چابہار بندرگاہ معاہدہ سے پاکستان کی سالمیت کے لیے خطرہ :دفاعی ماہرین

اسلام آباد:دو سابق دفاعی سکریٹریوں نے اس امر پر زور دیا ہے کہ چا بہار بندرگاہ سے افغانستان کو جوڑنے کے لیے ایران ۔ہندستان اور افغانستان جو تجارتی راستہ بنا رہے ہیں اس سے پاکستان کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہے۔
ایران، افغانستان اور ہندوستان کے رہنماو¿ں کے درمیان تجارتی راہداری کے لیے ہونے والے معاہدہ پر دستخط کے ایک ہفتہ بعد سابق دفاعی سکریٹریوں ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل آصف یٰسین ملک اور ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل ندیم لودھی کا تبصرہ کرنا فوجی حلقوں میں قائم کی گئی رائے کی عکاسی کرتا ہے ۔کیونکہ پاکستانی فوج کو چابہار بندرگاہ اور تجارتی راستے پر گہرے شک و شبہات ہیں۔ان دونوں دفاعی سکریٹریوں کا اصرار تھا کہ پڑوس میں ایک مضبوط بلاک کے قیام سے پاکستان کے کے لیے بدشگونی اور دو رس پیچیدگیوں کا باعث ہے۔
انہوں نے اس صورت حال کا ذمہ دار ایک غیر متحرک خارجہ دفتر اور ہمہ وقتی وزیر خارجہ نہ ہونے کو ٹہرایا۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ تین ملکی بلاک علاقائی اقتصادی یکجہتی، اندرون ملک امن کی بحالی اور پر امن سرحدوں کے لیے پاکستان کے منصوبوں پر اثر انداز ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دوستوں کی مدد، سفارتی مساعی اور سخت مزاحمت کر کے گھیرنے والے اس عمل کو روکنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ان تینوں ملکوں میں سے ایران ضرور ہماری سنے گا۔

Title: trade route linking chabahar port with afghanistan a security threat | In Category: پاکستان  ( pakistan )

Leave a Reply