کوئٹہ میں پولیس اکیڈمی پر دہشت گردوں کا حملہ سیکڑوں پولس اہلکارہلاک و زخمی

کوئٹہ : کوئٹہ کے سریاب روڈ پر واقع پولس ٹریننگ کالج پر دہشت گردانہ حملے میں کم از کم 60 پولیس اہلکار ہلاک اور 120 زخمی ہوگئے جبکہ فورسز کی جانب سے جوابی کارروائی میں 3 دہشت گرد مارےگئے۔ جن میں سے دو دہشت گرد خود بمبار تھے جنہوں نے خود کو دھماکے سے اڑایا جبکہ تیسرا دہشت گرد سیکورٹی فورسز کی جوابہی کارروائی میں مارا گیا۔ انسپکٹر جنرل فرنٹیئرکور (ایف سی) میجر جنرل شیرافگن نے آپریشن کی تکمیل کے بعد وزیرداخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی کے ساتھ پریس کانفرنس میں تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ خود کش جیکٹوں اور بھاری اسلحہ سے لیس کئی دہشت گرد اکیڈمی میں گھس گئے اور اندھا دھند فائرنگ اور دھماکے کرنا شروع کر دیے۔ اس اچانک حملے سے وہاں موجود700کیڈٹوں میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی اور وہ جان بچانے کے لیے ادھر ادھر چھپنے لگے۔
یہ تمام کیڈٹ15تا 25سال عمر کے تھے۔ اس حملے کو اس سال کے نہایت ہلاکت ترین دہشت گردانہ حملوں میں سے ایک بتایا جاتا ہے۔ مسٹر شیرافگن کا کہنا تھا کہ حملہ آور دہشت گرد افغانستان میں اپنے ساتھیوں سے مسلسل رابطے میں تھے۔ آئی جی ایف سی کا کہنا تھا کہ ’حملے میں 3 دہشت گرد شامل تھے جنھوں نے خود کش جیکٹ پہن رکھی تھی اور دو نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جبکہ تیسرے کو آپریشن کے دوران ہلاک کردیا گیا‘۔ ان کا کہنا تھا ہم نے فوری آپریشن شروع کیا اور آپریشن کو مکمل کرنے میں چار گھنٹے لگے۔ سرفرازبگٹی کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے سب سے پہلے چیک پوسٹ پر موجود سنتری کو نشانہ بنایا جو موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا جس کے بعد دہشت گرد ٹریننگ کالج میں داخل ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان کئی گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق حملے کے دوران کم سے کم تین دھماکے سنے گئے جبکہ وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں بھی آتی رہیں۔ پولیس سینٹر میں موجود کیڈٹس کو اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کمانڈوز نے ریسکیو آپریشن کرکے کالج سے باہر نکالا۔ ریسکیو آپریشن کے دوران دو فوجی ہیلی کاپٹرز فضائی معاونت بھی فراہم کرتے رہے۔ پولیس کے مطابق ٹریننگ کالج کے ہاسٹل میں 600 کیڈٹس زیر تعلیم تھے جسے سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن کے بعد کلیئر قرار دے دیا۔ پولیس حکام کا کہنا تھا کہ 4 سے زائد حملہ آور ٹریننگ کالج کے پچھلے راستے سے عمارت میں داخل ہوئے تھے جن کے خلاف فوج، ایف سی اور پولیس کمانڈوز کی جانب سے آپریشن کیا گیا اور 250 سے زائد کیڈٹس کو بازیاب کرا لیا گیا۔ وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے 200 زیر تربیت اہلکاروں کو بازیاب کرانے کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ آپریشن میں اب تک دو حملہ آور بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔
مزید کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے ہسپتالوں کے باہر سیکیورٹی کے غیرمعمولی اقدامات کئے گئے ہیں بالخصوص 8 اگست کو دہشت گردوں کی جانب سے سول ہسپتال کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اس طرح کی صورت حال سے بچنے کے لیے خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں۔ 20 سے زائد زخمی کیڈٹس کو سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا جبکہ شدید زخمیوں کو سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کیا گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایف سی، فوج اور پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر ٹریننگ کالج اور اس کے اطراف کے علاقوں کو گھیرے میں لے لیا۔ ادھر صوبائی حکام کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد کوئٹہ کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرکے عملے کو فوری طور پر طلب کرلیا گیا ہے۔ ایک عینی شاہد نے میڈیا کو بتایا کہ 3 سے 4 دہشت گرد ٹریننگ سینٹر میں داخل ہوئے تھے اور فائرنگ شروع کردی جس کے بعد افراتفری پھیل گئی اور متعدد افراد ہاسٹل کی جانب چلے گئے۔ دہشت گردوں اور ان کے آقاؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو سے علم ہوا ہے کہ یہ حملہ انتہا پسند تنظیم لشکر جھنگوی کے العلیمی گروپ نے کیا ہے۔

Read all Latest pakistan news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from pakistan and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Suicide attacks as terrorists storm police training college in quetta in Urdu | In Category: پاکستان Pakistan Urdu News

Leave a Reply