صرف دہشت گردوں کے ہی نہیں دہشت گردی کے حمایتیوں کے خلاف بھی کارروائی کی ضرورت:راج ناتھ سنگھ

اسلام آباد:پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سارک (جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون تنظیم) ممالک کے وزرا ئے داخلہ کے اجلاس میں مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ دہشت گردی پر لگام لگانے کے لئے صرف دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کرنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لئے ان تنظیموں، افراد اور ممالک کے خلاف بھی کارروائی کرنے کی ضرورت ہے جو دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں۔
سارک کانفرنس کی کارروائی نشر کرنے کی اجازت صرف پاکستان کے قومی چینل پی ٹی وی کو تھی، ہندوستانی میڈیا کو بھی کوریج کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ پی ٹی وی نے اپنی نشریات میں مسٹر سنگھ کی تقریر نشر نہیں کی۔ مانا جا رہا ہے کہ سارک کانفرنس میں مسٹر سنگھ کی تقریر سے مایوس نواز شریف حکومت نے فوری طور پر ان کی تقریر کو پاکستان میں نشر کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ کانفرنس میں شامل ہونے کے لئے کل یہاں پہنچے مسٹر سنگھ نے کہا کہ دہشت گردی صرف دہشت گردی ہے۔ کوئی بھی دہشت گردی اچھی یا بری نہیں ہوتی ہے۔
دہشت گردوں کو شہید کہہ کر ان کی ستائش نہیں کی جانی چاہئے۔ مسٹر سنگھ کا یہ تبصرہ اس تناظر میں زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ گذشتہ8 جولائی کو جموں کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں مارے گئے دہشت گرد تنظیم حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر برہان وانی کے لئے پاکستان نے ’بلیک ڈے‘یوم سیاہ کا اعلان کیا تھا۔
وزیر داخلہ مسٹرراج ناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ صرف دہشت گردی کی مذمت کرنا ہی کافی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو دہشت گردوں کی حمایت کر رہے ہیں، ان کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں، انہیں بھی دہشت گردوں کو مدد فراہم کرنے والوں کے ساتھ ہی الگ تھلگ کرنے کی ضرورت ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ مسٹر سنگھ کی تقریر کے بعد پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے ہفت روزہ پریس بریفنگ میں ایک مرتبہ پھر ہندوستانی فوج کے خلاف بیان جاری کیا۔
مسٹر زکریا نے ہندوستانی فوج پر الزام لگایا کہ وہ کشمیر میں ظلم کر رہی ہے، جس میں متعدد کشمیری شہید ہو گئے ہیں اور فوج کی طرف سے پیلٹ گن استعمال کرنے سے متعدد لوگوں نے آنکھوں کی روشنی گنوا دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام حق خود مختاری کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ پاکستان کے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے بھی مسٹر سنگھ کی تقریر پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادی کی لڑائی اور دہشت گردی دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ انہوں نے بھی کشمیر میں جاری جدوجہد کے لئے ہندوستان پر الزامات عائد کئے۔
کشمیر میں جاری تشدد کے درمیان پاکستان کی بیان بازی اور بین الاقوامی پلیٹ فارم پر کشمیر کا راگ الاپنے کی اس کی کوششوں سے خفا ہندوستان نے ہمیشہ سے کہا ہے کہ کشمیر اس کا اندرونی مسئلہ ہے۔ مسٹر شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان کشمیری شہریوں کو سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت کرتا رہے گا اور پاکستان کے لوگ اس دن کا انتظار کر رہے ہیں، جب کشمیر اس کا حصہ ہوگا۔
دہشت گرد برہان وانی کو ہیرو کہتے ہوئے مسٹر شریف نے وانی کے لئے تعریف کے پل باندھتے ہوئے کہا تھا کہ وہ شہید ہے اور اس کی حمایت میں ‘ یوم سیاہ’کا اعلان کیا تھا۔مسٹر شریف نے کل پاکستان سفیروں کی کانفرنس میں کہا کہ وہ ہر جگہ یہ پیغام عام کریں کہ کشمیر ہندوستان کا اندرونی مسئلہ نہیں ہے۔ واضح رہے کہ پنجاب میں پٹھان کوٹ فوجی ایئر بیس پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں آئی تلخی اور برہان وانی کے مارے جانے کے بعد یہ مزید بڑھ گئی ہے۔
ہندوستان اور پاکستان کے رشتوں کی کڑواہٹ سارک کانفرنس میں اس وقت صاف نظر آ رہی تھی جب مسٹر سنگھ اور پاکستان کے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان آج پہلی بار ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوئے لیکن گرم جوشی سے ہاتھ نہیں ملایا اور ایسا محسوس ہو رہا تھاکہ دونوں محج رسم دنیا نبھانے کو مصافحہ کر ہے ہیں۔

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: There should be no glorification of terrorists as martyrs rajnath singh in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News

Leave a Reply