیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کو دوبارہ زندہ کر کے پارلیمانی انتخابات کی تیاری شروع کر دی۔لیکن اس بار سنی انتہاپسندوں کو جنرل پرویز مشرف کی شکل میں ان کا پسندیدہ سنی فوجی حکمراں دستیاب تھا۔اسی حکمراں کے دور میں بے نظیر بھٹو کو انتہاپسند مسلم تنظیموں القاعدہ اور پاکستان طالبان نے خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کی مدد سے شہید کر دیا۔
حیرت کی بات ہے کہ جب ذوالفقار علی بھٹو کو تو ایک سنی صدر نے عدالت عظمیٰ سے سزائے موت کو معاف کر کے عمر قید میں بدل دیے جانے کے باوجود محض ایک سیاستداںکے قتل کیس میں پھانسی چڑھوا دیا۔لیکن ان کی بیٹی بے نظیر کے قتل کے ذمہ دارقرار دیے جانے والے اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرفسمیت تمام ملزم آزاد گھوم رہے ہیں کیونکہ وہ سنی ہیں اور مقتول وزیر اعظم شیعہ تھیں۔ اس کے بعد توجوں جوں دن گذرتے گئے شیعوں کے خلاف سنی انتہاپسند تنظیموں کے مظالم بڑھنا شروع ہو گئے ۔
اب لیڈروں سے منھ موڑ کر سنی انتہاپسند تنظیموں نے شیعہ عوام کو نشانہ بنا نا شروع کر دیا۔جنرل ضیاءالحق نے سنی انتہاپسندی کا جو بیج بویا تھا وہ تناور درخت بن گیا۔اور سنی انتہاپسند تنظیموںنے محرم کا مہینہ شیعوںکے لیے مہینہ مظالم بنا دیا۔عاشورے کے جلوسوں میں سنی خود کش بمبار وں کے ذریعہ بیک وقت درجنوں شیعوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اور شاید یہ طے کر لای گیا ہے کہ شیعوں کے خلاف اس وقت تک اس قسم کے حملے کیے جاتے رہیں گے جب تک کہ پاکستان سے ان کا نام و نشان نہ مٹ جائے۔یہ پاکستانی نہیں معلوم کیوں ہندوستانی سنیوں اور اہل تشیع میل جول کو مثال بناتے۔
ایک دنیا اس بات سے واقف ہے کہ ہندوستان میں بھی شیعہ کی کثیر آبادی ہے لیکن شیعہ سنی ملک کے ہر حصے میں شیر و شکر ہیں۔ ایک دور تھا جب کچھ مقامات خاص طور سے اترپردیش کے لکھنؤ سے شیعہ سنی تشدد کی اکا دکا خبریں آتی تھیں لیکن وہ بھی اب قصہ پارینہ بن چکی ہیں۔

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Violance against shia muslims in pakistan in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News

Leave a Reply